قرآن
ﯦ
ﱓ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ٤ ٤ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
٥ ٥ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ٦ ٦ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ٧ ٧
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٨ ٨ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ٩ ٩ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ١٠ ١٠ ﰐ ﰑ
ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ١١ ١١
وَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ٤
یہاں معیت (ساتھ) سے مراد علم و آگہی کی معیت ہے۔ اسی لئے اللہ نے دھمکی دی اور اعمال کے بدلے کا وعدہ فرمایا ہے اپنے اس فرمان سے: (والله بما تعملون بصير). (السعدی:۸۳۸)
سوال : آیت میں کون سی معیت مراد ہے.
ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسۡتَخۡلَفِينَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَأَنفَقُواْ لَهُمۡ أَجۡرٞ كَبِيرٞ ٧
(مستخلفين فيه) کا مطلب ہے کہ آپ کے قبضے میں جو مال ہے اللہ کا ہے کیونکہ یہ مال اسی کا پیدا کردہ ہے بس یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں اس سے فوائد اٹھانے کا حق عطا کردیا ہےاور مال میں تصرف کا اختیار دے دیا ہے گویا کہ اس بارے میں تمہاری حیثیت صرف دیکھ بھال کرنے کی ہے۔
اس لئے مال کا مالک تمہیں جہاں خرچ کا حکم دے رہا ہے وہاں خرچ کرنے سے تمہارا رکنا اور روکنا درست نہیں ہے۔(ابن جزی:۲؍410)
سوال : (مستخلفين فيه) ایک اہم حقیقت پر دلالت کرتی ہے اسے بیان کیجئے ؟
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ
یعنی خرچ کرو اور فقر وفاقہ کا خوف نہ کرو کیونکہ جس کی راہ میں آپ نے خرچ کیا ہے وہ زمین و آسمان کا مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں ان دونوں کی کنجیاں ہیں اور اسی کے پاس اس کے خزانے ہیں۔(ابن کثیر:۴؍۳۰۷)
سوال : اللہ کا فرمان: (ولله ميراث السماوات والأرض) انفاق کا ذکر کرنے کے بعد آیا ہے اس میں کیاحکمت ہے؟
لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ
فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنا زیادہ اہمیت کا حامل اس لئے ہےکہ اس وقت اسلام کے کمزور ہونے کے سبب لوگ زیادہ حاجت مند تھے اور خرچ کرنے والوں کےلئے مشقت زیادہ تھی سو اجر تکان و مشقت کے لحاظ سے ہے ۔(القرطبی:۲۰؍۲۴۰)
سوال: فتح مکہ سے قبل انفاق عظیم کیوں ہے ؟
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ ١١
قرآن میں جہاں بھی اس طرح قرض کا ذکر ہے(حَسَنًا)سے اس کی قید بھی آئی ہے ۔ یہ قید تین امور کی جامع ہے ۔1۔ مال پاک ہو خراب اور بے کار نہ ہو۔2۔ خوش دلی سے مال نکالا گیا ہواور خرچ کرتے وقت اللہ کی رضا مقصود ہو۔3۔ اس مال کے سبب احسان جتلانے اور تکلیف پہنچانے والی کوئی بات نہ ہو ۔ پہلے امر کا تعلق مال سے ہے دوسرے کا تعلق خرچ کرنے والے اور اللہ کے درمیان سے ہے۔ تیسرے کا تعلق دینے اور لینے والے کے مابین ہے۔( ابن القیم :۳؍128)
سوال :صدقہ کو قرضِ حسن کب کہا جائے گا؟
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ ١١
اس انفاق کو ‘‘قرض حسن’’ کا نام لوگوں کو ابھارنے اور خرچ کی بھر پور آمادگی کے لئے دیا گیا ہے۔ کیونکہ خرچ کرنے والے کو جب یہ معلوم ہو کہ قرض مانگنے والا ادائیگی کا اہل، وفادار اور بھلا ہے تو اس چیز سے اس کا موڈ خوشگوار ہوگا اور دل نرم ہوجائے گا۔(ابن القیم :۳؍۱۲۸)
سوال: انفاق فی سبیل اللہ کو قرض حسن کا نام کیوں دیا گیا؟
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ ١١
قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قرض حسن کا مطلب ہے : صدقہ کرنے والا سچی نیت رکھتا ہو، بہ خوشی دے رہا ہو اس کی رضامقصود ہو دکھاوا ا ور نمائش کی بات نہ ہو اور مال حلال ہو۔(القرطبی:۲۰؍۲۴4)
سوال: قرض حسن کیا ہے؟