قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭙ ﭚ ٧١ ٧١ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ٧٢ ٧٢ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ٧٣ ٧٣ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ٧٤ ٧٤ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
٧٥ ٧٥ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
٧٦ ٧٦ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٧٧ ٧٧
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَلۡبِسُونَ ٱلۡحَقَّ بِٱلۡبَٰطِلِ وَتَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٧١
جب علماء، حق کو باطل کے ساتھ ملانے اور خلط ملط کرنے لگیں،دونوں کے درمیان تمیز نہ کریں بلکہ معاملہ مبہم اور غیر واضح رہنے دیں اور حق کو چھپائیں جبکہ اسے واضح کرنا ،ان کا فرض ہے ۔تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حق پر پردہ پڑا رہے گا اور باطل اجاگر ہو کر سامنے آئیگااور عوام سمجھ نہیں پائیں گے حالانکہ وہ خواہش رکھتے ہیں کہ حق کو جانیں تاکہ اسی کو ترجیح دیں اور اختیار کریں ۔چنانچہ اہلِ علم سے یہی مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف صاف بیان کریں ،اس کا اعلان کریں اور حق کو باطل سے الگ چھانٹ دیں۔ (السعدی: ۱۳۴۔ ۱۳۵)
سوال:عالم کا لوگوں کے لئے(معاملات کو)خلط ملط کرنا اور دین کے امور میں حق کو چھپالینا کتنا خطرناک ہے؟
وَلَا تُؤۡمِنُوٓاْ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمۡ قُلۡ إِنَّ ٱلۡهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤۡتَىٰٓ أَحَدٞ مِّثۡلَ مَآ أُوتِيتُمۡ أَوۡ يُحَآجُّوكُمۡ عِندَ رَبِّكُمۡۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٧٣
اس کا مرادی معنی ہے:تم یہ تسلیم مت کرنا کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے ،اس طرح کی چیز (دین وشریعت ) کسی اور کو دی گئی ہے ۔اس سے ان کی مراد مسلمان تھے کیونکہ انہیں تورات کی طرح آسمانی کتاب دی گئی اورموسیٰ علیہ السلام کی طرح ان کے یہاں بھی نبی بھیجے گئے اگر تم ان کی بات مانوگے تو وہ تم پر حجت قائم کریں گے اور قیامت کے دن تمہیں دلیل سے مغلوب کردیں گے۔ ہاں ، تم صرف اپنی پیروی کرنے والوں ،ہمنوالوگوں سے کہو اور ان کے سامنے تسلیم کرلو۔ان کی بات کا حاصل یہ تھا کہ انہوں نے اپنے لوگوں کو ان دونوں سچائیوں کا مسلمانوں اور مشرکین کے سامنے اعتراف کرنے سے روکا تاکہ مسلمان اپنے ایمان ویقین میں اور زیادہ مضبوط نہ ہوجائیں اور مشرکین ،اسلام کی طرف راغب نہ ہوجائیں۔ (الألوسی: ۳؍۲۰۰)
سوال:نسلی غیرت اور حسد حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ
آیت خبر دے رہی ہے کہ اہلِ کتاب دوقسم کے ہیں:امانتدار اور بددیانت۔
اور(قِنْطَارٍ)یعنی خزانے کا ذکر کثرت بتانے کے لئے بطور مثال کیا گیا ہے کہ جو شخص خزانہ اور بہت سارا مال حق دارکو لوٹا کر ادا کرتا ہے تو مال کی تھوڑی مقدار ضرور ادا کریگا۔ (ابن جزی:۱؍۱۵۰)
سوال:بتائیے کہ قرآن نے دوسرے مذاہب کے ماننے والے اپنے مخالفین کے ساتھ کیسے انصاف سے کام لیا ہے؟
وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ
دین میں امانت کا بہت اونچا مقام ہے ۔
اس کی عظمتِ شان کا ایک نمونہ یہ ہے کہ امانت اور رشتہ پل صراط کے دونوں جانب کھڑے ہوں گے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے ،چنانچہ پل صراط کو پارکرنا یا اس پر سے گزرنا صرف انہی لوگوں کے لئے ممکن ہوگا جنہوں نے ان دونوں کی حفاظت کی ہوگی۔ (القرطبی: ۵؍۱۷۸۔۱۷۹)
سوال:امانت کا عظیم ہونا اور خیانت کا خطرناک ہونا ۔اختصار کے ساتھ بیان کیجئے.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ
(لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّۧنَ سَبِيلٌ) یعنی :یہود کا یہ کہنا ہے کہ اِن اُمّیوں یعنی ان پڑھ عرب مسلمانوں کے مال ان کو واپس نہ کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ ان کا مال ہڑپ لینا جائز ہے۔یہ اس لئے کہ وہ اپنے برے خیال اور گھٹیا رائے کی بناپر ان امیوں کو انتہائی حقیرسمجھتے ہیں اور خود کو عظمت کی بلندیوں پر مانتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود حددرجہ ذلیل وحقیر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امّیوں کو حقیر سمجھتے ہوئے انہوں نے ان کے مال کی کوئی حرمت نہیں مانی اور اسے ہڑپ لیناجائز ٹھہرایا۔اس طرح انہوں نے دوگناہ اکٹھے کرلئے :حرام طریقہ سے کھانااور پھر اسے حلال ماننااور یہ سراسر اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ (السعدی:۱۳۵)
سوال:یہود کا دنیا کے مال کا زیادہ تر حصہ سمیٹنا،ان کے ایک فاسد اصول پرقائم ہے ۔آیت کی روشنی میں اسے بیان کیجئے.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٧٥
اور ایسا اس لئے کیونکہ یہودیوں کا کہنا تھا:عربوں کے مال ودولت ہمارے لئے حلال ہیں اس لئے کہ وہ ہمارے دین ومذہب پر نہیں ہیں اور نہ ہماری کتاب میں ان کی کوئی حرمت وعزت ہے۔یہود ہر اس شخص پر ظلم کرنا حلال اور روا سمجھتے تھے جو اُن کے دین سے الگ اور مخالف ہو۔ (البغوی:۱؍۳۷۱)
سوال:یہود کا ظلم اور نسل پرستی یعنی قومی عصبیت کس حد تک پہنچ گئی ہے؟
بَلَىٰۚ مَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ٧٦
عہد وپیمان پورا کرنا تقویٰ کا حصہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور عہد پورا کرنا بذات خود ان چیزوں میں سے ہے جن کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ بندے پر جو چیزیں فرض ہوتی ہیں وہ یا تو شریعت کے حکم سے ہوتی ہیں یا پھرخودشرط مقرر کرنے کے ذریعہ۔اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یعنی اللہ کااور بندوں کا عہد پورا کرنا۔ (ابن تیمیہ:۲؍۸۵)
سوال:آیت میں ذکر کردہ عہدوپیمان پورا کرنے کی کیا فضیلت ہے؟