قرآن
ﮱ
ﱏ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١٠٥ ١٠٥ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ١٠٦ ١٠٦ ﭩ ﭪ ﭫ ١٠٧ ١٠٧ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ١٠٨ ١٠٨ ﭲ ﭳ ﭴ ١٠٩ ١٠٩ ﭶ ﭷ
ﭸ ١١٠ ١١٠ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ١١١ ١١١ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ١١٢ ١١٢ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ١١٣ ١١٣ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ١١٤ ١١٤ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ١١٥ ١١٥ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ١١٦ ١١٦ ﮢ
ﮣ ﮤ ١١٧ ١١٧ ﮦ ﮧ ﮨ
١١٨ ١١٨ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ١١٩ ١١٩ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ١٢٠ ١٢٠ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ١٢١ ١٢١ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ١٢٢ ١٢٢ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ١٢٣ ١٢٣
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ١٢٤ ١٢٤ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ١٢٥ ١٢٥ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ١٢٦ ١٢٦
فَلَمَّآ أَسۡلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلۡجَبِينِ ١٠٣
اللہ کی اطاعت اور اس کےحکم کی تعمیل کی خاطر وہ دونوں مطیع ہوگئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما كا قول ہے کہ حضرت ابراہیم نے اسماعیل کوزمین پر پیشانی کے بل لٹادیا ، اور پیشانی كےبیچ والے حصے کو جبہہ کہا جاتا ہے۔ (البغوى: 3؍667)
سوال:فرمان الٰہی (أسلما)میں تثنیہ كے صیغے سے تعبیر كا فائده ؟
قَدۡ صَدَّقۡتَ ٱلرُّءۡيَآۚ
یعنى سچی نیت سے زمین پر ذبح كیلئے بیٹے کو لٹا دینے ہى سے تمہارے خواب كا مقصود حاصل ہوگیا۔ (ابن كثیر: 4؍17)
سوال: ابراہیم علیہ السلام نے خواب كیسے سچ كر دكھایا حالانكہ بیٹے كو انہوں نے ذبح بھى نہیں كیا؟
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡبَلَٰٓؤُاْ ٱلۡمُبِينُ ١٠٦
وه رحمٰن كے خلیل ہیں ، اور خلت محبت كى سب سے اعلى قسم ہے، یہ ایسا منصب ہے جو كہ شركت قبول نہیں كرتا بلكہ تقاضہ كرتا ہے كہ دل كے تمام اجزاء محبوب سے منسلك ہوں ، چنانچہ جب دل كا ایك حصہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے جڑا تو الله نے خلیل كى محبت بے لوث کرکے دوستی کا امتحان لینا چاہا۔ لہذا الله نے اسى كے ذبح كا حكم دیدیا جسكى محبت رب كى محبت سے ٹكرا سکتى تھى اور كسى قدر آڑے آسکتى تھى ۔ چنانچہ جب ابراہیم علیہ السلام نے الله كى محبت كو مقدم كیا ، اپنى خواہش پر اسے ترجیح دى اور بیٹے كى قربانى كا پختہ اراده كرلیا اور دل سے وه چیز زائل ہوگئى جو حب الہى میں حائل بن سكتى تھى لہذا اب ایسى صورت میں ذبح كا كوئى خاص فائده نہیں رہا۔ (السعدى: 706)
سوال: ذبح كا یہ واقعہ امتحان بھى تها اور ابراہیم علیہ السلام كے دل كى صفائى کا سامان بهى، كیسے؟
وَفَدَيۡنَٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيمٖ ١٠٧
یہ اس ناحیہ سے عظیم تھا كیونكہ اسماعیل علیہ السلام كى قربانى كا فدیہ تھا، عظیم ترین عبادت تھى، اور قیامت تك كیلئے یہ قربانى سنت ابراہیمى كا درجہ پانے والى تھى۔ (السعدى: 706)
سوال: اس قربانى كو عظیم كى صفت سے متصف كرنے كى وجہ كیا ہے؟
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ ١٠٨ سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ ١٠٩
ابراہیم علیہ السلام نے الله سے سوال كرتےہوئےكہا: ﴿وَٱجۡعَل لِّي لِسَانَ صِدۡقٖ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ﴾ اور میرا ذكر خیر پچھلے لوگوں میں بھى باقى ركھ۔ (شعراء: 84) ابن زید کہتے ہیں پس الله نے بعد میں آنے والے لوگوں میں انكا ذكر خیر ركھ چھوڑا اور ذكر سوء فرعون اور اس جیسوں كا مقدر بنادیا۔ (الطبرى: 21؍91)
سوال: انسان كے ساتھ اللہ کے ارادہ خیر کی كوئى ایسی نشانى ذكر كیجئے جو آدمى كے مرنے كے بعد ظاہر ہوتى ہے.
وَبَٰرَكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلَىٰٓ إِسۡحَٰقَۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٞ وَظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ مُبِينٞ ١١٣
اس میں اس بات پر تنبیہ ہے كہ اچھے برے کا معیار نسل اور ذات نہیں ہے نیك برے كى كوكھ سے بھى جنم لے سكتاہےاور برا نیك كى نسل سے بھی پیدا ہوسكتاہے، نیز آنے والى نسل كے بگاڑ کو باپ دادا کی کمی اور خامی شمار نہیں کی جائے گی۔ فضل وبرترى كى بنیاد تو ذاتى صفات اور وه بھلائیاں ہیں جو آدمى حاصل كرتا اور سیكھتا ہے۔ البتہ باپ دادا کی شرافت بچوں کا کمال عزت اور اچھی صفتوں سے متصف ہونے کا باعث ہے۔ (ابن عاشور : 23؍162)
سوال: اچھا یا برا ہونے كا معاملہ نسل پر مبنی نہیں ہے، اسے آیت كریمہ كى روشنى میں واضح كیجئے.
وَبَٰرَكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلَىٰٓ إِسۡحَٰقَۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٞ وَظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ مُبِينٞ ١١٣
جب الله تعالىٰ نے ذریت میں بركت وكثرت كا ذكر كیا تو فرمایا: ا ن میں كچھ نیك ہیں اور كچھ برے ہیں۔ اور برے كو نبوت كى طرف نسبت ( یعنى نبى كا بیٹا ہونا) كوئى فائده نہیں دے سكى۔ لہذا یہود ونصارى اگرچہ اسحاق علیہ السلام كى اولاد ہیں اور عرب اسماعیل علیہ السلام كى اولاد سےہیں پھر بھى ان میں اچھے برے اور مومن وكافر كا فرق ضروری ہے ۔ (القرطبى: 18؍83)
سوال: كیا آپ كیلئے آپ كےباپ كى صالحیت كافى ہے؟ اور كیا باپ کی خرابی آپ كے لئے مضر ہے؟