قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١١ ١١ ١٢ ١٢
١٣ ١٣
١٤ ١٤ ١٥ ١٥
١٦ ١٦
١٧ ١٧
١٨ ١٨
١٩ ١٩
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
ﭿ ١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤ ٥ ٥
٦ ٦
٧ ٧
٨ ٨
٩ ٩ ١٠ ١٠
١١ ١١
١٢ ١٢ ١٣ ١٣
١٤ ١٤
١٥ ١٥ ١٦ ١٦
١٧ ١٧
١٨ ١٨
١٩ ١٩
٢٠ ٢٠
٢١ ٢١
ﯿ ٢٢ ٢٢
592
سورۃ الأعلى آیات 14 - 15

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ١٤ وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ ١٥

اللہ کے ذکر اور نماز سے پہلے تزکیہ کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ ان تمام اعمال کی بنیاد ہے۔اس وجہ سے کہ اگر دل پاک ہوگا تو ہدایت کی کرنوں سے منور ہوگا،اس کے فوائد کو جانیگا اوران کے حصول کے لئے خوب جدوجہد کریگا۔(ابن عاشور: ۳۰؍۲۸۸)
سوال:اللہ کے ذکر اور نماز سے پہلے تزکیہ کا ذکر کیوں کیا؟

سورۃ الأعلى آیات 0 - 16

بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ١٦

دنیاوی زندگی کو ترجیح دینے کا معنی ہے اس سے راضی اورمطمئن ہوجانا اور آخرت سے بالکلیہ منہ موڑلینا۔(الالوسی: ۱۵؍۳۲۲)
سوال:دنیاوی زندگی کو ترجیح دینے سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الغاشيہ آیات 2 - 3

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ خَٰشِعَةٌ ٢ عَامِلَةٞ نَّاصِبَةٞ ٣

(خاشعة) مراد ہے ذلیل۔اللہ تعالیٰ نے براہ راست ذلیل نہ کہتے ہوئے “جھکے ہوئے” کہا۔یہ سختی کا اسلوب ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ انہیں جب جھکنا چاہئے تھا تب تو انہوں نے ایسا نہیں کیا اور یہی حال “عمل کرنے والے“کا بھی ہے کہ انہیں جس وقت عمل کرنا چاہئے تھا تب نہیں کیا۔ (الالوسی: ۱۵؍۳۲۵)
سوال:قیامت کے دن کافروں کو (خَاشِعَةٌ)اور (عَامِلَةٌ)کی صفت سے متصف کرنے سے کیا بتانا مقصود ہے؟

سورۃ الغاشيہ آیات 0 - 10

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ ١٠

جنت کو (عالية) یعنی بلند کی صفت سے ذکر کرنے کا مقصد اس کے انتہائی حسن کا بیان ہے اس لئے کہ باغ جتنی بلند ی پر ہوگااتنا ہی خوبصورت ہوگا۔
(ابن عاشور: ۳۰؍۲۹۹)
سوال:جنت کو (عَالِيَةٍ) یعنی بلند کیوں کہا گیاہے؟

سورۃ الغاشيہ آیات 0 - 11

لَّا تَسۡمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةٗ ١١

جنت میں جو کلمات سنے جائیں گے وہ اللہ کی تعریف وتوصیف پر ہی مشتمل ہوں گے تاکہ جنتیوں کو ان کے عمدہ معانی کی لذت مل سکے او ر اس وجہ سے بھی کہ وہ دنیا والوں کی بیہودہ باتوں کو سن کر تکلیف محسوس کرتے تھے تو اس طرح ان کے دلوں سے اس تکلیف کا احساس بھی دور کردیا جائے۔(البقاعی:۲۲؍۹)
سوال:دنیا کے لغو کے عوض جنت میں کیا ملے گا؟

سورۃ الغاشيہ آیات 0 - 13

فِيهَا سُرُرٞ مَّرۡفُوعَةٞ ١٣

اور اللہ کا یہ فرمان: (فيها سرر مرفوعة):اس میں اونچے تخت ہوں گے،جنتیوں کی چارپائیاں اور تخت اونچے اونچے اس لئے ہوں گے تاکہ وہ جب ا ن پر بیٹھیں توان تمام نعمتوں اور اپنی ملکیت کو اچھی طرح دیکھ سکیں جن سے اللہ نے انہیں نوازاہوگا۔ (الطبری: ۲۴؍۳۸۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے جنت کی چارپائیاں اور تخت اونچے اونچے کیوں بنائے ہیں؟

سورۃ الغاشيہ آیات 0 - 17

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلۡإِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ ١٧

اللہ نے اونٹوں کی پیدائش پر نظر ڈالنے پر ابھارا ہے کیونکہ اس میں بہت سے تعجب خیز امور ہیں مثلاً ان كےبہت طاقتور ہونے کے باوجود کمزور انسان بھی ان پر قابو پالیتا ہے اور وہ اس کے فرمانبردار بن جاتے ہیں،سخت پیاس برداشت کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور ان میں انسانوں کے لئے بہت سے فائدے ہیں جیسے کہ ان کی سواری کرنا،ان پر بوجھ لادنا،ان کا گوشت کھانا اور ان کا دودھ اور پیشاب پینا وغیرہ۔ (ابن جُزی: ۲؍۵۶۶)
سوال:اونٹوں کی خلقت کے کچھ عجائبات ذکر کیجئے.