قرآن
ﯣ
ﱓ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ٥١ ٥١ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
٥٢ ٥٢ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٥٣ ٥٣ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ٥٤ ٥٤ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ٥٥ ٥٥
ﯤ
ﮂ ﮃ ﮄ ٥ ٥ ﮆ ﮇ ﮈ ٦ ٦
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٧ ٧ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ٨ ٨
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ٩ ٩ ﮛ
ﮜ ﮝ ١٠ ١٠ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ١١ ١١
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ١٢ ١٢ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
١٣ ١٣ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١٤ ١٤ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ١٥ ١٥ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ١٦ ١٦ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ١٧ ١٧ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ١٨ ١٨
وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَآ أَشۡيَاعَكُمۡ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ٥١
(ولقد أهلكنا أشياعكم) مرادوہ گزشتہ امتیں ہیں جنہوں نے وہی کچھ کیاجو تم نے کیا ہے ۔اور انہوں نے جھٹلایا جیسا تم جھٹلارہے ہو۔(فهل من مدَكِر) مد کر یعنی کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ؟ جو اس بات کا شعور رکھتا ہو کہ اگلے پچھلےتمام لوگوں میں اللہ کی سنت ایک ہی ہے اگر اس کی حکمت ان بد قماشوں کی ہلاکت کا تقاضا کرتی تو یہ لو گ بھی انہیں لوگوں جیسے ہیں ۔دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (السعدی:۸۲۸)
سوال: اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کی ہلاکت کے واقعات کو کیوں بیان کیا؟
فِي مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِندَ مَلِيكٖ مُّقۡتَدِرِۢ ٥٥
(مقتدر) کامطلب ہےاس کی قدرت ہر گوشے اور ہر سمت کو شامل ہے اور اس حد تک اس کی قدرت کی پہنچ ہے جس کا ادراک صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے ہی ممکن ہے ۔ جیسا کہ ابھی قریب میں بات گزر چکی ہے۔ چنانچہ وہ انہیں ہر خیر تک پہنچاتا ہے اور ان سے ہر شر کو ہٹاتا ہے۔سو اس مبارک نام میں ظالموں کو سر کرنے کے حوالے سے ایک راز ہے ۔ ( البقاعی:۱۹؍۱۳۷)
سوال: اللہ کی صفت ( مُقْتَدِر) کا مطلب بیان کریں؟
فِي مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِندَ مَلِيكٖ مُّقۡتَدِرِۢ ٥٥
صادق رحمہ اللہ فرماتےہیں: اللہ نے مکانِ صدق کی تعریف فرمائی ہے سو سچے لوگوں کے سوا وہاں کوئی بیٹھنے نہ پائے گا۔(القرطبی:۲۰؍۱۰۹)
سوال: آیت صدق کے مقام پر کس طرح دلالت کرتی ہے ؟
ٱلرَّحۡمَٰنُ ١ عَلَّمَ ٱلۡقُرۡءَانَ ٢ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ ٣ عَلَّمَهُ ٱلۡبَيَانَ ٤
اللہ نے تعلیم قرآنی کو تخلیق انسانی سے جوڑ کر ذکر فرمایا: فرمایا (خلق الإنسان)کیونکہ انسان پراصل نعمت یہی قرآن کی تعلیم ہے پھر اس کے بعد جن نعمتوں کا بیان کرنا چاہا بیان کیا کیونکہ وہ عظیم نعمتوں میں شمار ہیں ۔ ( الألوسی:۱۴؍۹۹)
سوال: تعلیم قرآنی کی نعمت دیگر نعمتوں سے پہلے کیوں بیان فرمایا؟
عَلَّمَ ٱلۡقُرۡءَانَ ٢
اس سورت میں ان مختلف نعمتوں کو شمار کردیا گیا ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہیں اور اس نعمت کو سب سے پہلے بیان کیا جو سب سے زیادہ مقدس، مفید، مکمل، نفع بخش، عظیم ترین بچت کی حیثیت رکھتی ہے، یہ نعمت تعلیم قرآن کی نعمت ہے ۔دراصل یہ نعمت ایسی نعمت ہے جس پر دنیا و آخرت کی سعادت کا مدار ہے اور دونوں کی بھلائیوں کی اصل اور دونوں امور کا ستون ہے ۔(الشوکانی :۵؍۱۳۱)
سوال: سورہ رحمان کی ابتداتعلیم قرآن سے کیوں کی گئی ہے؟
وَأَقِيمُواْ ٱلۡوَزۡنَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُواْ ٱلۡمِيزَانَ ٩
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کے حوالے سےفرماتےہیں :’’ اے آدم کی اولاد عدل کر!جس طرح تجھے یہ پسند ہے کہ تیرے ساتھ عدل کیا جائے ۔اور وفاداری کر جس طرح تجھے اپنے ساتھ وفاداری محبوب ہے ۔ کیونکہ عدل میں لوگوں کے لئے خیر و صلاح ہے۔(القرطبی:۲۰؍۱۱۸)
سوال: آیت کون سی رہنمائی پر مشتمل ہے بیان کیجئے ؟
وَمَآ أَمۡرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٞ كَلَمۡحِۢ بِٱلۡبَصَرِ ٥٠
(وما أمرنا إلا واحدة)سے مراد (مرة واحدة) یعنی ایک دفعہ ہے (كلمح بالبصر) یعنی مخلوق کی بابت میرا فیصلہ پلک جھپکنے سے بھی زیادہ تیز ہوتا ہے ۔ (لمح) کہتے ہیں :اچٹتی نگاہ ڈالنے کو۔(البغوی:۲ ؍۱۰۷)
سوال: اس سورہ کو پڑھنے کے دوران جھٹلانے والی امتوں کے بارے میں اللہ کے فیصلوں کی کوئی مثال ذکر کیجئے؟
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ كَٱلۡفَخَّارِ ١٤ وَخَلَقَ ٱلۡجَآنَّ مِن مَّارِجٖ مِّن نَّارٖ ١٥
یہاں مٹی سے پیدا شدہ مخلوق انسان کی عنصریت کا شرف معلوم ہوتا ہے۔ وہ مٹی جو منافع ،بوجھ اورمضبوطی کا محل ہے برخلاف جناتوں کے عنصر کے کہ وہ آگ ہے جو برائی وفساد اور غصہ و ہلکاپن کا محل ہے ۔ (السعدی:۸۲۹)
سوال: دونوں آیتیں انسان کی عظمت اور جناتوں پر اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں اس کا سبب بیان کیجئے؟