قرآن
ﯜ
ﱒ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
٢٠ ٢٠ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ٢١ ٢١ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٢٢ ٢٢ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٢٣ ٢٣ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٢٤ ٢٤ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ٢٥ ٢٥ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٢٦ ٢٦
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ٢٧ ٢٧ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٢٨ ٢٨ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٢٩ ٢٩
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ ٢٢ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فَأَصَمَّهُمۡ وَأَعۡمَىٰٓ أَبۡصَٰرَهُمۡ ٢٣
اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ شخص جوامر بالمعروف کا فریضہ انجام دے گا اور اہلِ منکَر سے جہادکرے گا تو وہ زمین میں فساد پھیلانے اور قطعِ رحمی سے محفوظ رہے گا ، اور جو شخص اس دینی فریضہ کو ترک کر دے گا وہ اہلِ منکر کی گرفت میں آجائے گا۔( البقاعی: 7؍169)
سوال: مسلم معاشرے پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کے ترک کرنے پر کیا انجام مرتب ہوتا ہے؟
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ ٢٢
رشتہ داریاں دو قسم کی ہیں: ایک عام اور دوئم خاص ، عام رشتہ داریوں میں دین کی رشتہ داریاں آتی ہیں ، اس رشتہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ ایمان پر جمے رہیں ، اہل ایمان سے محبت کریں ، ان کی مدد کریں ، انہیں نصیحت کریں ، ان کے مابین انصاف کریں اور انہیں نقصان پہنچانے سے بچیں اور ان کے معاملات میں عدل سے کام لیں اور ان کے واجب حقوق کو ادا کریں یعنی مریضوں کی عیادت کریں ، میتوں کو غسل دیں ، نمازِ جنازہ پڑھیں اور دفن وغیرہ میں شریک رہیں اور خاص رشتہ داریوں میں والدین کی طرف سے آنےوالی رشتہ داریاں ہیں۔ ان قرابتداروں کے خصوصی حقوق ہیں یعنی نان ونفقہ ، خبر گیری ، ان کی ضرورت کے اوقات میں دیکھ ریکھ سے آنکھ نہ چرانا ، اور ان کے عام حقوق کو ادا کرنا بدرجۂ اولىٰ اہم ہے ، رشتہ داروں کے حقوق میں تعارض وتصادم ہو تو سب سے قریبی رشتہ داروں کے حقوق مقدم ہوں گے۔ (القرطبی: 19؍277)
سوال: رحم سے مراد کیا ہے ؟ اور ان کے حقوق کیا ہیں؟
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ ٢٢ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فَأَصَمَّهُمۡ وَأَعۡمَىٰٓ أَبۡصَٰرَهُمۡ ٢٣
آیت: (أولئك الذين لعنهم الله)کے مستحق وہ لوگ ہیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور قطعِ رحمی کرتے ہیں یہی لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہیں ، اللہ نے ان کے کانوں کو بہرا کر دیا ہے یعنی اپنے کانوں سے جو مواعظ سنتے ہیں انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں ، اور اللہ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے ، یعنی ان کی عقل ماری گئی ہے جس کی وجہ سے اللہ کی نشانیاں ان پر واضح نہیں ہوتیں اور عبرت کی چیزوں اور ان کے ثبوتوں سے وہ نصیحت نہیں پکڑتے ۔( الطبری: 22؍178)
سوال: آیت میں اللہ نے کن لوگوں پر لعنت بھیجی ہے ؟اور ان کے آنکھوں کے اندھے پن کا کیا معنى ہے؟
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ ٢٤
گویا دل بند دروازوں کے قائم مقام ہے جس پر تالا پڑا ہوا ہے جب قفل کھولا نہیں جاتا تو دروازہ کھولنا اور اندر رسائی حاصل کرنا محال ہے ، بعینہ جب تک دل کےمہر اور تالے کھولے نہیں جاتے ایمان وقرآن دل کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ (ابن القیم: 2؍454)
سوال: آیت میں دلوں کے کھولنے اور قرآن کے دلوں کےاندر تک پہنچنے کا ایک طریقہ بتایا گیا ہے ، اس کی وضاحت کیجئے.
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ ٢٤
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کیا وہ قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تاکہ وہ جھنجوڑنے والی نصیحتوں ، واضح نشانیوں اور قطعی دلیلوں کو جان سکے جو عقل وفہم رکھنے والوں کے لئے کافی ہوتی ہیں اور کفر وشرک اور معصیت کے ارتکاب سے روک دیتی ہیں۔ (الشوکانی: 5؍38)
سوال: قرآن میں حصولِ تدبر کی علامت کیا ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَى ٱلشَّيۡطَٰنُ سَوَّلَ لَهُمۡ وَأَمۡلَىٰ لَهُمۡ ٢٥
اللہ تعالىٰ مرتدین کی داخلی کیفیت وحالت سے آگاہ کر رہا ہے کہ انہوں نے ہدایت وایمان کو ترک کرکے راہِ کفر وضلال کو دلیل وبرہان کے ساتھ اختیار نہیں کیا ہے بلکہ ان کے دشمن(شیطان) کے ان کو گمراہ کرنے، ان کی تزیین اور ان کی ترغیب کی بناء پر ہے۔ (السعدی:789)
سوال: بعض مسلمانوں کے مرتد ہونے کا سبب کیا ہے؟
فَكَيۡفَ إِذَا تَوَفَّتۡهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ ٢٧ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱتَّبَعُواْ مَآ أَسۡخَطَ ٱللَّهَ وَكَرِهُواْ رِضۡوَٰنَهُۥ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٢٨
مرتدین وہ راہ چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اللہ کی رضا مندی کو برا جانا ، دونوں باتیں ایک دوسرے کے قائم مقام ہو سکتی ہیں لیکن دونوں کو جمع کرنے میں لطیف اشارہ یہ ہے کہ فرشتوں کا ان کے چہروں پر مارنا اس مناسبت سے ہے کہ انہوں نے اللہ کو ناراض کرنے کے لئے اقدام واقبال سے کام لیا ، اور فرشتوں کا ان کے سرینوں پر مارنا اس مناسبت سے ہے کہ انہوں نے اللہ کی رضامندی کو برا جاننے کے لئے اعراض وادبار سے کام لیا۔ (ابن عاشور: 26؍119)
سوال: مشرکین نے اللہ کی ناراضگی کی راہ اختیار کیا اور اللہ کی رضامندی کو برا جانا ، اس میں اور فرشتوں کا بوقتِ وفات ان کے چہروں وسرینوں پر مارنے میں کیا مناسبت ہے؟