قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٦ ٢٦


٢٧ ٢٧

ﭿ


٢٨ ٢٨



٢٩ ٢٩

٣٠ ٣٠

٣١ ٣١

٣٢ ٣٢
ﯿ
٣٣ ٣٣
470
سورۃ غافر آیات 0 - 26

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُونِيٓ أَقۡتُلۡ مُوسَىٰ وَلۡيَدۡعُ رَبَّهُۥٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمۡ أَوۡ أَن يُظۡهِرَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡفَسَادَ ٢٦

فرعون كےغرور اورواقعات و معاملات میں قلتِ فكر وتدبرنے اسے ایسے گمان پر آماده كرركھا تھا كہ اپنے دین كےخلاف ہر چیز كو فساد سمجھتا تھا، اس لئے کہ فرعون كےپاس عارضی فائدے اور اپنے دین سے انسیت و محبت کے سوا اپنے دین كى كوئى دلیل وحجت بھى نہیں تھى ۔ (ابن عاشور: 24؍125)
سوال: آباء واجداد كےعادات واطوار اگر فاسد ہوں تو یہ ہدایت كى راه كا روڑا بن جاتےہیں ، اس بات كى وضاحت كیجئے.

سورۃ غافر آیات 0 - 27

وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٖ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ ٢٧

جو شخص حساب وكتاب كےدن پر سچا ایمان نہ رکھتا ہو وه احسان پر ثواب كا خواہاں نہیں ہوتاہے، اور نہ برائى بدسلوکی، اور بدعملی پر خوف کھاتا ہے۔ (الطبرى: 21؍375)
سوال: موسیٰ علیہ السلام نے بطور خاص اس شخص سے اللہ کی پناہ کیوں طلب کی، جو حساب كےدن پر ایمان نہیں ركھتا ہے ؟

سورۃ غافر آیات 0 - 28

وَقَالَ رَجُلٞ مُّؤۡمِنٞ مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَكۡتُمُ إِيمَٰنَهُۥٓ أَتَقۡتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ ٱللَّهُ وَقَدۡ جَآءَكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ مِن رَّبِّكُمۡۖ

الله نے آل فرعون کے ایك مومن آدمى كى تعریف بیان كى ہے جو اپنا ایمان چھپا ركھا تھا۔ الله نے اپنى كتاب میں اسے بیان كیا، مقدس مصاحف میں اس كلام كا تذكره كیا جسے اس نے كافروں كى ایك مجلس میں كہاتھا۔ اب ذرا اس سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ كا موازنہ كیجئے جنہوں نے مكے میں تلوار سونت كر على الاعلان كہاتھا “والله لا اعبد الله سرا بعد اليوم” (الله كى قسم! آج كے بعد میں الله كى خفیہ عبادت نہیں كروں گا)۔ (ابن عطیہ: 4؍555)
سوال: یہ آیت فضائل صحابہ پر دلالت كررہى ہے ، اسكى وضاحت كیجئے.

سورۃ غافر آیات 0 - 28

وَإِن يَكُ كَٰذِبٗا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهُۥۖ وَإِن يَكُ صَادِقٗا يُصِبۡكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي يَعِدُكُمۡ

یہ کلام ایسا نہیں ہےكہ اس آدمى كو موسیٰ علیہ السلام كى رسالت وصداقت میں كوئى شك تھا، بلكہ یہ حکیمانہ و مشفقانہ اسلوب خطاب ہے جو انہیں اذیت و تکلیف دینے سے ، تنازل اپنانے اور ایذاء رسانى سے باز رکھنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ (القرطبى: 18؍348- 349)
سوال: كیا آل موسیٰ كے مومن آدمى كا یہ قول موسیٰ علیہ السلام كى صداقت پر شك كى بنیاد پر تھا؟ نیز یہ بھى بتائیے كہ اس اسلوب سے ہم كون سا دعوتى اسلوب سیكھ سكتےہیں؟

سورۃ غافر آیات 0 - 28

وَإِن يَكُ صَادِقٗا يُصِبۡكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي يَعِدُكُمۡ

یہاں (كل) نہیں ، اس مومن بندے نے (بعض) كا لفظ استعمال كیا، حالانكہ وه سب عذاب انہیں پہنچےگا جس كا موسیٰ علیہ السلام وعده دلا رہےتھے، لفظ بعض کا انتخاب اس لئے تھاتاكہ ان سے نرم گداز گفتگو ہو، موسیٰ علیہ السلام كیلئے كسى بھى تعصب سےگریز ہو، فرعون اور اسكى قوم سے خیرخواہى كا اظہار ہو، توامید ہے كہ وه لوگ حق قبول كرلیں۔ (ابن جزى: 2؍280)
سوال: آل فرعون كے اس مومن بندے نے (بعض الذي يعدكم) كیوں كہا؟ حالانكہ انہیں وه سارا عذاب پہونچے گا جس كا ان سے وعده ہے.

سورۃ غافر آیات 0 - 30

وَقَالَ ٱلَّذِيٓ ءَامَنَ يَٰقَوۡمِ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُم مِّثۡلَ يَوۡمِ ٱلۡأَحۡزَابِ ٣٠

(وقال الذي آمن) اس مومن بندے نے اپنى قوم كو دوباره دین کی دعوت دی ، ان كى ہدایت سے مایوس نہیں ہوا، جیسا كہ الله كى طرف دعوت دینے والے ناامید نہیں ہوتےہیں، برابر لوگوں كو رب كى طرف بلاتے رہتےہیں، کوئی انہیں اس كا م سے روك نہیں سكتا، جسے دعوت دیتے ہیں اسكى سركشى بھی انہیں تکرار دعوت سے باز نہیں ركھ پاتى ہے۔ (السعدى : 737)
سوال: آیت میں ، اصحاب دعوت كیلئے مایوس نہ ہونے كےسلسلے میں ایك عظیم ہدایت ہے، اسے بیان كیجئے.

سورۃ غافر آیات 0 - 32

وَيَٰقَوۡمِ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ ٱلتَّنَادِ ٣٢

قیامت كےدن ہر شخص كو اس كےامام كے ذریعے پكارا جائےگا، وه خود بھى ایك دوسرے كو آواز دیں گے، جنت والے جہنم والوں كو ، جہنم والے جنت والوں كو پكاریں گے۔ اعراف والوں كو بلایا جائےگا، خوش بخت وبدبخت كو نداء دى جائےگى كہ فلاں ابن فلاں سعادت مند ہے اب اسے كبھى بدبختى كا سامنا نہ ہوگا اور فلان ابن فلاں بدبختى كا شكار ہوگیا اب وه كبھى خوش بخت نہیں ہوسكتا۔ اور جب موت كو ذبح كردیا جائےگا تو پكار كر كہا جائےگا: اے اہل جنت ! اب ہمیشہ رہنا ہے ، كبھى موت نہیں آئےگى، اور اے اہل دوزخ! تمہیں بھى ہمیشہ ہمیش عذاب چکھنا ہے ، اب كبھى موت بھی نہیں آئےگى۔ (البغوى: 4؍42)
سوال: قیامت كےدن كو (يوم التناد ) كیوں كہا گیا ہے؟