قرآن
ﯷ
ﱕ
٤٩ ٤٩ ﭜ ﭝ ﭞ ٥٠ ٥٠ ﭠ ﭡ ﭢ ٥١ ٥١ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٥٢ ٥٢ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ٥٣ ٥٣ ﭵ ﭶ ﭷ ٥٤ ٥٤ ﭹ ﭺ ﭻ ٥٥ ٥٥ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٥٦ ٥٦
ﯸ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٣ ٣ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٤ ٤ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٥ ٥ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ٦ ٦ ﮬ ﮭ
ﮮ ٧ ٧ ﮰ ﮱ ٨ ٨ ﯔ ﯕ ﯖ ٩ ٩ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ١٠ ١٠ ﯞ ﯟ ﯠ ١١ ١١ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ١٢ ١٢ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ١٣ ١٣ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ١٤ ١٤
ﯴ ﯵ ﯶ ١٥ ١٥ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١٦ ١٦ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ١٧ ١٧ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ١٨ ١٨ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ١٩ ١٩
فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ ٤٨
(اس آیت میں)قیامت کے دن ان (کفار)کے علاوہ دوسروں کے لئے منجملہ شفاعت کے ثبوت کا اشارہ ہے،اور اس کی تفصیل صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
(ابن عاشور: 29؍328)
سوال: آیت کریمہ (فما تنفعهم شفاعة الشافعين)کا اشارہ کیا ہے؟
هُوَ أَهۡلُ ٱلتَّقۡوَىٰ وَأَهۡلُ ٱلۡمَغۡفِرَةِ ٥٦
اللہ اس بات کا اہل ہے کہ اسی سےڈرا جائے، اور وہی اپنی جانب رجوع کرنے اور توبہ کرنے والے کو بخشنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ (ابن کثیر 4؍447)
سوال: جب آپ کو یہ معلوم ہےکہ اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کو بخشنے کی اہلیت رکھتا ہے تو اس بارے میں آپ کا عملی موقف کیا ہے؟
وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ ٢
یہی وہ نفس ہے جو گناہ کرنے یا نیکی میں کوتاہی کرنے پر ملامت کرتی ہے، کیونکہ نفوس تین طرح کے ہوتے ہیں: ان میں سب سے بہتر نفسِ مطمئنہ(اپنے رب کی عبادت اور ثواب سے مطمئن) ہے ، سب سےبرا نفس نفس امّارہ (برائیوں کا حکم دینے والا) اور ان دونوں کے درمیان نفس لوّامہ (ابن جزی: 2؍513)
سوال: نفس کی کتنی قسمیں ہیں؟ اور نفس امّارہ و لوّامہ کے درمیان کیا فرق ہے؟
وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ ٢
اللہ سبحانہ نے (نفس ) لوامہ کہہ کر اس بات کی جانب تنبیہ فرمائی کہ اسے ایسی ذات کی شدید ضرورت ہے جو اسے خیر وشر کی پہچان کرائے، ان کی جانب رہنمائی کرے، راستہ دکھلائے اور اس کے دل میں الہام کرے، اور اسے بھلائی کو چاہنے والا، اس کی جانب رہنمائی کرنے والا، شر کو ناپسند کرنے والا، اور اس سے دور رہنے والا نفس بنائے، تاکہ وہ ملامت سے اور جس بات پر ملامت کی جارہی ہے اس کے شر سے نجات پائے۔ اور اس وجہ سے کہ وہ ملامت زدہ اور تردد والا ہے کسی حالت پر بر قرار نہیں رہتا تو اسے ایسی ذات کی ضرورت ہے جو اسے دنیا اور آخرت میں سب سے نفع بخش چیز کی پہچان کرائے،اور وہ اسے ترجیح دے اور اس کے فوت ہونے پر اپنے آپ کو ملامت کرے۔ (ابن القیم: 3؍225)
سوال: نفس لوامہ سے کیا مراد ہے؟
لَا تُحَرِّكۡ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهِۦٓ ١٦
یہ آیت علم کے حصول میں جلد بازی نہ کرنے اور تحقیق کرنے کو متضمن ہے اور یہ کہ سامع کو علم سے شدیدمحبت اورحرص وطلب معلم کے کلام کو مکمل ہونے سے پہلے لینے پر نہ ابھارے۔ سامع و طالب علم کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ معلم پر صبر کرے حتی کہ وہ اپنا کلام مکمل کر لے، پھر وہ اسے معلم کو سنائے یا اپنے شبہات کے بارے میں سوال کرے، لیکن اس کے فارغ ہونے سے قبل سبقت نہ کرے۔ (ابن القیم: 3؍230)
سوال: آیت ایک ادب کو شامل ہے جس سے طلبہ علم کا متصف ہونا ضروری ہے، وہ کونسا ادب ہے؟
لَا تُحَرِّكۡ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهِۦٓ ١٦ إِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهُۥ وَقُرۡءَانَهُۥ ١٧ فَإِذَا قَرَأۡنَٰهُ فَٱتَّبِعۡ قُرۡءَانَهُۥ ١٨ ثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهُۥ ١٩
اس آیت میں علم سیکھنے کا ادب ہے کہ متعلم معلم سے سبقت نہ کرے حتی کہ معلم اس مسئلہ سے فارغ ہوجائے جس کو اس نے شروع کیا ہے، جب فارغ ہوجائے تو جو اشکال پیش آیا ہے اس کے بارے میں سوال کرے، اسی طرح اگر اول کلام میں کوئی ایسی بات ہے جو رد یا تعریف کی مستحق ہے تو رد یا قبول میں بھی سبقت نہ کرے، یہاں تک کہ معلم اس کلام سے فارغ ہوجائے، تاکہ اس کلام میں جو حق یا باطل ہے وہ واضح ہوجائے اور وہ اسے اس طرح بخوبی سمجھ لے کہ اس پر کلام کرنے پر قادر ہو۔ (السعدی: 899)
سوال: ان آیتوں میں علم سیکھنے کے کون سے آداب بیان کئے گئے ہیں؟
إِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهُۥ وَقُرۡءَانَهُۥ ١٧
اللہ کا فرمان: (إن علينا جمعه وقرآنه) میں اشارہ ہے کہ قرآن جدا جدا نازل کیا گیا ہے اور اس بات کی جانب بھی اشارہ ہے کہ قرآن کو موجودہ صورت میں جمع کرنا بھی اللہ کی عنایت وحفاظت اور اس کے اس فرمان ( إن علينا جمعه وقرآنه)،پر عمل ہے۔ اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ موجودہ جمع بھی اس کی حفاظت کے وسائل میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ذمہ اری لی ہے، واللہ تعالیٰ أعلم۔ (الشنقیطی: 8؍374)
سوال: اس آیت میں اشارہ ہے کہ قرآن جدا جدا (ٹکڑے ٹکڑے مختلف اوقات میں) نازل کیا گیا ہے اور اس بات کی جانب بھی اشارہ ہے کہ قرآن کو موجودہصورت میں جمع کرنا بھی اللہ کی عنایت وحفاظت سے ہے، اس کی وضاحت کیجئے.