قرآن
ﮰ
ﱏ
ﭜ ٧١ ٧١ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
٧٢ ٧٢ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٧٣ ٧٣ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٧٤ ٧٤ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٧٥ ٧٥ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٧٦ ٧٦ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ٧٧ ٧٧ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٧٨ ٧٨
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
٧٩ ٧٩ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ٨٠ ٨٠ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ٨١ ٨١
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٨٢ ٨٢
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ٨٣ ٨٣
ﮱ
أَوَ لَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا خَلَقۡنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتۡ أَيۡدِينَآ أَنۡعَٰمٗا فَهُمۡ لَهَا مَٰلِكُونَ مَٰلِكُونَ ٧١
یعنى وہ ان جانوروں پر قابض اور غالب ہیں ۔ یعنى چوپایوں كوایسا وحشى اور انسانوں سے بدكنے والا نہیں بنایا كہ وه ان جانوروں كو اپنے قابو میں نہ كرسكیں، بلكہ انہیں انسانوں کے تابع بنادیا ہے۔ (البغوى: 3؍649)
سوال: انسانوں كو چوپایوں كا مالك بنانے اور انہیں انكے تابع كردینے میں انعام واحسان كى كیا صورت ہے؟
وَلَهُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَمَشَارِبُۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ ٧٣
(أفلا يشكرون) اس یاد دہانى اور انعام واحسان كى فرع ہےجو كہ تعجب اور استفہام كے طور پر وارد ہوا ہے كیونكہ انہوں نے الله كى مختلف نعمتوں پر برابرشكر بجا لانا چھوڑ ركھا ہے، لہٰذا مضارع كا صیغہ لایا گیا تاكہ تسلسل وتجدد كا فائده حاصل ہو، كیونكہ یہ نعمتیں ہر گھڑى ، لگاتار ایك كے بعد ایك آتی رہتی ہیں۔(ابن عاشور: 23؍69)
سوال: یہ آیت کریمہ ہر گھڑی از سر نو اللہ کا شکر بجالانے کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے وہ کیسے؟
فَلَا يَحۡزُنكَ قَوۡلُهُمۡۘ إِنَّا نَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ ٧٦
ہم جانتےہیں كہ یہ جو باتیں (تم شاعر ہو تم جو لائے ہو وہ شعر ہے) كہہ رہے ہیں اس كا سبب حسد ہے، حالانكہ انہیں اچھى طرح معلوم ہے كہ جو كچھ آپ ان كے پاس لائے ہیں وه نہ شعر ہے ، نہ ہى شعر جیسا ہے اور آپ جھوٹے بھى نہیں ہیں۔ آپ جس چیز كى طرف انہیں بلا رہے ہیں اس كى حقیقت سے یہ آگاه ہیں، اسے یہ چھپا رہے ہیں جس کا ہمیں بخوبی علم ہے نیز آپ کی دعوت کو ان کی زبان سے اعلانیہ طور پر انکار کرنے کا بھی ہمیں علم ہے۔(الطبری: 20؍553)
سوال: اس آیت سے ایك داعى كو كیا فائده ملتاہے؟
إِنَّا نَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ ٧٦
یعنى ہم ان کے سارے احوال اور انكى تمام كیفیات سے واقف ہیں، اور ہم انہیں اس دن ان کے غلط بیانی کا بدلہ دینگے اور اسى كے مطابق ان كےساتھ برتاؤ كرینگے، جس دن وه اپنا كوئى بھى كام غائب نہیں پائیں گے، خواه عمل عظیم ہو یا حقیر، چھوٹا ہو یا بڑا، بلکہ ان کے سارے اعمال چاہے نئے ہوں یا پرانے سب ان پر پیش کئے جائیں گے۔ (ابن كثیر: 3؍558)
سوال: الله نے اپنے بارے میں جو یہ خبر دى ہے كہ وه كافروں كى كھلى چھپى سب باتیں جانتا ہے تو اس سے كیا مراد ہے؟
قُلۡ يُحۡيِيهَا ٱلَّذِيٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيمٌ ٧٩
اللہ تعالیٰ زمین کے تمام حصوں میں مدفون ہڈیوں کی حقیقت کو جانتا ہے کہ وہ کہاں گئی اور کہاں بوسیدہ و ریزہ ریزہ ہوکر بکھری پڑی ہے۔ (ابن كثیر: 3؍559)
سوال: اس آیت كى روشنى میں الله عزوجل كے علم كى وسعت بیان كیجئے.
ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلۡأَخۡضَرِ نَارٗا فَإِذَآ أَنتُم مِّنۡهُ تُوقِدُونَ ٨٠
الله تعالىٰ نے یہاں دوباره زنده كئے جانے كى تیسرى دلیل ذكر كى ہے۔ (وہى ہے جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا كردى جس سے تم آگ سلگاتےہو) ۔
چنانچہ جس ذات نے خشک آگ کو ہرےبھرے ، سبز اور انتہائى گیلے درخت سے دونوں میں شدید تضاد كے باوجود نکالا ہے ٹھیک اسی طرح قبروں سے مردوں كو بھى نكالنے پر یقیناً وہ قادر ہے۔ (السعدى: 700)
سوال: اس آیت سے دوباره زنده كئے جانےپر كس طرح استدلال كیا گیاہے؟
فَسُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٨٣
انہوں نے کماحقہ اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کی، اور جس نے بھى قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے كا انكار كیا اس نے قدرت الٰہى سے جہالت كى بنیاد پرہی انكار كیا۔(ابن جزى: 2؍230)
سوال: كافروں نے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کا انكار كیوں كیا؟