قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٠ ٣٠


٣١ ٣١
٣٢ ٣٢
ﭿ
٣٣ ٣٣


٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥

٣٦ ٣٦



٣٧ ٣٧

٣٨ ٣٨
480
سورۃ فصلت آیات 0 - 30

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ

فرمان بارى: (قالوا ربنا الله ثم استقاموا) نے كمال اسلامى كے دونوں اصل كو جمع كر دیا ہے، چنانچہ فرمان بارى: (قالوا ربنا الله) سے اشاره كمال نفسانى كى طرف ہے ، اور وه معرفت حق ہے ہدایت پانے كیلئے، اور معرفت خیر ہے اس پر عمل كرنے كیلئے... اور فرمان بارى: (ثم استقاموا) سے اعمال صالحہ كى اساس کی طرف اشاره ہے، اور وہ حق پر استقامت ہے۔ (ابن عاشور: 24؍283)
سوال: فرمان بارى: (قالوا ربنا الله ثم استقاموا) نے كمال اسلامى كے دونوں اصل كو كیسے جمع كر دیا ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 30

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: استقامت یہ ہے كہ تم امر ونہى پر قائم رہو اور لومڑى كى طرح پیترا مت كاٹو۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الله كیلئے عمل كو خالص كرلو۔ اور على رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فرائض كو ادا كرو۔ (البغوى: 4؍65- 66)
سوال: آیت میں استقامت سے كیا مراد ہے ؟ اس كى حقیقت بیان كریں.

سورۃ فصلت آیات 0 - 31

نَحۡنُ أَوۡلِيَآؤُكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ

یعنى جو فرشتے ان کے پاس آتے ہیں وہى انہیں یہ بشارت دیتےہیں كہ (ہم تمہارے ساتھى ہیں) مجاہد نے كہا: یعنى ہم یہاں بھى ویسے ہى تمہارے قرین ساتھى رہیں گے جیسے دنیا میں تھے، پھر قیامت كےدن كہیں گے كہ جب تك تم جنت میں چلےنہیں جاتے ہم ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ (القرطبى: 18؍418)
سوال: آیت میں ایك فائده مذكور ہے جسے مومنین فرشتوں سےاٹھا سكتےہیں، بتائیے وه كیا ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 33

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٣٣

یعنى(سب سے زیادہ اچھی بات والا وہ شخص ہے جو) الله كےبندوں كو اللہ کی طرف بلائے ، اور ساتھ ہى خود بھى ہدایت پر ہو، ایسى صورت میں اسكا نفع خوداسكے لئے بھى ہے اور دوسروں كیلئےبھى ، یعنى یہ فائده لازم اور متعدى دونوں ہے، اور ایسا شخص ان لوگوں میں سے نہیں ہے جودوسروں كو بھلائى كا حكم كرتےہیں اور خودبھلائی پر عمل نہیں كرتے، اور برائى سے دوسروں كو منع كرتےہیں اور خودبرائی سے نہیں بچتے، بلكہ یہ لوگ بھلا ئى بھى كرتےہیں اور برائى سے دور رہتےہیں، اور مخلوق كو انكے خالق كى طرف بلاتےہیں۔ (ابن كثیر: 4؍102)
سوال: ایك سچے داعى كی علامت كیا ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 35

وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ٣٥

یعنى اس عمده خصلت(برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالنے) كى توفیق انہیں كو ملتى ہے جو تكلیف ده چیزوں پر صبر كرتےہیں، اور اپنے نفسوں كو اللہ کی پسندیدہ چیزوں پر مجبور كرتےہیں ، كیونكہ نفس انسانى كى یہ فطرت ہے كہ برائى كا بدلہ برائى سے دے اور اسے معاف نہ كرے، پھر وہ احسان کا معاملہ كیسے كرسكتى ہے؟ لیکن جب انسان اپنے نفس كو صبر دلا لیتاہے، اور اپنے رب كا حكم بجا لاتا ہے، عظیم ثواب سے آگاه ہوتا ہے، اور یہ جانتاہے كہ برائى كا بدلہ برائی سے لینے سے اسے كچھ بھى فائده دینے والا نہیں ہے، بلکہ عداوت میں مزید شدت ہى پیدا ہوگى، نیز یہ جانتا ہے كہ اس پر احسان کرنے سے اس كى قدر ومنزلت کم نہیں ہوگی بلكہ وه جانتا ہے كہ جو الله كیلئے تواضع اپناتا ہے الله اس كا مقام بلند كرتا ہے، تو ایسى صورت میں برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے کامعاملہ اس كےلئے آسان ہوجاتا ہے اور ایسے نیك كام وه لذت اور حلاوت محسوس کرتے ہوئے كرتا رہتاہے۔ (السعدى: 749)
سوال: ایسى حالت صرف صبر كرنے والوں اور بڑے نصیب والوں كیلئے ہى كیوں ثابت ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 35

وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ٣٥

(عمدہ خصلت کی توفیق سب کونہیں ملتی) كیونكہ یہ خاص بندوں كى خصلتیں ہیں جن كے ذریعے بنده دنیا وآخرت دونوں جگہ بلندى پاتاہے ، اور یہ مكارم اخلاق كے عظیم خصلتوں میں سے ہے۔ (السعدى: 749)
سوال: آیت میں الله كے خاص بندوں كى ایك علامت بیان کی گئی ہیں، بتائیے وه كیا ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 36

وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ٣٦

پہلےجب الله تعالىٰ نے انسانی دشمنوں كےساتھ کس ہتھیار سے مقابلہ کیاجائے گا، اس كا ذكر كیا یعنی كہ ان كى برائى كا بدلہ احسان سے دیا جائے ،تو اس كے بعد اللہ تعالیٰ جنی دشمنوں کو بھگانے کا طریقہ بیان كررہاہے اور وہ یہ ہے کہ ایسى صورت میں جنات كے شر سے الله كى پناه اور حمایت مانگو، ارشاد بارى ہے: (وإما ينزغنك من الشيطان نزغ) یعنى كسى بھى وقت تم شیطان كى طرف سے كسى كچوكے كا احساس كرو ، یعنى اس كے وسوسوں كا، اسكى طرف سے برائیوں كے مزین كرنے كا، خیر سے كاہل بنانےكا، اور كسى گناه كے كرنے اور اسكى بات ماننے کا احساس کرو ۔ (فاستعذ بالله) تو ایسى صورت میں اپنی محتاجی کا اظہار کرتے ہوئے الله سے مانگو كہ وہ تمہیں پناه دےاور اسكے شر سے محفوظ ركھے۔ (السعدى: 750)
سوال: ہم جناتوں میں سے دشمنوں كو كیسے دفع كرسكتے ہیں؟