قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦
٤٧ ٤٧ ٤٨ ٤٨
٤٩ ٤٩
٥٠ ٥٠
٥١ ٥١

٥٢ ٥٢
ﭿ ٥٣ ٥٣ ٥٤ ٥٤
٥٥ ٥٥
٥٦ ٥٦
٥٧ ٥٧
٥٨ ٥٨
٥٩ ٥٩
٦٠ ٦٠
٦١ ٦١
٦٢ ٦٢
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١
٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤

٥ ٥
٦ ٦
528
سورۃ النجم آیات 0 - 52

وَقَوۡمَ نُوحٖ مِّن قَبۡلُۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ هُمۡ أَظۡلَمَ وَأَطۡغَىٰ ٥٢

اس کی سب سے بڑی دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے: ﴿فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامًا﴾ [العنكبوت: 14] نوح علیہ السلام ان کے درمیان ساڑھے نو سوبرس رہے ۔کیونکہ جو قوم اتنے لمبے زمانے کے باوجود ایک بے حد مہربان اور خیر خواہ نبی کی دعوت سے اثر نہیں لے سکی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ سب سے زیادہ ظالم اور سرکش تھے۔(الطبری :22؍573)
سوال: اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کوسب سے زیادہ ظالم اور سرکش کیوں کہا؟

سورۃ النجم آیات 0 - 61

وَأَنتُمۡ سَٰمِدُونَ ٦١

(السمود) کامعنی ہوتاہے بے نیازی۔اور اس آیت میں سمود کا جو معنیٰ غفلت اور بھول کا بیان کیا گیا ہے اس میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔کیونکہ بے نیازی ان تمام باتوں کو شامل ہے اور بے نیازی سے یہ تمام چیزیں ضرورواقع ہوں گی۔(ابن القیم :3؍85-86)
سوال: بعض سلف کے یہاں سمود غنا کے معنی میں ہے اور بعض سے یہ وارد ہےکہ غفلت کے معنی میں ہے تو آپ ان اقوال کے درمیان کیسے تطبیق دیں گے؟

سورۃ النجم آیات 0 - 62

فَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ وَٱعۡبُدُواْ۩ ٦٢

اللہ کے لئے سجدے کاخصوصی حکم اس کی فضیلت کا پتہ بتانے کے لئے ہے۔ اور یہی سجدہ عبادت کا خلاصہ اور اس کاراز ہے، سجدے میں دل اور بدن دونوں جھک جاتےہیں اور بندہ اپنے سب سے معززعضو(پیشانی) کو پیر سے روندنے والی حقیر زمین پر رکھ دیتاہے۔(السعدی:۸۲۳)
سوال:اس آیت کی مدد سےعبادات کے درمیان سجدے کامقام آپ کس طرح سمجھ رہے ہیں ؟

سورۃ القمر آیات 0 - 1

ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ ١

اس معجزہ کو قرب قیامت سے جوڑکر نصیحت کاذریعہ بنایاگیاہے۔ مناسبت کچھ اس طرح ہےکہ چاند آسمانی کائنات کاحصہ ہے اور یہ چاند کاجو نظام ہے وہ زمینی کائنات کے نظام پر جاری وساری ہے چنانچہ آسمانی کائنات کے نظام میں اگر کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو وہ عام سی چیز نہیں ہے اس لحاظ سے یہ بات مناسب ٹھہری کہ اس دنیا میں توڑ پھوڑ کے امکانات سے لوگوں کو متنبہ کردیاجائے ۔آیت میں فعل ماضی کا استعمال حقیقی ہے۔(ابن عاشور :27؍168)
سوال: اللہ کے فرمان: (اقتربت الساعة) اور پھر اس کے بعد (وانشق القمر)میں کیاتعلق ہے ؟

سورۃ القمر آیات 0 - 1

ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ

(اقتربت الساعة) کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتانا چاہا ہےکہ وہ گھڑی قریب آچکی ہےجس میں قیامت قائم ہوگی یہ (اقتربت) اصل میں اِفْتَعَلَتْکے وزن پر ہے اور ‘‘قرب’’سے ماخوذ ہے ۔ اللہ کی جانب سے اس قربت کا ذکر قرب قیامت اور دنیا کی ہلاکت سے ڈرانے کے مفہوم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے لوگ قیامت کی ہولناکیوں کے پیش نظر اچانک آجانے سے پہلے اس کی تیاری کرلیں ورنہ یہ نہ ہو کہ قیامت آجائے اور وہ غفلت میں مست پڑے رہیں۔ (الطبری:۲۲؍۵۶۵)
سوال: اللہ نے قرب قیامت کی جو خبر دی ہے اس کا فائدہ بتائیں؟

سورۃ القمر آیات 0 - 3

وَكَذَّبُواْ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرٖ مُّسۡتَقِرّٞ ٣

قشیری رحمہ اللہ کا کہناہے: خواہشات (هوی) کی پیروی کی نحوست سے تکذیب کا وجودہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خواہشات میں مبتلا شخص کے دل پر پردے ڈال دتیا ہے سووہ خیر وفلاح دیکھنے کی قوت کھوبیٹھتا ہے۔ اور رب کی رضا مندی کی اتباع تصدیق سے جڑی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اتباع حق کی برکتوں سے بصیرت کی آنکھیں کھول دیتاہے اور آدمی تصدیق کی توفیق پاجاتاہے۔ ( البقاعی:۱۹؍۹۷)
سوال: خواہشات کی اتباع کا نتیجہ ذکر کریں؟

سورۃ القمر آیات 0 - 3

وَكَذَّبُواْ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرٖ مُّسۡتَقِرّٞ ٣

یعنی ہر عمل اپنے عامل کو لے کر ٹھہراہوا پرسکون ہے۔ بھلائی بھلائی کرنے والے کو لےکر جنت ،اور برائی برائی کرنے والے کو لیکر جہنم میں۔ ( القرطبی:۲۰؍۷۵)
سوال: (وكل أمر مستقر) سے کیا مراد ہے؟