قرآن
ﯚ
ﱑ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ١٤ ١٤ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ١٥ ١٥ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ١٦ ١٦ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
١٧ ١٧ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ١٨ ١٨ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
١٩ ١٩ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٢٠ ٢٠
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ٢١ ٢١ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٢٢ ٢٢
مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُونَ ١٥
(من عمل صالحا فلنفسه) اللہ کے بندوں میں سے جس نے بھی اللہ کی اطاعت کی، اس کے اوامر واحکام کو مانا، اس کی منع کردہ چیزوں سے دور رہا، تو اس نے یہ نیک عمل اپنے نفس کے لئے کیا، اور اس طرح اس نے اللہ تعالىٰ کےعذاب سے چھٹکارا طلب کیا، گویا اس نے اپنے رب کی کسی اور چیز کے بجائے اسی لئے اطاعت کی، کیونکہ یہ چیز کسی اور کو فائدہ نہیں پہنچائے گی، اور اللہ تعالىٰ کی ذات تو ہر عمل کرنے والے کے عمل سے بے نیاز ہے۔(ومن أساء فعليها) اللہ تعالىٰ کہہ رہا ہے: اور جس نے دنیا میں اللہ تعالىٰ کی نافرمانی، اور اس کے اوامر ونواہی کی مخالفت کرکے اپنے عمل کو خراب کیا، تو اس نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا، اس لئے کہ اس طرح کرکے اس نے اپنے ہی نفس کو ہلاکت میں ڈالا، اور اپنے رب کی ناراضگی مول لی، اور اپنے نفس کے سوا کسی اور کو نقصان نہیں پہنچایا۔ (الطبری: 22؍68)
سوال: اللہ تعالىٰ نے نیک اور برے عمل کو،اس کے کرنے والے کے ساتھ کیوں جوڑ دیا ہے؟
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦ وَءَاتَيۡنَٰهُم بَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِۖ فَمَا ٱخۡتَلَفُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ١٧
اس میں اس امت کو اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کا راستہ اپنائے، اور ان کا طور طریقہ اختیار کرے۔ (ابن کثیر: 4؍152)
سوال: یہ دونوں آیتیں بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں، تو ہم امت محمدیہ کو ان سے کیا فائدہ اٹھانا چاہیئے؟
وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦
قرآن میں جہاں کہیں بھی بنی اسرائیل کی فضیلت آئی ہے تو وہاں مقصد ان کے گزرے ہوئے حالات کو بیان کرنا ہے، کیونکہ جب قرآن نازل ہوا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالىٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِۦ﴾ [البقرة: ٨٩]، یعنی: جب ان کے پاس وہ چیز آئی جسے وہ پہلے سے جان چکے تھے تو انھوں نے اس کا کفر -انکار-کیا، تو کافروں پر اللہ تعالىٰ کی لعنت ہو’’۔ اور یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالىٰ نے قرآن میں ان کا فضل جہاں بھی بیان کیا ہے اس سے مقصود ان کا گزرا ہوا زمانہ ہے جس میں وہ فضل وشرف والے تھے، نہ کہ قرآن کے نزول کے وقت۔ (الشنقیطی: 7؍198-199)
سوال: بنی اسرائیل کی پوری دنیا پر فضیلت کا مطلب واضح کیجئے؟
فَمَا ٱخۡتَلَفُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ
یعنی: آپ ﷺ سے حسد کرتے ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ (بغيا) کا معنى یہ ہے کہ: ان میں سے بعض نے بعض پر زیادتی کی، اپنی برتری و سرداری کا مطالبہ کیا ، اور انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا، تو اے محمد ﷺ اسی طرح آپ کے زمانے کے مشرک بھی ہیں، ان کے پاس -اللہ تعالىٰ کی طرف سے- واضح نشانیاں آئیں، مگر انہوں نے قیادت و سیادت کے چکر میں اس سے اعراض کیا۔ (القرطبی: 19؍153)
سوال: وہ کونسی ظلم و زیادتی ہے جو ان سےسرزد ہوئى؟
ثُمَّ جَعَلۡنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ فَٱتَّبِعۡهَا
جب اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالىٰ نے بنی اسرائیل کو ایک شریعت عطا کی، اور انہیں اس میں اختلاف کرنے پر دھمکایا، تو ان کو دی گئی دھمکی ہمارے لئے بھی دھمکی ہے، چنانچہ کلام کے سیاق وغیرہ کے تقاضے کے مطابق ہماری دھمکی کی صراحت کردی، اور ساتھ ہی ساتھ ہماری شریعت کی فضیلت و بلندی کی طرف واضح اشارہ بھی کردیا: (ثم جعلناك على شريعة من الأمر...) (البقاعی: 7؍100)
سوال:آیت کریمہ : (ثم جعلناك على شريعة من الأمر) کا اس سے پہلے کی آیتوں سے کیا تعلق ہے؟
هَٰذَا بَصَٰٓئِرُ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ ٢٠
یہاں اللہ تعالىٰ نے اہل یقین کو اس چیز کے ساتھ خاص کردیا ہے کہ قرآن ان ہی کے لئے بصیرت، ہدایت اور رحمت کا باعث ہے، اس لئے کہ انھوں نے ہی قرآن سے فائدہ اٹھایا ہے، نہ کہ اس کافر نے جس نے قرآن کو جھٹلایا، چنانچہ قرآن اس کے لئے اندھا پن اور غم کا سامان ثابت ہوا۔ (الطبری: 22؍72)
سوال: یہاں اللہ تعالىٰ نے کیوں اہل یقین کو اس چیز کے ساتھ خاص کردیا کہ قرآن ان کے لئے بصیرت، ہدایت اور رحمت کا باعث ہے؟
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجۡتَرَحُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجۡعَلَهُمۡ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَوَآءٗ مَّحۡيَاهُمۡ وَمَمَاتُهُمۡۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ٢١
ابراہیم بن اشعث نے فرمایا: میں نے فضیل بن عیاض کو اکثر دیکھا کہ رات کی ابتداء سے لے کر اس کی انتہاء تک یہ اور اس طرح کی آیتیں دہراتے رہتے۔، پھر کہتے: کاش میں جانتا کہ تم کس گروہ میں سے ہو؟ اور اس آیت کو “مبکاۃ العابدين” -یعنی: عبادت گزاروں کو بہت زیادہ رلانے والی- کہا جاتا تھا۔ (القرطبی: 19؍157)
سوال: اس آیت کے ساتھ سلف کا کیا رویہ تھا؟