قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯗ

ﱑ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ٤٥ ٤٥
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٤٦ ٤٦
ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٤٧ ٤٧
ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٤٨ ٤٨
ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ٤٩ ٤٩
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٥٠ ٥٠
ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ٥١ ٥١
488
سورۃ الشورى آیات 0 - 45

وَتَرَىٰهُمۡ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ

یعنی: اللہ تعالىٰ کی جو نافرمانی انہوں نے ماضی میں کی ہو گی اس کی وجہ سے ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ (ابن کثیر: 4؍122)
سوال: قیامت کے دن وہ کیوں ذلیل ہوں گے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 45

وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ فِي عَذَابٖ مُّقِيمٖ ٤٥

رہا ان کے اپنے نفس کا خسارہ تو وہ اس بنا پر کہ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور رہا ان کے گھر والوں کا خسارہ تو وہ اس طرح کہ یا وہ بھی جہنم میں
ہوں گے اور ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے، یا وہ جنت میں تو ہوں گے لیکن ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے گا اور ان کے بیچ دیوار حائل کر دی
جائے گی۔ (الشوکانی: 4؍543)
سوال: نفس اور اہل وعیال کے خسارے کی کیفیت بیان کیجئے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 47

ٱسۡتَجِيبُواْ لِرَبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ مَا لَكُم مِّن مَّلۡجَإٖ يَوۡمَئِذٖ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٖ ٤٧

اس آیت اور اس طرح کی دیگر آیتوں میں مجرد آرزو کی برائی کی گئی ہے، اور بندے کو اس کے ہر معاملے میں موقع سے -جائز- فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ تاخیر میں آفتیں چھپی ہوتی ہیں۔ (السعدی: 761)
سوال: مذموم آرزو کیا ہے اور کیا عمل کو موخر کرنا درست ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 48

فَإِنۡ أَعۡرَضُواْ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظًاۖ

یعنی: آپ ان کے اعمال کے نگراں اور محافظ نہیں ہیں کہ ان لوگوں کا ان اعمال پر محاسبہ کریں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ: آپ ان کے اس طرح ذمہ دار نہیں ہیں کہ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں آپ ان کے پیچھے پڑے رہیں ۔ یعنی: آپ انہیں ایمان لانے کے لئے زبردستی نہیں کرسکتے۔ (القرطبی: 18؍500)
سوال: داعی کی دعوت پر اگر مدعو لبیک نہ کہے تو ایسی حالت میں اس کے لئےاس آیت میں دلاسہ اور تسلی ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 48

وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ فَرِحَ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَإِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ كَفُورٞ ٤٨

اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت کا نزول خوشی منانے اور تکبر کرنے کے لئے نہیں ہوتا، بلکہ اسے عطا کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اسی طرح آزمائش اور پریشانی کا آنا کفران نعمت اور جزع فزع کے لئے نہیں، بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ جس کی طرف سے وہ چیز آئی ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے، یعنی: اللہ تعالىٰ کی طرف لوٹا جائے، اور اس سے اس کو دور کرنے کا سوال کیا جائے۔ (الألوسی: 25؍75)
سوال: اچھی اور بری دونوں حالتوں میں ایک مومن بندے پر کیا کرنا واجب ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 48

وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَإِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ كَفُورٞ ٤٨

یعنی: جو نعمتیں اس پر گزر چکی ہیں اور جن نعمتوں سے وہ ماضی میں محظوظ ہو چکا ہے ان کو بھول کر ان کا انکار کرنے لگتا ہے، اور اسے صرف موجودہ -پریشانی کی- حالت یاد رہ جاتی ہے۔ (ابن کثیر: 4؍122-123)
سوال: گزشتہ نعمتوں کا خیال رکھنے میں مومن اور کافر کے درمیان کیا فرق ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 49

لِّلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثٗا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ ٤٩

اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے : عورتوں کا ذکر اس لئے پہلے ہے تاکہ ان کی کمزوری کا خیال کرتے ہوئے ان کے دیکھ بھال کی خصوصی وصیت کی جائے، خاص طور سے اس لئے بھی کہ ابھی کچھ دنوں پہلے تک -زمانہ جاہلیت میں- انہیں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ نیز حدیث شریف میں آیا ہے کہ: “جسے اللہ تعالىٰ نے ان بچیوں کے ذریعہ آزمایا، اور اس نے ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے اوٹ اور پردہ ہوں گی”۔ (الألوسی: 2؍75-76)
سوال:اس آیت اور حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کیجئے کہ کس طرح اسلام نے عورت کی تکریم اور اس کی حفاظت کی ہے؟