قرآن
ﯟ
ﱒ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٣٦ ٣٦ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ٣٧ ٣٧ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ٣٨ ٣٨ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٣٩ ٣٩ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ٤٠ ٤٠ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
٤١ ٤١ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٤٢ ٤٢ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٤٣ ٤٣ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٤٤ ٤٤ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٤٥ ٤٥
ﯠ
ﯭ ﯮ ٤ ٤ ﯰ ﯱ ﯲ ٥ ٥ ﯴ ﯵ ﯶ ٦ ٦
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكۡرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلۡبٌ أَوۡ أَلۡقَى ٱلسَّمۡعَ وَهُوَ شَهِيدٞ ٣٧
جس نے آیات الٰہى پر دھیان دیا اور ان سے رہنمائى حاصل كرنے كیلئے انہیں بغور سنا اور اس کا دل حاضر رہا تو ایسے شخص كیلئے یہ آیتیں عبرت ونصیحت اور شفا وہدایت ہیں اور جس نے آیتوں كو توجہ سے نہیں سنا بلكہ اعراض وادبار سے كام لیا تو یہ آیتیں اسے كچھ بھى فائده نہیں پہنچائیں گى، كیونكہ وه شخص جذبۂ قبول ہى نہیں ركھتا، اور نہ ہى مذكوره صفتوں سے متصف شخص بتقاضۂ حكمتِ الٰہى ہدایت پاسكتاہے۔(السعدى: 807)
سوال: جو قرآن كو بحضورِ قلب نہیں سنتا اور نہ ہى دھیان دیتا اور متنبہ ہوتا ہے تو كیا وه قرآن سے فائده اٹھا سكتاہے؟
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكۡرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلۡبٌ أَوۡ أَلۡقَى ٱلسَّمۡعَ وَهُوَ شَهِيدٞ ٣٧
(واو) كى جگہ (اَوْ)لانے كا راز یہ ہے كہ آیتوں سے فائده اٹھانے والے دو قسم كےلوگ ہیں: 1۔ ذہین وسمجھ بوجھ ركھنے والے لوگ جو معمولى تنبیہ پر اپنى ہدایت كى فكر كرنےوالے ہوتےہیں، وه دل ودماغ كو متفرق ومختلف جگہوں سے جمع وحاضر ركھنے كے محتاج نہیں ہوتے ، بلكہ سمجھدار وبیدار مغز ہوتےہیں، ہدایت كو قبول كرنےوالے ہوتے ہیں نہ كہ اعراض كرنے والے ، وه صرف ان تك ہدایت پہنچنے كےمحتاج ہوتےہیں كیونكہ وه پورى طرح تیار ومستعد ہوتےہیں۔ 2۔ دوسرى قسم كےلوگ وه ہیں جن كےپاس پہلی قسم کے لوگوں كى طرح استعداد دو صلاحیت نہیں ہوتى ہے، ان كےپاس جب آیتوں اور ہدایتوں كا تذكره ہوتاہے تو وه بغور سنتے اور دھیان دیتےہیں اور قلب وفكر كو جمع كرتےہیں اور اپنى نظر وطریقۂ استدلال سے ان كى صحت وحسن كو جاننے كى سعى كرتےہیں۔(ابن القیم: 3؍16)
سوال: آیت میں (واو) نہ لاكر (اَوْ)لایا گیا ہے اس میں كیا حكمت ہے؟
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ ٱلۡغُرُوبِ ٣٩
یہاں صبر كے معاون امور كا حكم دیا گیا ہے یعنى طلوعِ آفتاب وغروبِ آفتاب سے قبل ، اور راتوں میں اور نمازوں كےبعد الله كى تسبیح وتحمید بیان كرنے سے صبرکی مدد ملتى ہے۔(ابن القیم: 3؍26)
سوال: صبر كے معاون امور كیا ہیں؟
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ ٱلۡغُرُوبِ ٣٩ وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَأَدۡبَٰرَ ٱلسُّجُودِ ٤٠
(فاصبر على ما يقولون) اپنى مذمت اور رسالت كى تكذیب پر صبر كیجئے ، اور ان سے صرف نظر كرتےہوئے اپنے رب كى بندگى واطاعت میں لگےرہئے، اور صبح وشام اور راتوں میں اور نمازوں كےبعد اپنےرب كى تسبیح بیان كیجئے كیونكہ الله كےذ كر واذكار سے دل كو تسلى اور انسیت ملتى ہے اور صبر كرنا آسان ہوجاتاہے۔(السعدى: 807)
سوال: صبر كےبعد تسبیح كے حكم میں كیا حكمت ہے؟
وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ ٱلۡغُرُوبِ ٣٩
رازى كہتےہیں كہ كلمات كا ثواب حكمت ومعرفت كى باغوں سے نكلنے والى قوتوں پر موقوف ہے ، اور ضرورى ہے كہ دل كى آنكھ زبان كى طرح چلے اور حقائق ومعانى كا ادراك كرے ، یعنى تسبیح كا مقصود وہم وخیال اور حواس میں متصور ومترسم ہر چیز سے الله كى تنزیہ وپاكى بیان كرناہے۔ اور الحمد لله كہنا الله كے احسان اور اس كى تخلیقات كا پتہ دیتاہے اور یہ بھى بتاتا ہے كہ وہى ساری نعمتوں كا اكیلا مالك ہے۔(البقاعى: 18؍439)
سوال: تسبیح كا مقصود كیا ہے؟
وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِجَبَّارٖۖ
یعنی آپ اس بات كے مكلف نہیں ہیں كہ آپ انہیں ہدایت قبول كرنے اور ایمان لانےپر مجبور كریں بلكہ آپ كا كام صرف دعوت وتبلیغ ہے۔(ابن كثیر: 7؍412)
سوال: داعى كا عمل تحدید كےساتھ بیان كریں.
وَٱلذَّٰرِيَٰتِ ذَرۡوٗا ١ فَٱلۡحَٰمِلَٰتِ وِقۡرٗا ٢ فَٱلۡجَٰرِيَٰتِ يُسۡرٗا ٣ فَٱلۡمُقَسِّمَٰتِ أَمۡرًا ٤ إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٞ ٥ وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٞ ٦
الله تعالىٰ نے آیت میں مذكوره امور كى خصوصى قسم كھائى ہے كیونكہ یہ چیزیں انوكھى اور عادت كے برخلاف ہیں، اور جو ذات ان چیزوں پر قدرت ركھتى ہے وہى ذات وقت مقرره پر انسانوں كو دوباره زنده بھى كرسكتى ہے۔(الشوكانى : 5؍83)
سوال: ان امور كےساتھ بالخصوص كیوں قسم كھائى گئى ہے؟