قرآن
ﮎ
ﰻ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٢٨٢ ٢٨٢
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيۡنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى فَٱكۡتُبُوهُۚ
قرض کو لکھ لینے کا حکم دراصل مال کی حفاظت کرنے اور شک وشبہ دور کرلینے پر ابھارنا ہے اور اگر قرضدار پرہیزگارہو تو لکھ لینے میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ (القرطبی:۴؍۴۳۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے قرض کے لین دین اور اس جیسے دیگر معاملات کو لکھ لینے کا حکم کیوں دیا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيۡنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى فَٱكۡتُبُوهُۚ
قرض کے تمام عہد وپیمان اور معاملات کو لکھ لینے کا حکم ان کی سخت ضرورت کی وجہ سے ہے کیونکہ نہ لکھنے کی صورت میں غلطی،بھول چوک ،باہمی نزاع واختلاف اور جھگڑا لڑائی جیسی بڑ ی برائیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ (السعدی: ۱۱۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے قرضوں کو لکھ لینے کا حکم کیوں دیا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيۡنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى فَٱكۡتُبُوهُۚ
قرض کا لین دین دراصل آپسی معاملات کے جاری رہنے کا ایک بڑا سبب ہے۔اس لئے کہ ایک شخص جو مال کو تجارت وکاروبار کے ذریعہ بڑھانے کی صلاحیت تو رکھتا ہے لیکن اس کے پاس مال کی کمی ہوتی ہے لہذا وہ قرض کے ذریعہ تجارت ،صنعت وحرفت اور کھیتی باڑی زراعت میں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرتا ہے۔ اور اسی طرح ایک خوشحال ومالدار آدمی جو عیش وآرام کا دلدادہ ہوتا ہے، اس کی دولت اس کے سامنے سے ختم ہوتی چلی جاتی ہے حالانکہ وہ اس دولت کا محتاج اور ضرورت مند ہوگا گرچہ ایک عرصہ کے بعد ہی سہی۔پس ایسی صورت میں وہ قرض کا لین دین نہیں کریگاتو اس کے مال کا نظام بگڑجائیگا اور وہ خالی ہاتھ رہ جائیگا۔ (ابن عاشور:۳؍۹۸)
سوال: اسلام میں قرض کے لین دین کی اجازت دینے کی کیا حکمت ہے؟
وَلۡيَكۡتُب بَّيۡنَكُمۡ كَاتِبُۢ بِٱلۡعَدۡلِۚ
قرض کا معاملہ لکھنے والے کاتب کے لئے ضروری ہے کہ وہ معاہدے اوردستاویزلکھنے کے طریقوں اور فریقَین میں سے ہر ایک پر لازم ہونے والی اور تحریر کوقابلِ اعتماد بنانے والی چیزوں غرض ساری باتوں کو اچھی طرح جاننے والا ہو اس لئے کہ اس کے بغیرعدل وانصاف کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ (السعدی: ۱۱۸)
سوال:قرضوں کا معاملہ لکھنے میں کس طرح کے کاتب پر اعتماد کیا جائے؟
فَإِن لَّمۡ يَكُونَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٞ وَٱمۡرَأَتَانِ مِمَّن تَرۡضَوۡنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ
گواہ کا عادل ہونا شرط ہے اور عدالت سے مراد یہ ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچنے والااورصغیرہ گناہوں پر اصرارنہ کرنے والا ہو۔اسی طرح گواہ کے لئے مروءت بھی شرط ہے ۔یہ صفت اخلاقیات سے تعلق رکھتی ہےجس کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ ان کو چھوڑنے والا بے شرم قرارپاتا ہے ۔ اور اس سے مراد ہے:اچھے اخلاق اور اچھی ہیئت وسیرت والا ہونا اور لوگوں کے ساتھ معاملات نیز پیشہ وعمل میں اچھا ہونا چاہیے۔
چنانچہ اگر آدمی اپنی ذات اور شخصیت سے کسی ایسی چیز کو ظاہر کرتاہے جس کو ظاہر کرنے سے عام طورپر لوگ شرم محسوس کرتے ہیں (لیکن یہ نہیں شرماتا) تو اس کی وجہ سے اس میں ،مروء ت کی کمی مانی جائیگی اورایسے شخص کی گواہی رد کردی جائیگی۔ (البغوی:۱؍۳۰۹)
سوال: مروء ت اور عدالت کی صفات سے کیا مراد ہے؟
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ٢٨٢
یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اس کاتقویٰ اختیار کرے گا ،اللہ اسے علم عطاکرے گا۔یعنی اس کے دل میں ایسا نور پیدا کردے گا جس کی بدولت وہ دل میں ڈالی گئی باتیں سمجھ لیگابسا اوقات اللہ تعالیٰ اس کے دل میں پہلے ہی فیصلہ کرنے کی اورحق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کی صلایت دے دیتاہے جس سے اسے حق وباطل کی تمیز ،صحیح اور غلط کی پہچان حاصل ہوجاتی ہے۔ (القرطبی:۴؍۴۶۴)
سوال:بندہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے علم کس طرح پاتا ہے؟
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ٢٨٢
قرض اور اس سے متعلق معاملات کی آیتوں کو تقویٰ کا حکم دینے کے بعد اللہ کی صفتِ علم پر ختم کرنا، موقع ومحل سے انتہائی مناسبت رکھتا ہے ۔اس وجہ سے کہ لین دین اور معاملات کرنے والے لوگوں میں سے حیلہ بازی اور ہیرا پھیری کرکے ہر کوئی اپنا حصہ بڑھانا اور سارا گھی اپنی روٹی پر کھینچنا چاہتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ کے حکم اور صفتِ علم سے اختتامِ آیت کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اللہ کے دیئے گئے حکم کی تعمیل پر رغبت دلائی جائے۔ (البقاعی:۱؍۵۴۹)
سوال:ان معاملات کی آیتوں کو تقویٰ کا حکم دے کر(اللہ کی ) صفتِ علم کے ساتھ کیوں ختم کیا گیا؟