قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤ ٤

٥ ٥


ﭿ
٦ ٦




٧ ٧


٨ ٨



ﯿ ٩ ٩
546
سورۃ الحشر آیات 0 - 4

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَآقُّواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٤

اللہ تعالیٰ کا قول: (ومن يشاقِّ الله فإن الله شديد العقاب) کے اندر اللہ کی مخالفت پر اکتفاکیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کی مخالفت اس کے رسول کی مخالفت ہے۔
(الشوکانی: ۵؍۱۹۶)
سوال: آیت کے آخری حصہ میں اللہ کی مخالفت کے ذکر پر اکتفاکیا گیا، اس کے رسول کی مخالفت کا ذکر نہیں کیا گیا، ایسا کیوں؟ جبکہ اس سے قبل دونوں کا ذکر کیا گیا؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 7

كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ

(مال فیء کا یہ حکم اس لئے ہے) تاکہ ما ل فیء سرداروں اور طاقتوروں کے مابین گردش کرتا نہ رہ جائے،(اگر وہ انہیں کے درمیان گردش کرتا رہا) تو وہ لوگ فقیروں اور کمزورں پر غالب آ جائیں گے۔ اور وہ اس طرح کہ اہل جاہلیت کو جب مال غنیمت حاصل ہو تا، تو ان کا سردار مال غنیمت میں سے ایک چوتھائی اپنے لئے خاص کرلیتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس حصہ کو اپنے نبی کے لئے خاص کردیا کہ اسے ان کے ما بین تقسیم کر دیں جن کے متعلق حکم ہوا ہے۔(البغوی: ۴؍۳۵۷)
سوال: اللہ تعالیٰ کے اس قول: (كي لا يكون دولة بين الأغنياء منكم)سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 7

وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ

آیت کے اخیر میں اس ٹکڑے سے بنو نضیر سے ملنے والے مال فیء سے بعض مجاہدین کومحروم رکھنے پر ان کے دل میں ابھرنےوالی تکلیف کا ازالہ مقصود ہے۔
(ابن عاشور: ۲۸؍۸۶)
سوال: احکام فیء کو اس بہترین خاتمے پر ختم کرنے کا مقصد کیا ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 9

وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ

ان كے متعلق اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی خبر دی کہ جو مال ان کے پاس ہے، ضرورت کے باوجود اسے وہ خرچ کرتے ہیں، اور ان کے بھائیوں پر اللہ کی طرف سے جو انعام ہوا ہے اسے نا پسند نہیں کرتے ہیں۔ اول الذکر بات کے برعکس بخل ہے، اور دوسری کی ضد حسد ہے، اس لئے بخل وحسد دونوں کی ایک ہی نوعیت ہے، کیونکہ حاسد کو پسند نہیں ہے کہ اس کے علاوہ دوسروں کو عطا کیا جائے، اور بخیل بھی دوسروں کو دینا ناپسند کرتا ہے۔( ابن تیمیہ: ۶؍۲۷۲)
سوال: آیت کے اندر مومنوں کی دو عظیم صفت ذکر کی گئی ہیں، وہ کیا ہیں؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 9

وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞ

یہ ایثار صرف دنیا کے زائد معاملات میں ہے، عبادت وبندگی کے لئے مصروف اوقات میں ایثار درست نہیں، کیونکہ پوری کامیابی وکامرانی عبادت کے لئے مصروف اوقات میں بخیلی کرنے سے مل سکتی ہے، کیونکہ جو شخص اپنے اوقات میں بخیلی سے کام نہیں لیتا لوگ اسے روئے زمین پر بے یار ومددگار چھوڑدیتے ہیں، اس لئے وقت میں بخیلی اور اسے بچانے سے دل آباد ہو تا ہے، سرمایہ کی حفاظت ہو تی ہے، اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے کاموں میں سبقت کر نے کا حکم دیا ہے، اور یہ ایثار کے خلاف ہے۔ (ابن القیم: ۳؍۱۴۶)
سوال: ایثار کب محمود ہوتا ہے؟اور بخیلی کب محمود ہے،؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 9

وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞ

یہ مقام ان لوگوں کی حالت سے بڑھ کرہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کیا ہے: ﴿وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ﴾ [الإنسان: 8]، ﴿وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ﴾ [البقرة: ١٧٧)کیونکہ ان لوگوں نے صدقہ کیاحالانکہ وہ صدقہ کی ہوئی چیز سے محبت کرتے ہیں، اور ممکن ہے کہ انہیں اس کی حاجت و ضرورت نہ ہو، لیکن ایثار والے لوگ ایسے ہیں کہ انہیں اس کی اشد ضرورت ہے پھر بھی وہ خرچ کردیتے ہیں۔( ابن کثیر: ۴؍۳۳۸)
سوال: کون زیادہ افضل ہیں؟ اپنے نفس پرترجیح دینے والے؟ یا مال کی محبت کے باوجود اسے خرچ کرنے والے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 9

وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٩

(ایسے لوگ کامیاب ہیں) کیونکہ بندہ جب اپنے نفس کے بخل سے بچالیا جاتا ہے تو اس كا نفس اللہ اور اس کے رسول کے اوامرکو بجا لانے کے لئے نرم پڑجاتا ہے،اور وہ مطیع و فرمانبردار ہوکرکھلے دل سےحکم بجا لاتا ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑنے پر راضی ہوجاتا ہے، اگر چہ وہ چیز بندے کے نزدیک محبوب ہو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے لگتا ہے،اوراس طرح سے اسے فلاح وکامرانی حاصل ہوتی ہے۔ (السعدی: ۸۵۱)
سوال: نفس کے بخل سے بچنا فلاح وکامیابی کا ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے؟