قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٥ ٥


٦ ٦

ﭿ

٧ ٧


٨ ٨


٩ ٩


١٠ ١٠

١١ ١١
Surah Header

555
سورۃ المنافقون آیات 0 - 7

وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَفۡقَهُونَ ٧

(ولكن المنافقين لا يفقهون) اس استدراك كا مقصد منافقین کے اہم وہم کا ازالہ ہے اور وہ یہ ہے كہ جب منافقوں نے كہا: (لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا) ( جو لوگ رسول الله كےپاس ہیں ان پر خرچ نہ كرو جب تك كہ وه وہاں سے ہٹ نہ جائیں) تو انہوں نے علم ویقین سے کہا كہ جو لوگ رسول اللهﷺ كےپاس رہتےہیں اگر ان پر خرچ نہ كیا جائے تو وہاں سے وه نكل جائیں گے، اوراس بنیادپر کہا كہ ان پر خرچ كرنے كى طاقت صرف انہی كےاندر ہے، كیونكہ وه مالدار ہیں۔ اس وہم كو دور كرنے كیلئے كہاگیا كہ منافقین نہیں سمجھتے، کیونکہ وہ بھول گئے کہ رزق اور فقركےاسباب متعدد ہوتےہیں۔ (ابن عاشور: 28؍248)
سوال: (ولكن المنافقين لا يفقهون)ے ذریعے استدراك كا كیا فائده ہے؟

سورۃ المنافقون آیات 0 - 8

وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ٨

لوگ عزت بادشاہوں کے درباروں میں طلب کرتے ہیں، جبکہ عزت صرف اللہ کی فرمانبرداری میں ہے ۔ حسن بصری کہاکرتے تھے کہ اگرچہ ان کے پاس تیز رو ترکی گھوڑےہوں، خچروں کی کثرت ہو لیکن معصیت کی ذلت و خواری ان پر مسلط کردی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو ہرصورت میں رسوا کرے گا۔ (ابن تیمیہ: 6؍312)
سوال: حقیقی عزت کہاں تلاش کی جائے؟

سورۃ المنافقون آیات 0 - 9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلۡهِكُمۡ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ

الله تعالىٰ نے جب منافقین كى برائیوں كو بیان كردیا تو اب خطاب مومنوں كو ہے انہیں الله كے ذكر میں رغبت دلاتےہوئے فرمایا: (يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله) تو اس آیت میں الله نے انہیں منافقوں كےاخلاق سے ڈرایا جنہیں ان كے مال اور اولاد نے الله كے ذكر سے غافل كردیا ہے۔ (الشوكانى: 5؍233)
سوال: اس آیت كا ماقبل سے كیا تعلق ہے؟

سورۃ المنافقون آیات 0 - 9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلۡهِكُمۡ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ

الله كےذكر سے غافل كرنے والى چیزوں میں ما ل واولاد كا خصوصى طور پر ذكر كیا گیا ، اور ان میں اس طرح منہمک رہنے سے منع کیاگیا جو اللہ کی یاد سے غافل کردے كیونكہ لوگ مال کمانے اور اسے بڑھانے پر زیاده توجہ دیتےہیں اور اس میں ان كى مشغولیت اولاد میں مشغولیت سے زیاده ہوتى ہے، اور اس لئے بھی مال کا خصوصی ذکر ہوا ہے کیونکہ مال كمانے اور بڑھانے میں مشغول ہوناجس طرح الله كے ذكر سے غافل كرتاہے اسى طرح اسے ذخیر ه كرنے کا چكر بھی اللہ كے راستے میں خرچ كرنے سے غافل كردیتا ہے جس كا كہ الله نے حكم دیا ہے۔ (ابن عاشور: 28؍251)
سوال: الله كے ذكر سے غافل كرنے والى چیزوں میں صرف مال واولاد ہى كا ذكر كیوں كیا گیا ؟

سورۃ المنافقون آیات 0 - 9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلۡهِكُمۡ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ

ہمیشہ اللہ کا ذکر کرنا اس کی دائمی محبت کا باعث ہے، دل کے لئے اللہ کا ذکر ویسے ہی ہے جیسے کھیتی کے لئے پانی، کہ اس کے بغیرکھیتی ممکن نہیں ہے۔ذکرِ الٰہی کی کئی قسمیں ہیں:
1۔اللہ کے اسماء و صفات کے ذریعہ اسے یاد کرنا، اور ان کے واسطے اللہ کی تعریف بیان کرنا۔
2۔اللہ کی تسبیح، تحمید، تکبیر، تہلیل اور تمجید بیان کرنا۔ اور عموماًعلمائے متاخرین ذکرِالٰہی سے یہی مراد لیتے ہیں۔
3۔ اللہ کے احکام، اس کے اوامر و نواہی کے ذریعہ اللہ کو یاد رکھناـیہ عموماً اہل علم کرتے ہیںـ
4۔اللہ کے کلام کے ذریعہ اللہ کویادرکھنا افضل ترین ذکر ہے۔
5۔دعاء، استغفار اور اللہ سے آہ وزاری کے ذریعہ اسے یاد کرنا۔ ذکر کی یہ پانچ قسمیں ہیں’’ ۔(ابن القیم: 3؍157-158)
سوال: ذکرِ الہٰی کی اہمیت اور اس کے اقسام بیان کیجئے ؟

سورۃ المنافقون آیات 0 - 10

وَأَنفِقُواْ مِن مَّا رَزَقۡنَٰكُم

یہ اس بات پر دلالت كرتاہے كہ الله تعالىٰ نے بندوں كو ایسى چیز كے خرچ كرنے كا مكلف نہیں بنایا جس سے وه مشقت میں پڑیں اور تكلیف ہو، بلكہ انہیں اسى میں سےکچھ خرچ كرنے كا حكم دیا جو اسے روزى دے ركھى ہے اور وه ان كے لئےآسان بھى ہے اور الله نےاس کے اسباب بھى آسان كردئیے ہیں۔(السعدى: 865)
سوال: اس آیت میں (مِنْ) تبعیضیہ لانے كا كیا فائده ہے؟

سورۃ المنافقون آیات 0 - 10

مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٠

ہر كوتاه شخص موت كے وقت نادم ہوگا، اور درازئ وقت كا سوال كرےگا – گرچہ تھوڑا ہى وقت مل جائے- تاكہ توبہ كرلے اور مافات كى تلافى كرلے۔
(ابن كثیر: 4؍373)
سوال: كیا موت كےوقت نادم ہونا صرف كافروں كےساتھ خاص ہے؟ نیز اس سے آپ كو كیا فائده ہے؟