قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰻ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٢٧٠ ٢٧٠
ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٢٧١ ٢٧١
ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ٢٧٢ ٢٧٢
ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٢٧٣ ٢٧٣
ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٢٧٤ ٢٧٤
46
سورۃ البقرہ آیات 0 - 270

وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوۡ نَذَرۡتُم مِّن نَّذۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُهُۥۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٍ ٢٧٠

یہاں سمجھانے کا مطلب یہ ہے کہ :سخی اور مہربان آدمی جب بھی لڑکھڑاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے چنانچہ سخاوت اور کرم کرنے والا شخص اپنا مددگار پالیتا ہے۔اس کے بالمقابل ظلم کرنے والے کو نیکی اور مہربانی کے بجائے ناانصافی اور دھاندلی اختیار کرلینے کی وجہ سے کوئی مددگار نہیں ملتا۔ (البقاعی:۱؍۵۲۵)
سوال:خرچ کرنے پر ابھارنے کے بعد آیت کریمہ کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر کیوں ہوا؟ ( وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٍ) (ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔).

سورۃ البقرہ آیات 0 - 271

إِن تُبۡدُواْ ٱلصَّدَقَٰتِ فَنِعِمَّا هِيَۖ وَإِن تُخۡفُوهَا وَتُؤۡتُوهَا ٱلۡفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ

اس آیت سے پتہ چلا کہ چھپاکر صدقہ دینا ،کھلے عام صدقہ دینے سے افضل ہے ۔لیکن اگر صدقات ،محتاجوں کو نہ مل پارہے ہوں تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تب چھپانا،ظاہر کرنے سے بہتر نہیں ہوگابلکہ اس وقت مصلحت دیکھی جائیگی۔ اب اگر اسے ظاہر کرنے میں دین کے شعائر(احکام)کا اظہار و اعلان ہوتا ہو اور لوگوں کی جانب سے اس عمل کی پیروی کی امید ہو یا اس طرح کا کوئی اور فائدہ ہو تو ایسی صورتوں میں صدقہ کو ظاہر کرکے دینا ،چھپانے سے بہتر ہوگا۔(السعدی:۱۱۶)
سوال:صدقات میں افضل کیاہے:چھپاکر دینا یا ظاہر کرکے دینا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 271

وَإِن تُخۡفُوهَا وَتُؤۡتُوهَا ٱلۡفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ

اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صدقہ چھپاکر دینا ، ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے اس لئے کہ یہ چیز ریا اور دکھاوے سے دور ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۳۰۵)
سوال:صدقہ چھپاکر دینا ، دکھانے سے افضل کیوں ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 272

وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ ٱللَّهِۚ

خرچ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی طلب کرنے کے لئے کرونہ کہ تکلیف دیتے ہوئے خرچ کرو،نہ احسان جتاتے ہوئے ،نہ دکھاوا کرتے ہوئے اور نہ ہی (حلال کے ساتھ) حرام کو ملاکر خرچ کرو۔ (الألوسی:۳؍۴۶)
سوال:اُن آفات کی شکلیں ذکر کیجئے جن سے صدقے بیکار ہوجاتے ہیں،یا ان سے اجروثواب کم ہوجاتے ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 273

لِلۡفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحۡصِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ ضَرۡبٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ ٱلۡجَاهِلُ أَغۡنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعۡرِفُهُم بِسِيمَٰهُمۡ لَا يَسۡٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلۡحَافٗاۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ ٢٧٣

یعنی: چونکہ یہ فقراء لوگوں سے بہت کم سوال کرتے ہیں اس لئے ان کے حال سے لاعلم شخص انہیں مالدارسمجھتا ہے اور یہاں (ٱلتَّعَفُّفِ)سے مراد: مانگنے سے بچناہے۔ (تَعۡرِفُهُم بِسِيمَٰهُمۡ) (تم انہیں ان کی علامتوں سے پہچان لوگے۔) ان کے چہروں کی علامت سے کہ: ان پر مشقت ،بھوک وفاقہ اور نعمت کی کمی اور تنگی ظاہر ہوگی۔ اور کہاگیا کہ: (اس سے مراد) خشوع (عاجزی وانکساری) ہے ۔اور یہ بھی کہا گیا کہ:سجدے مراد ہیں یعنی چہروں پر سجدوں کے نشان ہوں گے۔ (لَا يَسۡٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلۡحَافًا) (وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔) (إِلۡحَافًا) کا معنی ہے: مانگنے میں اصرار کرنا،لپٹ کر مانگنا۔ یعنی وہ جب مانگتے ہیں تو نرمی وملائمت سے مانگتے ہیں۔لپٹ کر اصرار نہیں کرتے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ:یہ مانگنے اور اصرار کرنے دونوں کی ایک ساتھ نفی ہے (یعنی وہ نہ مانگتے ہیں نہ لپٹتے ہیں۔) (ابن جزی:1؍127)
سوال:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فقراءِ مومنین کی کن صفات پر تعریف فرمائی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 273

لِلۡفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحۡصِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ ضَرۡبٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ ٱلۡجَاهِلُ أَغۡنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ

یہاں صرف فقراءِ مہاجرین کو خاص طور پر ذکر کیا۔اس لئے کہ اس وقت ان کے علاوہ کوئی (فقر ومحتاجی کی اس حالت میں)نہیں تھایہ اہل صفہ تھے جن کی تعداد تقریباً چارسو تھی ۔یہ وہ لوگ تھے جو (اپنے گھر بار چھوڑ کر)فقر ومحتاجی کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تھے ۔ان کے پاس اہل وعیال تھے نہ مال واسباب۔ چنانچہ ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی مسجدمیں ایک سایہ دار چبوترہ (صفہ) بنادیا گیا تھااسی لئے انہیں اہلِ صفہ کہا جانے لگا۔ (القرطبی:۴؍۳۷۱)
سوال: اہل صفہ کی غربت کا کیا سبب تھا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 274

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ فَلَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٧٤

آیت میں رات کو دن سے پہلے اورپوشیدہ کو ظاہر سے پہلے لا یا گیا۔اس بات سے آگاہ کرنے کے لئے کہ چھپاکر صدقہ کرنا، ظاہر کرنے پر فضیلت رکھتا ہے۔ (الألوسی:۳؍۴۷)
سوال: رات کو دن پر اور چھپانے کو اظہار کرنے پر مقدم کیوں کیا گیا؟