قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١٢٧ ١٢٧ ١٢٨ ١٢٨
١٢٩ ١٢٩
١٣٠ ١٣٠
١٣١ ١٣١

١٣٢ ١٣٢
١٣٣ ١٣٣
١٣٤ ١٣٤
١٣٥ ١٣٥ ﭿ ١٣٦ ١٣٦
١٣٧ ١٣٧
١٣٨ ١٣٨
١٣٩ ١٣٩
١٤٠ ١٤٠
١٤١ ١٤١

١٤٢ ١٤٢
١٤٣ ١٤٣
١٤٤ ١٤٤
١٤٥ ١٤٥
١٤٦ ١٤٦

١٤٧ ١٤٧
١٤٨ ١٤٨
١٤٩ ١٤٩

١٥٠ ١٥٠
١٥١ ١٥١
١٥٢ ١٥٢
ﯿ ١٥٣ ١٥٣
451
سورۃ الصافات آیات 130 - 133

سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلۡ يَاسِينَ إِنَّا ١٣٠ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣١ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٣٢

الیاس علیہ السلام كے واقعے میں اس بات كى خبر ہے کہ رسول كے ذمہ رسالت كى ادائیگى ہے ، اب اس سے یہ بات لازم نہیں آتى ہے كہ وه جھٹلانے والوں كى سزا یا انكى ہلاكت كا مشاہده بھى كرلے۔ نیز اس میں مشركین كے اس قول كى تردید بھی ہے جو كہتےتھے: اگر تم سچے ہو تو بتاؤ تمہارے وعدے کی گھڑی کا وقت کیا ہے؟ اللہ نے رسول کو حکم دیا کہ وہ یہ دعا كریں كہ اے میرے رب! اگر تو مجھے وه دكھائے جس كا وعده ان سے كیا جارہا ہے تو اے رب ! مجھے ان ظالموں كے گروه میں نہ كرنا، ہم جو كچھ وعدے انہیں دے رہے ہیں سب آپ كو دكھا دینے پر یقیناً قادر ہیں۔ (المومنون: 93- 95)
سوال: داعی کی ذمہ داری صرف دعوت پہونچانا ہے، اپنے مخالف كی سزا كا انتظار كرنا نہیں۔ اسے آیت كریمہ كى روشنى میں بیان كیجئے.

سورۃ الصافات آیات 137 - 138

وَإِنَّكُمۡ لَتَمُرُّونَ عَلَيۡهِم مُّصۡبِحِينَ ١٣٧ وَبِٱلَّيۡلِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٣٨

تم سفر پہ جاتے ہوئےاور اس سے لوٹتے ہوئے ان تباه شده بستیوں سے صبح و شام گزرتے ہو، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے ہو كیوں ان سے نصیحت حاصل نہیں كرتےہو؟ (البغوى: 3؍678)
سوال: گزرے ہوئے لوگوں كے آثار اور کھنڈرات عبرت اورخوف كیلئے ہیں، تسلى خاطر اور تفریح طبع كیلئے نہیں ۔ اسے آیت كى روشنى میں واضح كیجئے.

سورۃ الصافات آیات 139 - 144

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٣٩ إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ١٤٠ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُدۡحَضِينَ ١٤١ فَٱلۡتَقَمَهُ ٱلۡحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٞ ١٤٢ فَلَوۡلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُسَبِّحِينَ ١٤٣ لَلَبِثَ فِي بَطۡنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ١٤٤

آپ یہ جان لیں كہ یہاں یونس علیہ السلام كا ذكر نبى ﷺكى تسلى كیلئے ہے كہ رسالت كى راه میں جن مشكلات كا سامنا آپ كر رہے ہیں انہیں آپ سے پہلے رسولوں نے جھیلا ہے ، ساتھ ساتھ یہاں مصائب سے دل برداشتہ نہ ہوکر ان پر صبر کرنے کے سلسلے میں نبى كریم ﷺكا مقام ومرتبہ بھى نمایاں ہے اورتمام لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے كہ آپ ﷺكو پیہم دعوت دین كا الله نے حكم دے ركھا تھا، اسلئے كہ مشركین یہ كہتے ہوئے رسول الله ﷺ پر عیب جوئى كرتے تھے كہ یہ تو ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں، ہر حال اور ہر گھڑى دعوت دیتے رہتےہیں۔ (ابن عاشور: 23؍178)
سوال: یونس علیہ السلام كا قصہ یہاں كس مقصد كے تحت ذكر كیا گیا ہے؟

سورۃ الصافات آیات 139 - 140

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٣٩ إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ١٤٠

الله تعالىٰ نے نہ تو یہ ذكر كیا كہ وه كس بات پر غصہ ہوئے تھے اور نہ ہى ان كا گناه كیونكہ اس میں ہمارا كوئى خاص فائده نہیں ہے، البتہ جو ہمارے لئے مفید تھى اسے ذکر کیا گیا وه یہ كہ یونس علیہ السلام نے خطا كى اور الله نے معزز رسول ہونے كے باوجود بھى انہیں سزادى۔ اور پھر نجات بھی دے دى، ملامت دور كى، نیز انكى درستگى كا سامان بھی فراہم كردیا۔ (السعدى: 707)
سوال: ایك نبى سے ایك گناه سرزد ہوا جس پر الله نے انہیں سزادى، اس جانكارى سے آپ کو کیا سبق ملتا ہے؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 140

إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ١٤٠

یعنى بھاگنے كا اراده كیا اور سمندر میں كشتى پر سوار ہوگئے،یہاں انكے بھاگنے كى تعبیر ایسے لفظ سے آئى ہے كہ جیسے كوئى غلام اپنے آقا سے بھاگتا ہے، كیونكہ وه تھے تو الله كے بندے اور غلام، اور الله كى اجازت كے بغیر ہى بھاگے تھے ۔ اور درحقیقت یہی (اباق) فرار ہونا ہے۔ (ابن عطیہ: 4؍485)
سوال: لفظ (اباق)اپنے آقاسے غلام كے بھاگنے كیلئے استعمال ہوتاہے، تو یہاں یونس علیہ السلام كیلئے كیونكر استعمال كیا گیا حالانكہ وه تو آزاد تھے؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 140

إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ١٤٠

یعنى وه كشتى كى جانب بھاگے(الفلك)یہاں واحد ہے، اور مشحون كامطلب بھرى ہوئى ، اور انكے بھاگنے كى وجہ اپنى قوم سے ناراضگى تھى، كیونكہ وه ایمان نہیں لارہےتھے۔(ابن جزى: 2؍241)
سوال: الله كے نبى یونس علیہ السلام بھرى ہوئى كشتى كى طرف كیوں بھاگے تھے؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 143

فَلَوۡلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُسَبِّحِينَ ١٤٣

الله نے بتایا كہ یونس علیہ السلام تسبیح بیان كررہے تھے اور یہى تسبیح ان كے نجات كا سبب تھی۔ جب کوئی لغزش کھاتا ہے تو نیک کام ہی اسے تھامتا ہے۔ حسن بصری كہتےہیں كہ مچھلى كے پیٹ میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی لیكن آسوده حالى میں نیك اعمال كئے تھے،اسی لئے انہیں نیک اعمال کے پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں مصیبت کی گھڑی میں یادکیا۔ (القرطبى: 18؍99)
سوال: الله كے نبى یونس علیہ السلام كے نجات كا سبب كیا تھا؟