قرآن
ﯕ
ﱐ
ﭝ ﭞ ﭟ ١٧ ١٧ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ١٨ ١٨ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ١٩ ١٩ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ٢٠ ٢٠ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ٢١ ٢١ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٢٢ ٢٢ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ٢٣ ٢٣ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ٢٤ ٢٤ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٢٥ ٢٥
إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٧
كیونكہ الله ہر شى كا علم ركھتاہے، كوئى بھى چیز اسكے علم سے باہر نہیں ہے، اس لئے كسى كا بدلہ اس لئے موخر نہیں ہوگا كہ وه كسى اور میں مشغول ہوگیا، جس طرح وه بیك وقت سب كو روزى دیتاہے اسى طرح ایك ہى لمحے میں سب كے محاسبے پر بھى قادر ہے۔ (القرطبى: 18؍341)
سوال: الله تعالىٰ اپنے بندوں كا انتہائى تیزى سے حساب كتاب كرےگا، اس بارے میں رب كى عظمت بیان كیجئے.
وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡأٓزِفَةِ إِذِ ٱلۡقُلُوبُ لَدَى ٱلۡحَنَاجِرِ
قیامت كو (الأزفة)كہاگیا ہے كیونكہ قیامت قریب ہے، اور ہر آنے والى چیز قریب ہى ہوتى ہے (إذ القلوب لدى الحناجر كاظمين) ایسا اس لئے ہوگا كیونكہ خوف كیوجہ سے دل اپنى جگہ سے ہٹ جائیں گے، اتھل پتھل میں حلقوم تك آجائیں گے نہ یہ اپنى جگہ واپس لوٹیں گے نہ ہى منہ كےراستے باہر نکلیں گے كہ مرجائیں اور راحت نصیب ہوجائے ۔ (البغوى: 4؍39)
سوال: قیامت كو (الأزفة) كیوں كہاگیا ہے ؟ اور دل کے حلق تك آنے کی کیفیت کیا ہوگی؟
يَعۡلَمُ خَآئِنَةَ ٱلۡأَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِي ٱلصُّدُورُ ١٩
الله تعالىٰ خبر دےرہا ہے كہ اس كا علم كامل اور ہر چیزپر محیط ہے ، چاہے وه بڑی ہو یا چھوٹی ، کم ہو یا زیادہ ، موٹى ہو یا باریك ، تاکہ انسان اللہ کے علم کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سے خوف کھائے اور كماحقہ اس سے حیاء کرے ، اور تقویٰ اختیار کرے ، اور اس كے مراقبے میں اس یقین کے ساتھ لگا رہے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ (ابن كثیر: 4؍77)
سوال: اس آیت كے وه عملی فائدےكیا ہیں جن سے ایك مومن مستفید ہوتاہے؟
يَعۡلَمُ خَآئِنَةَ ٱلۡأَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِي ٱلصُّدُورُ ١٩
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كہ یہ وه آدمى ہے جو لوگوں كےساتھ بیٹھا ہوتاہے ، وہاں سے كوئى عورت گزرتى ہے تو وہ لوگوں سے نظریں چراکراسے دیكھتا ہے، نیز انہیں سے مروى ہےكہ یہ وه شخص ہے جو كسى عورت كو نہارتا ہے اور جب اس كے ساتھى دیكھ لیتےہیں تو نظریں جھكا لیتاہے پھر جب دیکھتا ہے کہ اس کے احباب غفلت میں ہیں تو پھر چپکے سے اسے دیکھنے لگتا ہے لیکن جب ان کی نظر پڑتی ہے تو پھر وہ اپنی نظریں جھکالیتا ہے۔ اور الله تعالىٰ اسكے بارے میں جانتا ہے كہ وه عورت كى پوشیده چیزیں دیكھنا چاہتاہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما كہتےہیں كہ (وما تخفي الصدور) كا مطلب یہ ہے كہ الله یہ بھى جانتا ہے كہ اگر اسے خلوت مل جائےتو آیا آدمى عورت كےساتھ زنا كرےگا یا نہیں ۔ (القرطبى: 18؍343)
سوال: آنكھوں كى خیانت كیسے ہوتى ہےاور ایسے لوگ دلوں میں کیا چھپاتے ہیں؟
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ ٢٣
الله تعالىٰ نے فرعون كے ساتھ موسیٰ علیہ السلام كا قصہ رسول الله ﷺكو اس لئے سنایا تاكہ آپ ﷺكو اس سے تسلى حاصل ہو، صبر كا حوصلہ ملے، اور یہ یقین ہوجائے كہ آزمائش خواه كتنى بھى سخت ہو، اسكے بعد آسانى آتى ہے، اور الله تعالىٰ آپ ﷺكى قوم والوں كے خلاف آپ كى ضرور مدد فرمائےگا جیسا كہ اس نے فرعون كے مقابلے میں موسیٰ علیہ السلام كى مدد كى تھى۔ (الجزائرى: 4؍527)
سوال: فرعون كے ساتھ موسیٰ علیہ السلام كا قصہ ذكر كیا گیا ہے ، بتائیے كہ ماقبل كى آیتوں سے اسكى كیا مناسبت ہے؟
إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَقَٰرُونَ فَقَالُواْ سَٰحِرٞ كَذَّابٞ ٢٤ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ ٱقۡتُلُوٓاْ أَبۡنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ وَٱسۡتَحۡيُواْ نِسَآءَهُمۡۚ وَمَا كَيۡدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ٢٥
ان تینوں (فرعون، ہامان اورقارون) كى اجتماعى رائے تھى كہ بنو اسرائیل ، موسیٰ كےپیروكاروں ، ان میں طاقت والوں اور جوانوں كوقتل كردیا جائے، خدمت اور غلامى كیلئے بس عورتوں كو چھوڑ ا جائے ۔ اور الله تعالىٰ كا یہ قول (وما كيد الكافرين إلا في ضلال) نہایت مختصر ہے جو بتارہا ہے كہ یہ تینوں اللہ کی مشیئت و قدرت سے اپنى پلاننگ میں ناكام رہے ، اور بنو اسرائیل كے كسى بھى شخص كو قتل نہیں كرسكے ، بلكہ الله نے ان كى ہر كوشش وتدبیر فیل كردى ۔ (ابن عطیہ : 4؍554)
سوال: الله كا اراده بادشاہوں كےارادےسے برتر ہے، ان دونوں آیتوں كى روشنى میں اسكى وضاحت كیجئے.
فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ ٱقۡتُلُوٓاْ أَبۡنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ وَٱسۡتَحۡيُواْ نِسَآءَهُمۡۚ وَمَا كَيۡدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ٢٥
اس نكتے پر غور كیجئے جس كا قرآن میں اكثر ذكر آتاہے، كہ اکثر کوئی چیز كسى معین واقعے یا خاص پس منظر میں بیان كى جاتى ہے اور الله تعالىٰ اس كا حكم عام ركھنا چاہتا ہے تو اس حكم کے ساتھ ساتھ عمومی وصف بھی بیان كردیتاہے ، تاكہ حكم عام ہوجائے اور اس میں وه صورت بھى شامل ہوجائے جس كےلئے كلام لایا گیا ہے، اور اس معین چیز سے حكم كى تخصیص كا وہم دور ہوجائے ۔ اسى لئے (وَ مَا كَيْدُ هُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ)كہنے كے بجائے الله نے (وما كيد الكافرين إلا في ضلال) كہا ہے۔ (السعدى: 736)
سوال: آیت كریمہ كا اختتام عام لفظ (وما كيد الكافرين)سے كیوں كیا گیا ؟ "وما كيد فرعون" يا "وما كيدهم" كیوں نہیں كہاگیا؟