قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ

١ ١
٢ ٢
٣ ٣

٤ ٤
ﭿ
٥ ٥

٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨

٩ ٩

١٠ ١٠

١١ ١١

١٢ ١٢

ﯿ ١٣ ١٣
572
سورۃ الجن آیات 0 - 2

يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلرُّشۡدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦۖ وَلَن نُّشۡرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدٗا ٢

اس کلام الٰہی میں بنی آدم کے کفار کے لئے پھٹکار ہے کہ جنات ایک ہی بار قرآن کو سن کر ایمان لے آئے، چند قرآنی آیات سن کر فائده اٹھایا، اور اپنی عقلوں سے ادراک کرلیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس پر ایمان لائے۔ لیکن انسانی کفار نے یہ فائدہ نہیں حاصل کیا۔ (الشوکانی: 5؍303-304 )
سوال: قرآن کریم کے سننے کے فورا بعد جنات کا ایمان لانا کس بات کا فائدہ دیتا ہے.

سورۃ الجن آیات 0 - 5

وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا ٥

یہ اس بات کی جانب رہنمائی ہے کہ کسی بھی چیز میں تقلید مناسب نہیں، اس لئے کہ ہر کسی پر بھروسہ کرنا نا اہلی ہے، اس کا انکشاف تجربہ سے ہوتا ہے،بسا اوقات تقلید ہمیشہ کے لئے ہلاکت میں ڈالنے والے کفرتک پہنچاتی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک روایت جو کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس حدیث میں اس بات کی جانب نبی ﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے کہ(مَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ) جو شبہات سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور اس کے اندر حد درجہ ترغیب ہے کہ کوئی انسان اصول دین میں بلا دلیل قاطع اپنے قدم کو نہ آگے بڑھائے اور نہ باز رکھے۔ (البقاعی: 20؍471)
سوال: تقلیدکرنا کب مستحسن ہے اور کب مذموم ہے؟

سورۃ الجن آیات 0 - 6

وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٞ مِّنَ ٱلۡإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٖ مِّنَ ٱلۡجِنِّ فَزَادُوهُمۡ رَهَقٗا ٦

ا س كامعنی یہ ہے کہ جب انسانوں نے جنات سے پناہ طلب کی تو جنوں نے انسانوں کو مزید گمراہی وگناہ میں ڈال دیا، یا جب جنات نے انسانوں کی عقل کی کمزوری دیکھی تو انہوں نے انہیں مزید خوف میں مبتلا کر دیا اور کہاجاتا ہےکہ فاعل کی ضمیر انسانوں کے لئے ہے، اور مفعول کی جنوں کے لئے۔ ایسی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ جب انسانوں نے جنات سے پناہ طلب کی تو جنات کے تکبر وسرکشی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ ایک جن کہنےلگا کہ میں جنوں اور انسانوں کا سردار ہوں۔ (ابن جزی: 2؍495)
سوال: بعض افراد کا جادوگروں، شعبدہ بازوں اور شیاطین پر بھروسہ کرنے کا ضرر بیان کیجئے

سورۃ الجن آیات 0 - 10

وَأَنَّا لَا نَدۡرِيٓ أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ أَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدٗا ١٠

اللہ تعالیٰ کے ساتھ واجب ادب کی رعایت کرتے ہوئے شر کے ارادہ کے فعل کو مجہول کی جانب منسوب کیا گیا اور اللہ کی جانب نسبت نہیں کی گئی جب کہ اس کے مقابل (رشد) کی نسبت اللہ کی جانب اس کے اس فرمان (أم أراد بهم ربهم رشدًا) میں کی گئی ہے۔ برائی کی نسبت اللہ کی جانب نہیں کی گئی اس کے ساتھ واجب ادب کا لحاظ کرتے ہوئے۔ (ابن عاشور: 29؍231)
سوال: جنوں نےاللہ کی طرف ارادۂ شر کی نسبت کیوں نہیں کی ۔ جبکہ ارادۂ خیر کو اس کی جانب منسوب کیاہے، حالانکہ (خیر و شر دونوں کو) مقدر کرنے والا اور پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے؟

سورۃ الجن آیات 0 - 11

وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدٗا ١١

چنانچہ جب ان جناتوں نے اپنے بھائیوں کو نیکی کے راستے پر چلنے کی دعوت دینے کا موقف اختیار کیا تو ان کے بگاڑ کی نسبت، ان کی طرف صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا بلکہ انہیں الہام ہوا اور انہوں کہا: (منا الصالحون)، ہم میں بعض نیکو کار ہیں، پھر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا: (ومنا دون ذلك). اورہم میں کچھ اس کے برعکس ہیں۔ (ابن عاشور: 29؍232)
سوال: داعی اس آیت سے کون سا ادب مستنبط کرسکتا ہے؟

سورۃ الجن آیات 0 - 13

وَأَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا ٱلۡهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦۖ فَمَن يُؤۡمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخۡسٗا وَلَا رَهَقٗا ١٣

اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے اور نہ ظلم وستم کا، اس لئے کہ اللہ نہ کسی کا کوئی حق کم کرتا ہے اور نہ کسی پر ظلم وستم کرتا ہے، اس لئے ان دونوں سزا ؤں کا اندیشہ نہیں۔ (الألوسی:15؍100 )
سوال: جیسا کروگے ویسا پاؤگے اس کی وضاحت آیت سے کیجئے ؟

سورۃ الجن آیات 0 - 13

فَمَن يُؤۡمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخۡسٗا وَلَا رَهَقٗا ١٣

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں: نہ نیکیوں میں کمی کرنے کا اندیشہ ہےاور نہ برائیوں میں اضافہ کا،اس لئے کہ بخس کا معنی ہے: کمی و نقصان اور رھق کا معنی ہے: ظلم وزیادتی۔ (القرطبی: 21؍292)
سوال: کیا ظلم کے طور پر بندے کی نیکیوں میں کمی اور برائیوں میں اضافہ کردینے کا احتما ل ہے؟