قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ
٢٢ ٢٢
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ

١ ١




٢ ٢

٣ ٣
545
سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 22

لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ

اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے، یعنی یہ دونوں چیزیں اکٹھا نہیں ہوسکتیں۔ چنانچہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر حقیقی معنی میں ایمان لانے والا ہو ہی نہیں سکتا ہے جب تک وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل کرنے والا نہ ہوجائے، جیسے: مومنوں سے محبت ودوستی رکھنا، اور جو ایمان نہ لائے اس سے بغض و دشمنی رکھنا۔(السعدی: ۸۴۸)
سوال: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے، اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے بغض رکھنے کے ما بین کیا تعلق ہے؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 22

لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ

بتلاؤکہ تمہیں کوئی ایسا مومن نہیں ملے گا جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھے؛کیونکہ نفس ایمان اس سے محبت رکھنے کی نفی کرتا ہے، جیسے دو ضدین میں سے ایک ضد دوسرے ضد کی نفی کرتی ہے، چناچہ جب ایمان پایا گیا تو اس کے ضد کی نفی ہو گئی، اور وہ ہےاللہ کے دشمنوں سے محبت کرنا، اسی طرح اگر کوئی آدمی اللہ کے دشمنوں سے دل سے محبت کرے تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کے دل میں حقیقی ایمان نہیں ہے۔( ابن تیمیہ: ۶؍۲۵۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کے ساتھ متصف کیوں کیا جبکہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھنے کی نفی کی ہے؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 22

رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ

اس آیت کے اندر ایک انوکھا راز پوشیدہ ہے، وہ یہ ہے کہ جب انھوں نے اللہ کے لئے خویش واقارب سے ناراضگی مول لی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ اس طرح دیا کہ وہ ان سے راضی ہوگیا، اور انہیں ان دائمی نعمتوں اورعظیم فضل سے خوش کردیا جو انہیں عطا کیا۔ (ابن کثیر۔۴؍۳۲)
سوال: اس آیت کی روشنی میں ،اللہ تعالیٰ کا مومنین سے راضی ہونے ، اور ان کا اللہ سے راضی ہونے کے سبب کی وضاحت کرو.

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 22

أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٢٢

(أولئك) یعنی وہ لوگ خالص اللہ تعالیٰ سےمحبت کرنے کی وجہ سےاعلیٰ مقام پر فائز ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔(البقاعی: ۱۹؍۴۰۰)
سوال: اللہ تعالیٰ کی حقیقی جماعت (پارٹی) کی علامت کیا ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 2

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن دِيَٰرِهِمۡ لِأَوَّلِ ٱلۡحَشۡرِۚ

غیر اللہ پر بھروسہ مت کرو، جیسا کہ انہوں نے منافقین پر بھروسہ کیا، کیونکہ جس نے بھی کسی مخلوق پر بھروسہ کیا اس نے اسے ذلت ورسوائی تک پہنچا دیا۔
(البقاعی: ۱۹؍۴۱۱)
سوال: اس شخص کی سزا کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر کسی مخلوق پر بھروسہ کرے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 2

وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمۡ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُواْۖ

یہ (یہود) اپنے قلعوں پر اترانے اور تکبر کرنے لگے، وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ (مسلمان) انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں، اور نہ کوئی ان پر قدرت حاصل کر سکتا ہے، انکے نفوس اس سے مطمئن ہوگئے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس نے غیر اللہ پر بھروسہ کیا، وہ ذلیل ہوا، اور جس نے غیر اللہ کی پناہ لی وہ اس کے لئے وبال جان بن گیا۔ (السعدی: ۸۴۹)
سوال: اس آیت میں توکل علی اللہ پر ابھارا گیا ہے، اور اسباب پر بھروسہ سے روکا گیا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الحشر آیات 0 - 2

يُخۡرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيۡدِيهِمۡ وَأَيۡدِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فَٱعۡتَبِرُواْ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٢

یعنی: جس نے امر الٰہی اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اور اس کی كتاب کو جھٹلایا، اس کے انجام پر غور کرو،دنیا میں رسوا کر دینے والا اللہ کا عذاب اسے کیسے پکڑلیتا ہے، اور اس کے علاوہ اللہ نے اس کے لئےآخرت میں دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ (ابن کثیر: ۴؍۳۳۱)
سوال: بنو نضیر کے واقعے میں کون سی عبرت ہے؟