قرآن
ﯲ
ﱕ
ﭞ ﭟ ٣٨ ٣٨ ﭡ ﭢ ﭣ ٣٩ ٣٩ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٤٠ ٤٠ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٤١ ٤١ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
٤٢ ٤٢ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ٤٣ ٤٣ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٤٤ ٤٤
ﮆ ﮇ ﮈ ٤٥ ٤٥ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٤٦ ٤٦ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٤٧ ٤٧ ﮖ ﮗ ﮘ ٤٨ ٤٨ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٤٩ ٤٩ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
٥٠ ٥٠ ﮥ ﮦ ﮧ ٥١ ٥١ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٥٢ ٥٢
ﯳ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ٣ ٣ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ٤ ٤ ﯪ ﯫ ﯬ
٥ ٥ ﯮ ﯯ ﯰ ٦ ٦ ﯲ ﯳ ٧ ٧ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ٨ ٨ ﯺ ﯻ ﯼ ٩ ٩ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ١٠ ١٠
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٣
اللہ کا فرمان: (تنزيل من رب العالمين) اس بات کو شامل ہے کہ مخلوق کے لئے اس کی ربوبیت کاملہ انہیں مہمل چھوڑنے سے مانع ہے کہ نہ انہیں کسی بات کا حکم دے، نہ منع فرمائے، نہ ان کے لئے نفع بخش چیزوں کی رہنمائی کرے اورنہ انہیں مضرت رساں اشیاء سے دور رکھے، بلکہ انہیں چرنے والے چوپایوں کی طرح بیکار چھوڑ دے جس نے ایسا عقیدہ رکھا اس نے رب العالمین کے مقام کو نہیں پہچانا اور اللہ تعالیٰ کے جانب غیر مناسب بات کی نسبت کی۔ (ابن القیم: 3؍191)
سوال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ربوبیت کاملہ کی علامت کیا ہے؟
وَإِنَّهُۥ لَتَذۡكِرَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ ٤٨
یعنی سارے جہان میں سے صرف متقیوں کیلئے ہی یہ قرآن نصیحت ہے، نصیحت کو متقیوں کیلئے اس لئے خاص کیا ہے چونکہ صحیح معنوں میں متقی حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ (البقاعی: 20؍383)
سوال: اللہ تعالىٰ نے نصیحت کو متقین کے ساتھ کیوں مختص کیا؟
فَٱصۡبِرۡ صَبۡرٗا جَمِيلًا ٥
صبر کیجئے یعنی ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر، لیکن یہ چیز آپ کو ان کی تبلیغ سے جدا نہ کرے، آپ ان سے انتقام لینے کے وقت (قیامت کے دن) کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اے فاتح وخاتم جن کی زبان پر میں نے وہ باتیں بیان کی جو میں نے کسی کے لئے بیان نہ کی اور صبر کہتے ہیں ،مکروہ چیز پر نفس کو روک کر رکھنا۔(البقاعی: 20؍392)
سوال: کیا لوگوں پر صبرکرنے کا مطلب ان کی دعوت ترک کرنا ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں؟
فَٱصۡبِرۡ صَبۡرٗا جَمِيلًا ٥
(صبرِ جمیل) یعنی ایسا صبر جس میں جزع و فزع نہ ہو۔ (الطبری: 23؍603)
سوال: صبر جمیل کا معنی کیا ہے؟
إِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهُۥ بَعِيدٗا ٦ وَنَرَىٰهُ قَرِيبٗا ٧
اللہ اسے قریب دیکھ رہا ہے، اس لئے کہ وہ نرم وبردبار ہے جلد بازی نہیں کرتا، جانتا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا، اور ہر آنے والی چیز قریب ہے۔ (السعدی: 886 )
سوال: اس آیت کے نزول کو 1400 سال گزر گئے پھر اتنی مدت گزرنے کے بعد قیامت کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ قریب ہے؟
يَوۡمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلۡمُهۡلِ ٨ وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٩
جب ان بڑے اور سخت سیاروں کے قلق واضطراب کا یہ حال ہوگا تو ذرااس کمزور بندے کے بارے میں سوچیں جس کی پشت پرگناہوں اور معاصی کا بار گراں ہے۔ (السعدی: 886 )
سوال: آسمان وپہاڑکی تبدیلی کے ذکر کا کیا فائدہ ہے؟
وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٩
(عِہْن) اون ہے،پہاڑ کے ریزہ ہونے اور اس کے اجزاء کے کھوکھلے ہونے میں اون سے تشبیہ د ی گئی۔ (ابن جزی: 2؍495)
سوال:قیامت کےدن اون اور پہاڑ میں وجہ تشبیہ کی وضاحت کیجئے.