قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯞ

ﱒ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ
ﭝ ٥ ٥
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٦ ٦

ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٧ ٧

ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٨ ٨
ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
٩ ٩
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ١٠ ١٠
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ١١ ١١
516
سورۃ الحجرات آیات 0 - 6

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ ٦

فاسق شخص كى خبر مشكوك یا موضوع ہوتى ہے ، اس لئے كہ اسكى دینى حمیت وغیرت كمزور ہوتى ہے اور دینى حمیت وغیرت كى كمزورى كى وجہ سے محظور وممنوع كو وه معمولى حیثیت دیتاہے؛ حتى كہ وه خبر وگواہى جس سے دوسروں یا مصالح عامہ كو نقصان پہونچ سكتاہے اسے بھى معمولى سمجھتاہے اور جب تك اسے توبہ وندامت كى توفیق نہ ملے اپنے حال پر جارى وسارى رہتاہے۔ (ابن عاشور: 26؍231)
سوال: ہمیں فاسق كى خبر كى تحقیق كا حكم كیوں دیاگیاہے؟

سورۃ الحجرات آیات 0 - 7

وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ فِيكُمۡ رَسُولَ ٱللَّهِۚ لَوۡ يُطِيعُكُمۡ فِي كَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ

(لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم) یعنى تم شقى وبدبخت ہوجاتے، “العنت” كے معنى مشكل ومشقت كےہیں، الله تعالىٰ نے (لو يطيعكم) كہا (لَوْاَطَاعَكُمْ) نہیں كہا، یہ بتانے كیلئے كہ وه لوگ چاہتےتھے كہ آپﷺ ان كى اطاعت جارى رکھے جو کہ حق كےخلاف ہے۔بلکہ واجب یہ ہے کہ وہی لوگ آپﷺ كى اطاعت کریں نہ كہ آپﷺ ان كى اطاعت کریں ، اس لئے كہ رسول اللہ ﷺ كى رائے دوسروں كى رائے سے زیاده بہتر وافضل ہے۔اگر آپﷺلوگوں كى اطاعت كریں گے تو لوگ ہلاك ہوجائیں گے، اس لئے ضرورى ہے كہ آپﷺ كى تابعدارى كى جائےاور آپ كى طرف رجوع كیا جائے، اس آیت میں انہی باتوں كى طرف اشاره ہے (ولكن الله حبب إليكم الإيمان) (ابن جزى: 2؍275)
سوال: آیت سے سمجھ میں آتاہے کہ وہ وضعى قوانین جو اسلامى شریعت كےمخالف ہیں، ان میں مشقت وہلاكت ہے۔ اسكى وضاحت كیجئے.

سورۃ الحجرات آیات 0 - 7

وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِي قُلُوبِكُمۡ وَكَرَّهَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكُفۡرَ وَٱلۡفُسُوقَ وَٱلۡعِصۡيَانَۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلرَّٰشِدُونَ ٧

(رشد)كامعنى طریق حق پر سختى سے جم جاناہے… ، رشد وہدایت كو وہى پہنچے گا جو حق كو مانےگا یقیناً الله تعالىٰ ایسے شخص كى صحیح رہنمائى كرےگا اور ندامت کے منافی ان کی كوششوں كو كامیابى عطا كرےگا ،جو خیر وبھلائى كاقصد كرےگا اور كارِخیر میں محنت ومشقت كرےگا، الله تعالىٰ فرماتاہے: ﴿وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ فِينَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ﴾ ۔(البقاعى : 7؍229)
سوال: رشد وہدایت كا عظیم مقام ہے ، بنده اس مقام تك كیسےپہونچےگا؟

سورۃ الحجرات آیات 0 - 10

إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةٞ

یعنی مسلمان آپس میں دینى بھائى بھائى ہیں نہ كہ نسب میں ، اسی وجہ سے کہاگیا ہے کہ دینى اخوت نسبى اخوت سے زیاده پائیدار ہے؛ كیونكہ نسبى اخوت اختلافِ دین كى بناپر منقطع ہوجاتى ہے جبكہ دینى اخوت اختلاف نسب سےمنقطع نہیں ہوتى۔(القرطبى: 19؍383)
سوال: دینى ونسبى اخوت میں سب سے زیاده پائیدار كونسى اخوت ہے اور كیوں؟

سورۃ الحجرات آیات 0 - 10

إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةٞ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَ أَخَوَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ١٠

(رحمت ) كا انتخاب ہوا ہے؛ كیونكہ تقوىٰ كا حكم مومنوں کے درمیان اخوت كى حقیقت كے اثبات كےبعد آیا ہے اور اسلامى بھائیوں كاباہمی برتاؤ رحمت وشفقت كى بنیاد پر ہوتاہے، اس لئے بدلہ بھی اس کے ہم جنس سے ہی ہوگا۔(ابن عاشور: 26؍245)
سوال: آیت كریمہ میں( رحمت) كو كیوں اختیار كیا گیاہے؟

سورۃ الحجرات آیات 0 - 11

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٞ مِّن قَوۡمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُواْ خَيۡرٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٞ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهُنَّۖ

سلف افراط كى حد تك مسخرےپن سے بچتےتھے، عمرو بن شرحبیل كہتےہیں كہ میں كسى شخص كو بكرى سے دودھ پیتے دیكھ لوں اور اس پر ہنسوں تو مجھے ڈر ہے كہ كہیں میں بھى اسى طرح نہ ہوجاؤں ، اور عبد الله بن مسعود (رضی اللہ عنہ )كہتےہیں: ابتلاء وامتحان قول پر مبنى ہے، اگر میں كسى كتےكا مذاق اڑاؤں تو ڈر ہے كہ میں كہیں كتا نہ ہوجاؤں۔ (القرطبى: 19؍383)
سوال: سلف قرآن پر كس طرح عمل كرتےتھے، اس آیت كى تفسیر كى روشنى میں وضاحت كیجئے.

سورۃ الحجرات آیات 0 - 11

وَلَا تَلۡمِزُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ

الله تعالىٰ فرماتاہے : اے مومنو! تم میں سے كوئى كسى دوسرے كى غیبت نہ كرے اور نہ ہى ایك دوسرے پر طعنہ زنى كرے، اور فرمایا: اپنے بھائى پر طعنہ زنى كرنے والا خود پر طعنہ زنى كرتا ہے، اس لئے كہ تمام مومن اپنے معاملہ كى تحسین وبھلائى اور خیر كى محبت میں ایك ہى شخص كى مانند ہیں جو ایك پر ضرورى ہے وہى دوسروں پر بھى ضرورى ہے ، لہذا حدیث میں آتاہے: (اَلْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ اِنِ اشْتَكٰى رَأْسُهٗ تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ) مسلمان بھائى آپس میں ایك بدن كى طرح ہیں، اس كے كسى عضو كو مرض لاحق ہوتا ہے تو اس كے سارے اعضاء بخار وبےچینى سے چیخ پڑتےہیں۔ (الطبرى: 22؍298)
سوال: آیت میں (أنفسكم) كى تعبیر كیوں لائى گئى ہى؟ اور كیا انسان خود پر عیب لگا سكتاہے؟