قرآن
ﯟ
ﱒ
ﭝ ﭞ ﭟ ١٦ ١٦ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ١٧ ١٧ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ١٨ ١٨ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ١٩ ١٩ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ٢٠ ٢٠ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ٢١ ٢١ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
٢٢ ٢٢ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٢٣ ٢٣ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ٢٤ ٢٤ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٢٥ ٢٥ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ٢٦ ٢٦ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ٢٧ ٢٧ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ٢٨ ٢٨ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٢٩ ٢٩
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٣٠ ٣٠ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٣١ ٣١ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
٣٢ ٣٢ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ٣٣ ٣٣ ﰖ
ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ٣٤ ٣٤ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ﰡ ﰢ ٣٥ ٣٥
وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ ١٦
الله تعالىٰ خبر دےرہاہے كہ وہ رگِ جاں سے بھى زیاده قریب ہے جو انسان كا قریب ترین حصہ ہے اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کررکھا ہے،اور یہ بات انسان كو دعوت دے رہى ہے كہ وه اپنے خالق كے مراقبہ میں رہے جو اس كے ضمیر وباطن سے آگاه ہے، اور اسكے تمام امور میں اس سے قریب ہےاس لئے انسان کو چاہئے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے منع کیا ہے اس لئے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے، اور جس کام کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے ترک نہ کرے ۔(السعدى: 805)
سوال: شہ رگ كے خاص تذكرےمیں كیا حكمت پوشیده ہے ؟ اور ہم اس سے كیا فائده اٹها سكتےہیں؟
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ ١٦
مطلب یہ ہے كہ جس نے انسان كو پیدا كیا اور جو اس كے دل میں پیدا ہونے والے خیالات سے بھى واقف ہے اور اس كے شہ رگ سے بھى زیاده قریب ہے، وه فرشتوں كےانسانى اعمال کو نوٹ كرنے کا محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ ان سے آگاہ ہے، كوئى چیز اس سے مخفى نہیں ہے ،لیکن اسکے باوجود فرشتوں كو عمل نوٹ كرنے کا مكلف کیا یہ چند مقاصد كے حصول كیلئے ہے مثلا قیامت كے دن بندوں پر اتمام حجت قائم کرنا۔(الشنقیطى: 7؍226)
سوال: الله تعالىٰ بندوں كے اعمال سے واقف ہے، كوئى چیز اس پر مخفى نہیں ہے، پھر بندوں كے اعمال نوٹ كرنے كے حكم میں كیا فائده ہے؟
وَجَآءَتۡ سَكۡرَةُ ٱلۡمَوۡتِ بِٱلۡحَقِّۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنۡهُ تَحِيدُ ١٩
(جاءت ) ماضى كا صیغہ موت كے متحقق ہونے اور اس كے قرب پر دلالت كرنے كیلئے استعمال ہوا ہے۔(ابن جزى: 2؍365)
سوال: ماضى كى تعبیر میں بلیغ نكتہ ہے، وه كیا ہے؟
يَوۡمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ ٱمۡتَلَأۡتِ وَتَقُولُ هَلۡ مِن مَّزِيدٖ ٣٠
حضرت ابوہریره (رضی اللہ عنہ) سےروایت ہے كہ رسول اللهﷺ نے فرمایا: جنت وجہنم میں بحث و مناظرہ ہوا۔ جہنم نے كہا: مجھے تكبر وجبر كرنے والوں كا ٹھكانہ بنایا گیا ہے، اور جنت نے كہا: كیا ہوگیا ہے مجھے ، میرے اندر ضعیف ، كمزور اور بےحیثیت لوگ داخل ہوں گے، تو الله تعالىٰ نے جنت سےفرمایا: تو میرى رحمت ہے، تیرے ذریعے میں جس بنده پرچاہوں گا رحم كروں گا، اورجہنم سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسكو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا، اور تم میں سے ہر ایك كو بھرنا ہے، جہاں تك جہنم كى بات ہے تو وه نہیں بھرے گى یہاں تك كہ الله تعالىٰ اپنا قدم ركھ دے گا تووه كہےگى: بس بس اور بھر جائےگى، اور اس كے بعض حصے بعض كےساتھ سمٹ جائیں گے اور الله تعالىٰ كسى مخلوق پر ظلم نہیں كرےگا اور جہاں تك جنت بھرنے كى بات ہے تو
الله تعالىٰ اسكے لئے نئى مخلوق پیدا كر ے گا ۔ (الألوسى: 26؍471)
سوال: اہل جنت واہل دوزخ كےبعض واضح صفتوں كو بیان كیجئے.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٖ ٣٢
(أواب) كا مطلب معصیتوں وگناہوں سے تائب ہوكر الله كى طرف بہت زیاده رجوع كرنے والا ، یعنى بنده گناه كرےگا اور پھر الله كى طرف پلٹ جائےگا۔ ضحاك وغیره نے اسكا یہی معنی بیان كیا ہے۔
اور حضرت ابن عباس وعطاء كےنزدیك (أواب) كا معنى : تسبیح بیان كرنے والا ہے جو آیت : ﴿يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَ﴾ [سبأ: 10] “اے پہاڑو! اس (أواب)كےساتھ بہ رغبت تسبیح پڑھا كرو، اور پرندوں كو بھى (یہى حكم ہے)” سے ماخوذ ہے ۔
اور حكم بن عتیبہ كہتےہیں: (أواب) کا معنیٰ خلوت میں الله كو یادكرنے والا ، اور شعبى ومجاہد كےنزدیك (أواب) وه شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں كو یاد كرتاہے اور الله سے مغفرت طلب كرتاہے اور یہى حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) كا قول ہے ۔
اور عبید بن عمیر اس كى تفسیر میں كہتےہیں : (أواب)وه ہے جو ہر مجلس میں الله سے مغفرت طلب كرتاہے، اور ان ہی سے یہ قول بھى منقول ہے کہ ہم سے بیان کیا جاتاتھا کہ (أواب حفيظ )سے مراد وہ شخص ہے کہ جب اپنی مجلس سے اٹھتاہے تو كہتاہے: “سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ اَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا أَصَبْتُ فِىُ مَجْلِسِىْ هٰذَا” الله تو پاك ہے اور تیرا شكر بجالاتاہوں ، اے الله! مجھ سے اس مجلس میں جوگناه سرزد ہوا ہے اس سےتیرى بخشش طلب كرتاہوں ۔ (البغوى: 19؍454)
سوال: (أواب) كى تین صفتیں بیان كیجئے.
مَّنۡ خَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِ وَجَآءَ بِقَلۡبٖ مُّنِيبٍ ٣٣
اللہ تعالیٰ کے قول (من خشي الرحمن بالغيب)میں لفظ جلالہ “الله” پر (الرحمن) كو ترجیح دی گئی ہے یہ بتانے كیلئے كہ یہ متقى الله سے خوف كھاتاہے اس یقین كےساتھ كہ وه رحمٰن ( بہت رحم كرنے والا) ہے نیز اس میں كنایۃً مشركوں پر رد بھى ہے جو (رحمت) نام كا انكار كرتےتھے،﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ﴾ [الفرقان: 60] ان سے جب بھى كہا جاتاہے كہ رحمٰن كو سجده كرو تو جواب دیتےہیں رحمن کیا ہے؟ (ابن عاشور: 26؍320)
سوال: آیت میں الله كے (رحمٰن )نام كو ترجیح دى گئى ہے ، اس كا فائده كیا ہے؟
وَجَآءَ بِقَلۡبٖ مُّنِيبٍ ٣٣
یعنی لوگوں كى نگاہوں سے دور ره كر خلوت میں الله سے ڈرنا یہى حقیقى خشیت ہے لیکن جہاں تک لوگوں كى نظروں كےسامنے اور ان كى موجودگى میں خدا کے خوف کا تعلق ہے تو یہ ریاء و شہرت ہے جو خشیت سے عاری ہے، بلكہ نافع ومفید خشیت یہ ہے كہ خلوت وجلوت دونوں میں الله كا خوف كھایا جائے۔(السعدى: 806- 807)
سوال: خشیت كو غیب كےساتھ بطور خاص كیوں ذكر كیا گیا ہے؟