قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١
٢ ٢

٣ ٣


ﭿ ٤ ٤


٥ ٥



٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨

٩ ٩
511
سورۃ الفتح آیات 0 - 1

إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا ١

زہری(رحمہ اللہ) فرماتے ہیں : صلح حدیبہ سے عظیم فتح کوئی فتح نہ تھی ، اس کے بعد کافروں ومسلمانوں میں میل ملاپ بڑھ گیا، کافروں نے مسلمانوں کی تہذیب وزبان کو پرکھا ، اور اسلام ان کے دلوں میں رچ بس گیا ، تین سالوں میں بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے اور ملتِ اسلامیہ میں اضافہ ہو گیا ۔ (البغوی: 4؍166)
سوال: صلح حدیبیہ ایک فتح تھی ، ایک نصرت تھی ، کیسے؟

سورۃ الفتح آیات 1 - 2

إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا ١ لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ

اللہ تعالىٰ نے اس فتح پر کئی چیزوں کو مرتب کرتے ہوئے فرمایا: (ليغفر لك الله ماتقدم من ذنبك وما تأخر) مغفرتِ ذنوب کی وجہـ اللہ بہتر جانتا ہےـیہ ہے کہ آپ کی صلح کے سبب بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور طاعت وبندگی میں بے شمار اضافہ ہوا ، اور صلح کے شروط وبنود پر آپ ﷺ نے تحمل وصبر کا بے انتہا مظاہرہ کیا جو صرف اولو العز م پیغمبر ہی کر سکتے ہیں ۔ (السعدی: 791)
سوال: فتح پر اللہ تعالىٰ نے نبی ﷺ کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کو مرتب کیا ہے ، کیوں؟

سورۃ الفتح آیات 1 - 2

إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا ١ لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٢

اور اللہ تعالىٰ نے ہدایت ونصرت وغلبہ کو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے ، اس لئے کہ یہ دونوں کامل سعادت و کامیابی کی بنیادیں ہیں ، ہدایت اللہ اور اس کے دین کی معرفت اور اس کی مرضی اورفرمانبرداری کے مطابق جینے کا نام ہے اور یہی علمِ نافع اور عملِ صالح ہے ، اور نصرت وغلبہ کا مطلب اللہ کے دین کو حجت وبرہان اور سیف وسنان کے ذریعہ نافذ کرنے کی مکمل قدر ت وقوت حاصل ہونے کا نام ہے ، یعنی دلیلوں وحجتوں سے مخالفین کے دلوں پر راج کریں اور طاقتوں وقوتوں سے ان جسموں پر غلبہ پائیں۔ اللہ تعالىٰ کامیابی کے ان دونوں اصولوں کو بکثرت اکٹھے ذکر کرتا ہے کیوں کہ انہی کے ذریعہ دعوتِ دین کا فریضہ اپنے کمال کو پہنچےگا اور تمام باطل ادیان پر اللہ کے دین کو غلبہ حاصل ہوگا ۔ (ابن القیم:3؍56)
سوال: ان آیتوں میں اللہ تعالىٰ نے اپنے رسول کے لئے ہدایت ونصرت کو اکٹھے کیوں بیان کیا ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 2

لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٢

حضرت مغیرہ بن شعبہ(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ لمبی نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے پیر سوج جاتے تھے آپ سے کہا جاتا : کیا
اللہ تعالىٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کر دیا ہے؟ آپ جواب میں فرماتے : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (الشوکانی: 5؍46)
سوال: آپ اتنی دیر تک نماز کیوں پڑھتے تھے کہ آپ کے پیر سوج جاتے تھے جبکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہیں؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 4

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِيمَٰنٗا مَّعَ إِيمَٰنِهِمۡۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٤

رازی(رحمہ اللہ) کہتے ہیں: سکون کا مطلب دراصل اللہ کے وعدے پر اعتماد وبھروسہ اور حکم الٰہی پر صبر کرنا ہے لیکن یہاں سکون سے مراد وہ معنیٰ مقررہ ہے جو فوزوفلاح اور قوت وروحانیت سے عبارت ہے، جو خائف و غمگین افراد کے لئے سکون واطمینان اور تسلی کا باعث ہے اور اسی سکون کا اثر وقار ، خشوع وخضوع اور تمام معاملات میں خود اعتمادی ہے ۔(البقاعی: 18؍284)
سوال:مومن بندے پر سکونت کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 4

لِيَزۡدَادُوٓاْ إِيمَٰنٗا مَّعَ إِيمَٰنِهِمۡۗ

کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، اور یہی بلاشبہ حق بات ہے ،اور یہی اہل سنت وجماعت کا مسلک ہے۔ (الشنقیطی 7؍394)
سوال: اس آیت سے اہل سنت وجماعت کے بعض عقیدہ کا ثبوت ملتا ہے ، وہ عقیدہ کیا ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 9

لِّتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُۚ

یہاں تعزیر کا معنى مدد واعانت کے ذریعہ آپ کوقوت پہنچانا ہے اور یہ اطاعت وفرمانبرداری اور تعظیم کا متقاضی ہے ، اور توقیر کا مطلب آپ کی عزت ، ادب اور تعظیم ہے۔ (الطبری: 22؍208)
سوال:آیت میں تعزیر وتوقیر سے کیا مراد ہے؟ اور وہ کیسے کی جائے گی؟