قرآن
ﯘ
ﱑ
ﭜ ﭝ ١١ ١١ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ١٢ ١٢ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٣ ١٣ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ١٤ ١٤ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ١٥ ١٥ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ١٦ ١٦ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ١٧ ١٧ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ١٨ ١٨ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ١٩ ١٩ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٢٠ ٢٠ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٢١ ٢١ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٢٢ ٢٢
وَٱلَّذِي نَزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءَۢ بِقَدَرٖ فَأَنشَرۡنَا بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗاۚ
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یعنی: بلا اندازہ قوم نوح کی طرح نہیں نازل کیا یہاں تک کہ وہ غرق ہوگئے، بلکہ ایک مناسب اندازے سے نازل کیا، چنانچہ نہ ہی ایسى طوفانی بارش بھیجی کہ غرق کردے، اور نہ ہی ضرورت سے کم نازل کیا، تاکہ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لئے رزق کا سامان ہو۔ (القرطبی: 19؍11)
سوال: پانی کے نزول کے تئیں (بقدر) یعنی: ایک اندازے سے- کہنے میں کیا راز پنہاں ہے؟
وَٱلَّذِي نَزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءَۢ بِقَدَرٖ فَأَنشَرۡنَا بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗاۚ كَذَٰلِكَ تُخۡرَجُونَ ١١
زمین کی پیدائش سے استدلال، اور اس پر احسان جتلانے کے بعد اللہ تعالىٰ نے زندگی گزارنے کے لئے جو مختلف وسائل پیدا کئے ہیں ان سے استدلال کیا، اور احسان جتلایا، اور وہ پانی ہے جس کیوجہ سے زمین لوگوں کے لئے صالح اور مناسب رزق اگاتی اور غذا کا سامان کرتی ہے۔ (ابن عاشور 25؍170)
سوال:قرآن دلائل کو پیش کرنے میں تدریج و ترتیب سے کام لیتا ہے، اس آیت کى روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟
وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡفُلۡكِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ مَا تَرۡكَبُونَ ١٢ لِتَسۡتَوُۥاْ عَلَىٰ ظُهُورِهِۦ ثُمَّ تَذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ إِذَا ٱسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ وَتَقُولُواْ سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقۡرِنِينَ ١٣ وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ١٤
(وإنا إلى ربنا لمنقلبون)، یعنی: ہم مرنے کے بعد اسی -اللہ -کی طرف جانے والے ہیں، اور ہمارا حتمی چلنا اسی کی طرف ہوگا۔ اور یہ دنیاوی سفر سے اخروى سفر کی طرف توجہ دلانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالىٰ کے فرمان: ﴿وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيۡرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقۡوَىٰ﴾ [البقرة: ١٩٧] (یعنی: توشہ اختیار کرو، پس بیشک بہترین توشہ تقوى کا توشہ ہے) میں دنیاوی توشے سے اخروی توشے کی طرف توجہ دلائی گئى ہے۔ اور اللہ تعالىٰ کے فرمان: ﴿وَرِيشًاۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡرٌ﴾ [الأعراف: 26]، (یعنی: اور تقوى کا لباس یہ زیادہ بہتر ہے)میں دنیوى لباس کے ذریعہ اخروی لباس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ (ابن کثیر 4؍126)
سوال:کتنی ہی دفعہ دنیاوی امور ہمیں اخروی امور کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان آیتوں کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟
وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ١٤
یعنی: ہم لوٹنے والے ہیں، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے سوار اپنے چلنے اور سفر سے متعلق چیزوں پر غور کرے، اور اس سے وہ بڑا سفر یاد کرے جس میں وہ اللہ تعالىٰ کی طرف روانہ ہوگا، اس طرح وہ اِس سفر سے اُس سفر کے معاملات درست اور مرتب کرے، اور ایسا کام نہ کرے جو اس کے مخالف اور منافی ہو، اور اس بات کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا یہ سفر کسی شرعی اور درست کام کے لئے ہو۔ اسی طرح اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ سفر ایک پر خطر چیز ہے، لہذا اس میں آخرت کو پیش نظر رکھے اور اس کی یاد سے غافل نہ ہو۔ (الألوسی:25؍96)
سوال:سواری پر سوار ہونا، سفر کرنا، یا اس طرح کی چیزیں کس طرح آخرت کی یاد دلاتی ہیں؟
لِتَسۡتَوُۥاْ عَلَىٰ ظُهُورِهِۦ ثُمَّ تَذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ إِذَا ٱسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ وَتَقُولُواْ سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقۡرِنِينَ ١٣ وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ١٤
مسلم شریف کی روایت ہے کہ آپ ﷺ جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر فرماتے:(سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون) پھر اس کے بعد کہتے: «اللهم إني أسألك في سفري هذا البِرَّ والتقوى، ومن العمل ما ترضى. اللهم هَوِّن علينا السفر واطوِ لنا البعيد. اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل. اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا»،اور جب سفر سے اپنے گھر لوٹتے تو کہتے: «آيبون تائبون إن شاء الله، عابدون، لربنا حامدون». البقاعي:7/13.
سوال: اس آیت پر عمل کس طرح ہوگا؟
أَمِ ٱتَّخَذَ مِمَّا يَخۡلُقُ بَنَاتٖ وَجَعَلُواْ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ ٱلَّذِينَ هُمۡ عِبَٰدُ ٱلرَّحۡمَٰنِ إِنَٰثًاۚ
ان لوگوں -کفار ومشرکین- نے فرشتوں پر کس قدر جرأت کی اور انہیں عبودیت اور تذلل کے مرتبہ سے اٹھا کر ایسی جگہ پہنچا دیا جو اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہے،پھر ان کا مرتبہ مذکر سے گھٹا کر انھیں عورتوں کی صف میں شامل کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی پاک ہے جس نے اس کی ذات پر جھوٹ گڑھنے والوں اور اس کے رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے تناقض کو ظاہر کردیا۔ (السعدی: 764)
سوال: مشرکوں کی بات میں واضح تناقض ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟
أَوَ مَن يُنَشَّؤُاْ فِي ٱلۡحِلۡيَةِ وَهُوَ فِي ٱلۡخِصَامِ غَيۡرُ مُبِينٖ ١٨
زیب و زینت اور نزاکت میں پلنا اور پرورش پانا منجملہ عیب دار اور نا پسندیدہ امور میں سے ہے، اور یہ عورتوں کی صفات میں سے ہے، اور انہیں کے لئے لائق اور زیبا ہے۔ اس لئے مردوں کو اس سے بچنا اور دور رہنا چاہیئے، اور اس طرح زندگی گزارنی چاہیئے جیسا کی عمر رضی اللہ عنہ نے رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: پہننے اور کھانے میں سادگی اختیار کرو، اور سادی زندگی گزارو،اور اگر کوئی شخص اپنے نفس کو مزین کرنا چاہے تو تقوىٰ کے لباس سے اپنے باطنی نفس کو مزین کرے۔ (الألوسی: 25؍99)
سوال: کیا زیب و زینت میں غلو کرنا، اور نزاکت اختیار کرنا مردوں کو زیبا دیتا ہے؟ اور کیوں؟