قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١٩ ١٩ ٢٠ ٢٠ ٢١ ٢١
٢٢ ٢٢
٢٣ ٢٣ ٢٤ ٢٤
٢٥ ٢٥
٢٦ ٢٦ ٢٧ ٢٧
٢٨ ٢٨
ﭿ ٢٩ ٢٩ ٣٠ ٣٠





٣١ ٣١
٣٢ ٣٢ ٣٣ ٣٣ ٣٤ ٣٤
٣٥ ٣٥
٣٦ ٣٦
٣٧ ٣٧
ﯿ ٣٨ ٣٨ ٣٩ ٣٩
٤٠ ٤٠
٤١ ٤١ ٤٢ ٤٢
٤٣ ٤٣
٤٤ ٤٤
٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦ ٤٧ ٤٧
576
سورۃ المدثر آیات 0 - 31

وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ ٣١

دلوں پر حق کے نزول کے وقت ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ حق کے نزول سے کچھ دل کفر وانکار کے فتنہ میں پڑجاتے ہیں، کچھ دلوں کے ایمان وتصدیق میں اضافہ ہوتا ہے، کچھ کو یقین آتا ہے اور ان پر حجت قائم ہوجاتی ہے، اور کچھ دلوں پرحیرت و حیرانگی طاری ہوجاتی ہے اور انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا مراد ہے۔ (ابن القیم :3؍216)
سوال: حق کی سماعت کے وقت دلوں کی کتنے قسمیں ہوتی ہیں؟

سورۃ المدثر آیات 0 - 31

لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا

یہ بیان ہے کہ مومن پر تصدیق و طاعت میں سبقت کرنا واجب ہے اگر چہ اسے حکمت یا راز یا مقصد کا علم نہ ہو، اس بنیاد پر کہ خبر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور اللہ نے جو بیان کیا اسے وہ بہتر طور پر جانتا ہے۔ (الشنقیطی: 8؍365)
سوال: ایمان وتصدیق کے لئے کیا مسلمان پراسلام کے تمام معاملات میں حکمت یا راز کو جاننا واجب ہے؟

سورۃ المدثر آیات 0 - 31

وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ

تاکہ ان سے شک وشبہہ دور ہوجائے، یہ بڑے مقاصد ہیں جن کا اصحاب عقل اہتمام کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ ہر وقت دین کے تمام مسائل میں یقین اور ایمان میں اضافہ کے لئے سعی کرنا، اور ان شکوک واوہام کو دور کرنا جو حق کے مقابل میں پیش آتے ہیں۔ (السعدی: 897)
سوال: آیت کریمہ دین کے تمام مسائل میں یقین کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، اس کی وضاحت فرمائیے ؟

سورۃ المدثر آیات 38 - 39

كُلُّ نَفۡسِۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِينَةٌ ٣٨ إِلَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡيَمِينِ ٣٩

(إلا أصحاب اليمين) یعنی وہ لوگ جن كا وصف گزر چکا ہے، اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جانب گئے، اس کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز رہے، وہ اپنے اعمال کے بدلے گروی نہیں رکھے جائیں گے، بلکہ اللہ ان پر رحم فرمائے گا اور ان کی نیکیاں قبول کی جائیں گی اور ان کی برائیوں سے در گذر کیا جائے گا۔ (البقاعی: 21؍71)
سوال: اصحاب یمین کون ہیں؟

سورۃ المدثر آیات 42 - 43

مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢ قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣

یہ تنبیہ ہے کہ نماز میں ثبات قدمی، ان (اہل جہنم) کی جیسی حالت سے رکاوٹ ہے، اور نماز اعمال میں سب سے افضل ہے، اور اس کا حساب دوسرے اعمال پر مقدم ہے۔ (البقاعی: 21؍75)
سوال: ان افراد کے جہنم میں داخل ہونے کا کیا سبب ہے؟ اور آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟

سورۃ المدثر آیات 42 - 43

مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢ قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣

اس آیت میں اشارہ ہے کہ جس مسلمان نے نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے میں کوتاہی کی وہ اپنی کوتاہیوں کے بقدرجہنم کا مستحق ہوگا نیز اس کی اچھائی و برائی اور ظواہر وبواطن کے درمیان موازنہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارادے کے مطابق جہنم کی آگ کا مستحق ہوگا۔ (ابن عاشور: 29؍328)
سوال: اس آیت میں مسلمان کے لئے نماز وزکاۃ میں سستی برتنے کی خطرناکی کی جانب اشارہ ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ المدثر آیات 0 - 45

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ ٤٥

ہم باطل میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاتے تھے…۔ باطل سے مرا د غیر مناسب اقوال واعمال ہیں۔زوجین کے درمیان خلوت میں انجام پانے والی حکایات اور ہر قسم کے فاسقین کے احوال کو لذت وانسیت حاصل کرنے طور پر بیان کرنا اسی قبیل سے شمار کیاگیا ہے۔(الألوسی: 15؍147)
سوال: زبان کو مطلق العنان چھوڑنا ہلاکت کا باعث ہے۔ آیت سے اس بات کی وضاحت کیجئے ؟