قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٤ ٢٤




ﭿ
٢٥ ٢٥



٢٦ ٢٦




٢٧ ٢٧

٢٨ ٢٨
514
سورۃ الفتح آیات 0 - 25

وَلَوۡلَا رِجَالٞ مُّؤۡمِنُونَ وَنِسَآءٞ مُّؤۡمِنَٰتٞ لَّمۡ تَعۡلَمُوهُمۡ أَن تَطَـُٔوهُمۡ فَتُصِيبَكُم مِّنۡهُم مَّعَرَّةُۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ لِّيُدۡخِلَ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ لَوۡ تَزَيَّلُواْ لَعَذَّبۡنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا ٢٥

بسا اوقات مشكل وممنوع چیزوں میں انسان کو سعادت وخوش بختى نظر آتى ہے حالانكہ اس كا باطن زہر آلود ہوتا ہے، تو الله تعالىٰ كا ان چیزوں سے منع كرنا باعثِ رحمت ہے گرچہ بظاہر عذاب لگ رہا ہے ، لہذا الله كى قضاء وقدر پر سرتسلیم خم كیجئے لیكن خیر كو پانے كى بھر پور كوشش كیجئے اور اس كےلئے حریص رہئے اور اس كے كھو جانے پر شرمند ه ہوئیے لیكن قضائے الہى پر اعتراض سے بچئے، اور آیت میں ایك فائده یہ بھی ہے كہ الله تعالىٰ مومنوں كى خاطر كافروں سے عذاب كو روك لیتاہے۔(البقاعى: 18؍329)
سوال: قضائے الٰہی حكمت ورحمت كےساتھ مربوط ہے،آیت سے اس كى وضاحت كیجئے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 26

إِذۡ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ

حمیت كى نسبت جاہلیت كى طرف اس كى حقارت وقباحت كو اجاگر كرنے كى غرض سےہے كیونكہ یہ اہل جاہلیت كے اخلاق میں سےہے، اور اصطلاحِ قرآن میں قابلِ مذمت نسبت ہے، قرآن میں ہے : ﴿يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ ظَنَّ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ﴾ [آل عمران: 154] وه الله تعالىٰ كے ساتھ ناحق جہالت بھرى بدگمانیاں كررہے تھے۔ اور﴿أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ﴾ [المائده: 50] كیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت كا فیصلہ چاہتےہیں۔ (ابن عاشور: 26؍194)
سوال: (حمیت )كى نسبت جاہلیت كى طرف كرنے كا فائده بتائیے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 26

فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

اس سكون كاثمره وفائده یہ ہے كہ خبر ِالٰہى پر مكمل یقین واطمینان حاصل ہوگا اور اوامر واحكام كى اطاعت وفرمانبردارى ہوگى ، كوئى شبہ خبر میں شك پیدا نہیں كرےگا اور نہ ہى كوئى چاہت واراده اطاعت ِاوامر میں رخنہ ڈالےگا، دلوں میں پیدا ہونے والے خدشات ، بدگمانیاں شیطانى وسوسے آئیں گے ، اور یہ سب بنده كیلئے ابتلاء وامتحان كى چیزیں ہیں ان كو جھٹكنے اور دور كرنے اور دلوں میں جگہ نہ دینے سے بنده كا ایمان مضبوط ہوگا، الله كےنزدیك اس كے درجات بلند ہوں گے، لہٰذا مومن یہ تصور نہ کرے کہ ان سب سے ان کے مقام و مرتبے کم ہوجائیں گے۔ (ابن القیم: 2؍459)
سوال: مومنوں كےدلوں پر سكینت نازل كرنے كا فائده كیا ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 26

إِذۡ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ ٱلتَّقۡوَىٰ

جب (جاہلى حمیت )جاہلیت سے بھرپور اقوال وافعال كو جنم دیتی ہےتو الله تعالىٰ نے اس كا مقابلہ كرنے كیلئے مومنوں كے دلوں میں سكینت ڈال دی ہے اور ان كى زبانوں پر كلمۂ تقوىٰ جارى كردیاہے یعنی ( سكینت) حمیت جاہلیہ كے مقابلےكیلئے اور كلمۂ تقوىٰ فسق وفجور كے مقابلے كیلئے ہے۔ (ابن القیم: 2؍458- 459)
سوال: مومنوں كےدلوں پر انعام الٰہى سكون اور زبانوں پر كلمۂ تقوى كا سبب كیا ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 26

وَأَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ ٱلتَّقۡوَىٰ

كلمۂ تقوىٰ (لا الہ الا الله) ہے ، اسے تقوىٰ كى طرف منسوب كیا گیا ہے، كیونكہ اسى كےذریعے شرك سے بچاجاسكتاہے، یعنى یہ كلمہ ہر تقوىٰ كى ا صل وبنیاد ہے۔ (الألوسى: 13؍271)
سوال: كلمۂ تقوى سے كیا مراد ہے؟ اور ہمیشہ مومن اس كا التزام كیوں كرے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 27

لَّقَدۡ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءۡيَا بِٱلۡحَقِّۖ لَتَدۡخُلُنَّ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ

اس میں اشاره ہے كہ مسجدِ حرام میں مسلمان الله كى مشیئت سے داخل ہوں گے نہ كہ اپنى طاقت وتدبیر سے۔ (الألوسى: 13؍273)
سوال: آیت میں مشیئت كى قید كا كیا فائده ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 28

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦۚ

كئى جگہوں پر قرآن نے علمى نظری قوت اور عملى قوتِ ارادی كى افادیت كا ذكر كیا ہے، بطور نمونہ الله كا ارشاد ہے: (هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله) (الهدى) سے مراد علمِ كامل اور دین ِحق سے مراد عملِ كامل ہے، جیسا كہ اس آیت میں ہے: ﴿أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰر﴾ [ص: 45] ہاتھوں اور آنكھوں والے۔ (ابن تیمیہ: 6؍38)
سوال: مسلمان دو طرح كى قوت كے محتاج ہیں، وه دونوں كیا ہیں؟