قرآن
ﯿ
ﱖ
ﯿ
ﭛ ٣ ٣ ﭝ ﭞ ﭟ ٤ ٤ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ٥ ٥ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٦ ٦ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ٧ ٧ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٨ ٨
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٩ ٩ ﭿ ﮀ ﮁ ١٠ ١٠ ﮃ
ﮄ ١١ ١١ ﮆ ﮇ ﮈ ١٢ ١٢ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ١٣ ١٣ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ١٤ ١٤ ﮔ ﮕ ﮖ ١٥ ١٥ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
١٦ ١٦ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٧ ١٧ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
١٨ ١٨ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١٩ ١٩
ﰀ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ٣ ٣ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٤ ٤
يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلۡكَرِيمِ ٦
احسان کی بات کرنے کے ساتھ “رب”کی تعبیر لانا دراصل یہ بتانا ہے کہ اگر کوئی مسلسل سرکشی پر اترا ہو تو اس کا مربی اسے سزا ضرور چکھاتا ہے کیونکہ یہ مربی کے فرائض میں داخل ہے۔اب جو اس پر غور کریگا تو یہ بات اسے برائی سے روکنے میں مددگار ہوگی۔ (البقاعی: ۲۱؍۳۰۲)
سوال:آیت میں رب کی تعبیر کس بات پر لالت کرتی ہے؟
وَإِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحَٰفِظِينَ ١٠ كِرَامٗا كَٰتِبِينَ ١١ يَعۡلَمُونَ مَا تَفۡعَلُونَ ١٢
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ معزز فرشتے لگا رکھے ہیں جو ہمارے اقوال واعمال لکھتے ہیں اور ہمارے سب کاموں سے واقف بھی رہتے ہیں چنانچہ ہمارے لئے یہی مناسب ہے کہ ان کی عزت واحترام کریں اور ان کے وقا ر کا خیال رکھیں۔ (السعدی؍۹۱۴)
سوال: اعمال لکھنے والے فرشتوں کے بارے میں آپ کا کیا احساس ہے؟اور یہ احساس آپ سے کیا تقاضہ کرتا ہے؟
إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ ١٣
ان لوگوں کا بدلہ دنیا میں ہے،برزخ میں اور جنت میں دلی،روحانی اور جسمانی نعمتیں ہیں۔(السعدی؍۹۱۴)
سوال:اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت انسان کے لئے تینوں مرحلوں میں نعمت او ر سعادت کا سبب بنتی ہے۔بتائیے وہ تین مرحلے کون سے ہیں جن سے انسان گزرتا ہے؟
إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ ١٣ وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ ١٤
یہ نہ سمجھیں کہ آیت میں صرف جنت کی نعمت اور جہنم کے عذاب کا تذکرہ ہے بلکہ تینوں ہی گھروں میں دنیا،برزخ اور آخرت میں نیک لوگ نعمتوں میں ہی رہتے ہیں اور فاجر جہنم میں رہتے ہیں کیونکہ اصل نعمت تو دل کا قرار اور اطمینان ہی ہے اور عذاب دل کا عذاب ہے۔بھلابتائیےڈر،بے چینی،غم،سینہ کی تنگی، اللہ اور آخرت سے بے پروائی،اور دل کا اللہ سے کٹ کر مخلوق سے تعلق جوڑلینااور دنیا کی ہی الگ الگ وادیوں میں حیران بھٹکنا اس سے بڑا عذاب اور کیا ہوسکتا ہے!اب جوبھی اللہ کے علاوہ سے تعلق جوڑے اور اسی سے محبت کرے تو یقینا اسے رسوا کن تکلیف دہ عذاب پہنچ کر رہے گا۔ (ابن القیم: ۳؍۲۶۷)
سوال:آیت میں ذکر کردہ نعمت او ر عذاب کا تعلق کس جگہ سے ہے؟
وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ ١
اس جملہ سے سورت کی شروعات کرنا دراصل اس کام کی خطرناکی کو بتانا ہے اور یقینایہ کام بہت ہی خطرناک ہے اس لئے کہ ناپ تول کے درست ہونے پر ہی پوری دنیا کی معیشت اور اقتصادیات ٹکی ہوئی ہے اور اسی کے مطابق لوگ ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں تو اگر اسی میں کوتاہی ہو تو لازماً دنیا کی معاشیات پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کے معاملات خراب ہوتے ہیں اور یہ بڑا فساد ہے۔ (الشنقیطی: ۸؍۴۵۴)
سوال:“ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے”۔اس جملہ سے سورت شروع کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ ١ ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكۡتَالُواْ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسۡتَوۡفُونَ ٢ وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ ٣
اس میں اس بابت تنبیہ ہے کہ اصل آفت تو برے اخلاق ہیں جن میں سے دنیا کی بےجا محبت بھی ہے جو انسان کو ہر جائز وناجائز ذریعہ سے مال جمع کرنے پر مجبور کرتی ہے،پھر وہ ناجائز ذریعہ ڈنڈی مارنے جیسا ہی خراب کیوں نہ ہو اور ڈنڈی مارنا تو ایسا کام ہے جسے کوئی بھی اچھی فطرت والا آدمی گوارا نہیں کرتا۔ اچھی فطرت والے تو وہ ہیں جو بھرپور ناپتے اور وزن پورا کرتے ہیں،نہ کم دیتے ہیں اور نہ ڈنڈی مارتے ہیں۔(البقاعی: ۲۱؍۳۱۱)
سوال:اصل آفت کیا ہے اور ڈنڈی مارنے سے اس کا کیا تعلق ہے؟
أَلَا يَظُنُّ أُوْلَٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبۡعُوثُونَ ٤ لِيَوۡمٍ عَظِيمٖ ٥ يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦
اس انکار اور تعجب میں،ظن وگمان کا لفظ استعمال کرنے،قیامت کے دن کو عظیم کہنے،اس دن سب کا نظریں جھکائے اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا ذکر کرنے اور اللہ کی صفت رب العالمین لانے میں اس بات کا مضبوط بیان ہے کہ ڈنڈی مارنا بڑاجرم ہے اور اس کا گناہ بہت ہے۔ (القرطبی: ۲۲؍۱۳۶۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے ڈنڈی مارنے کا گناہ کس حد تک بڑا بتایا ہے؟