قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٢ ١٢


ﭿ ١٣ ١٣


١٤ ١٤

١٥ ١٥

١٦ ١٦

١٧ ١٧


١٨ ١٨

ﯿ
١٩ ١٩

٢٠ ٢٠
٢١ ٢١
544
سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 13

فَإِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُواْ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ

یہاں(فَصَلُّوْا)کے بجائے (فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ)؛ كا استعمال ہوا ہے، یعنی نماز ادا کرنے کے بجائے نماز قائم کرنے کا حکم ہے، یہ سمجھانے کے لئے کہ اس سے مراد: نماز کی مکمل پابندی کرنا، اس کے تمام حقوق کی ادائیگی ، اور اس کے کمالیات کی مکمل رعایت کےساتھ نماز پڑھنا ہے، صرف نماز ادا کر لینا مراد نہیں ہے۔(الألوسی: ۱۴؍۲۲۵)
سوال: اس آیت کے اندر (فَصَلُّوْا)کے بجائے (فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ)کیوں کہا گیا ہے؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 13

فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ

یہ دونوں عبادتیں(نماز، زکاۃ) تمام بدنی و مالی عبادات کی اصل ہیں، پس جس نے بھی ان دونوں کو شرعی اصول وضوابط کی روشنی میں ادا کیا تو اس نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کردیا۔ (السعدی: 847)
سوال: خاص طور پر ان دونوں عبادتوں کو اللہ تعالىٰ نے کیوں ذکر کیا ہے؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 13

وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٣

الله اور اس كے رسول کی اطاعت میں اصل اعتبار اخلاص واحسان کا ہوتاہے؛ اسی لئے اللہ تعالىٰ نے فرمایا: (والله خبير بما تعملون) كیونكہ اللہ تعالىٰ کو ان کے اعمال کے متعلق بخوبی علم ہے، اور اللہ تعالیٰ کو ان کے متعلق جو کچھ علم ہے، اسی کی مطابق ان کو جزاملنے والی ہے۔( السعدی: ۸۴۷)
سوال:(وأطيعوا الله ورسوله)کے فورا بعد (والله خبير بما تعملون) کیوں فرمایا؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 14

۞أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مَّا هُم مِّنكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡ

قشیری نے کہا: جس نے اس شخص کی موافقت کی جس پر غصہ کیاگیا ہے تو گویا اس نے اپنے آپ کو اس کے بھی غضب کا مستحق ٹھہرا لیا، جو اس پر غضبناک ہواتھا، چنانچہ جس نے اس شخص سے دوستی رچائی جس پر اللہ تعالىٰ غضبناک ہوا، تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب واجب ہو گیا۔ اور یہی اس کے ذلیل ورسوا اور محروم ہونے کے لئے کافی ہے۔( البقاعی: ۱۹؍۳۸۷)
سوال: جس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوا اس سے دوستی رچانے کی خطرناکی کیا ہے؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 18

يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ ١٨

جو جس پر جیئے گا اسےاسی پر موت آئیگی، جس طرح منافقین اس دنیا میں مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں، اور ان سے قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ بھی مومن ہیں، تو جب قیامت قائم ہوگی، اور اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو اکھٹا کرے گا، تو یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے قسمیں کھائیں گے، جس طرح یہ مومنوں کے سامنے قسم کھا یا کرتے تھے، اور ان کا خیال ہوگا کہ یہ کسی چیز پر ہیں؛ کیونکہ ان کا کفر، نفاق، اور باطل عقائد ان کے دماغ میں راسخ ومضبوط ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ وه دھوکہ کھا گئے، اور انہیں گما ن ہو گیا کہ وہ کسی ایسی چیز پر ہیں، جس کا اعتبار کیاجائے گا، اور اس پر انھیں ثواب ملے گا۔ (السعدی: ۴۸۴)
سوال: منافقین کی دنیاوی اور اخروی حالت میں مشابہت پائی جاتی ہے، وہ کیسے؟

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 20

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ٱلۡأَذَلِّينَ ٢٠

جب یہ لوگ اپنے اتباع ومعاونین کی کثرت کی وجہ سے، اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت كرتے ہیں، تو انہیں دیکھنے والے کو وہم ہو سکتا ہے کہ، یہی لوگ زیادہ معزز ہیں،ان سے زیادہ معزز کوئی نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس ظاہری دھوکہ کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: (أولئك في الأذلين) یعنی:یہی لوگ ذلیل خوار و پستی میں ہیں۔حسن نے کہا: معصیت کےسبب ان کےدلوں میں ذلت وخواری ہے،اگرچہ ان کی سواریوں سے وادی گونجتی ہے۔ (البقاعی: ۱۹؍۳۹۵)
سوال: دلوں پر معصیت ونافرمانی کا کیا اثر ہوتا ہے؟ اس آیت کی روشنی میں واضح کریں.

سورۃ المجادلۃ آیات 0 - 21

كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِيٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ ٢١

زجاج نے کہا: رسولوں کے غلبہ کے دو طریقے ہیں: ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے لئے مبعوث فرمایا، تو وہ لڑائی کے ذریعے غالب ہوئے۔ اور بعض کو لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا، تو وہ اپنے دلائل کے ذریعے غالب ہوئے۔ ( بغوی:۴؍۳۴۹)
سوال: پیغمبر اپنے جھٹلانے والوں پر کیسے غالب آتے ہیں؟ جبکہ بعض پیغمبروں کو ان کی قوم نے قتل کردیا؟