قرآن
ﯰ
ﱕ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ١٤ ١٤ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ١٥ ١٥
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٦ ١٦
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ١٧ ١٧ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ١٨ ١٨
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ١٩ ١٩ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٢٠ ٢٠ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ٢١ ٢١ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ٢٢ ٢٢ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٢٣ ٢٣ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ٢٤ ٢٤ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ
ﰓ ٢٥ ٢٥ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ٢٦ ٢٦
وَأَسِرُّواْ قَوۡلَكُمۡ أَوِ ٱجۡهَرُواْ بِهِۦٓۖ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ١٣
یعنی اس میں موجود نیتوں اور ارادوں سمیت، تو ذرا سوچئے اقوال واعمال کے بارے میں جو سنے اور دیکھے جاتے ہیں۔ (السعدی:876)
سوال: آیت کو اللہ کی صفت: ( إنه عليم بذات الصدور) سے ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟
أَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ ١٤
پھر حجت کو (اللہ نے اپنے) دو ناموں پر ختم کیا جو ان(ظاہر و باطن) دونوں کے ثبوت کے متقاضی ہیں، پہلا نام ہے: (اللَّطِيْفُ)؛ جس کی صنعت وحکمت اتنی لطیف وباریک ہے کہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ اور دوسرا ہے: (الخَبِير)؛ جس کے علم کی انتہا چیزوں کے باطن وپوشیدگی کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس طرح اس کے ظاہر کا احاطہ کئے ہوئے ہے، تو کس طرح (اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ)پر وہ باتیں مخفی رہ سکتی ہیں جن کو ضمیر وسینے چھپائے ہوئے ہیں۔ (ابن القیم: 3؍173)
سوال: اللہ کے دو ناموں (اللَّطِيْفُ) اور ( الخَبِير) پر آیت کو کیوں ختم کیا گیا؟
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ ذَلُولٗا فَٱمۡشُواْ فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُواْ مِن رِّزۡقِهِۦۖ وَإِلَيۡهِ ٱلنُّشُورُ ١٥
جان لو کہ تمہاری کوششیں کچھ بھی نفع بخش نہیں ہوسکتیں الّا یہ کہ رزق کو اللہ تمہارے لئے آسان کردے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وكلوا من رزقه) اس کے (عطا کردہ) رزق سے کھاؤ۔ اس لئے كوشش توکل کے منافی نہیں۔ (ابن کثیر: 4؍398)
سوال: رزق کی نسبت اللہ کی جانب لوٹنے والی ضمیر کی طرف کی گئی ہے ، اس سے آپ کیا استنباط کرتے ہیں؟
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ ذَلُولٗا فَٱمۡشُواْ فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُواْ مِن رِّزۡقِهِۦۖ وَإِلَيۡهِ ٱلنُّشُورُ ١٥
پھر اپنے فرمان:(وإليه النشور) سے اس جانب متنبہ کیاہے کہ یہ مسکن نہ ہمارا وطن ہے اور نہ قیامگاہ، بلکہ ہم اس میں راہ چلتے داخل ہوگئے ہیں ، اس لئے نہ اسے وطن بنانا مناسب ہوگا اور نہ جائے استقرار، بلکہ ہم اس میں داخل ہوئے ہیں کہ دار القرار کے لئے کچھ توشہ حاصل کر لیں، دنیا تو عبور کرنے کی ایک منزل ہے نہ کہ مستقل جائے قرار، یہ گزرگاہ اور پل ہے نہ کہ وطن اور ٹھکانہ۔ (ابن القیم3؍174)
سوال: آیت کریمہ ہمیں زمین میں موجود چیزوں سے استفادہ کرنے کا حکم دیتی ہے پھر آیت کا اختتام اٹھائے جانے پر کیوں کیا گیا؟
ءَأَمِنتُم مَّن فِي ٱلسَّمَآءِ أَن يَخۡسِفَ بِكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ ١٦
دھنسانے کی دھمکی پتھر برسانے کی دھمکی پر مقدم ہے اس لئے کہ دھنسانا زمین کی حالتوں میں سے ہے، اور اس کی حالتوں پر کلام یہاں زیادہ قریب ہے۔یہاں نشر معکوس کے مشا بہ(دوبارہ اٹھائے جانے کے برعکس) طریقہ اختیار کیا گیا ہے، اور اس لئے کہ ان پر پتھر کی بارش اللہ کی ان نعمتوں کی ناشکری کی سزا کے طور پر ہوگی جن کے سبب دنیا میں ان کا رزق ہے جیسا کہ اللہ کے فرمان: (وكلوا من رزقه)؛ میں اشارہ کیا گیا ہے، اس لئے کہ زمینی روزیوں کا مرجع آسمانی بارشیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَفِي ٱلسَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ [ الذاريات: 22].(ابن عاشور: 29؍36)
سوال: دھنسانے کی دھمکی کو پتھر برسانے کی دھمکی پرکیوں مقدم کیا گیا ہے ؟
أَفَمَن يَمۡشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجۡهِهِۦٓ أَهۡدَىٰٓ أَمَّن يَمۡشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٢٢
اللہ نے مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی: (مُكِبًّا)یعنی سر جھکائے ہوئے، نہ آگے دیکھتا ہے اور نہ دائیں بائیں، یہ ٹھوکر کھانے اور منہ کے بل گرنے سے مامون نہ رہے گا۔ (كیا یہ) اس شخص کی طرح ہوگا؟ جو (يمشي سويًا) سیدھا چلتا ہے، اپنے سامنے اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے۔ (القرطبی: 21؍129)
سوال: اللہ نے یہ مثال کس لئے بیان فرمائی ہے؟
قُلۡ هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَكُمۡ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ ٢٣
(قليلًا ما تشكرون) اللہ نے تمہیں جو طاقت عطا کی ہے اسے تم اللہ کی اطاعت اور حکم کی بجا آوری میں بہت کم استعما ل کرتے ہو۔ (ابن کثیر 4؍399)
سوال: (قليلًا ما تشكرون)کے ساتھ آیت کا اختتام کس بات پر دلالت کرتا ہے؟