قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٤١ ٤١
٤٢ ٤٢

٤٣ ٤٣
٤٤ ٤٤

٤٥ ٤٥
ﭿ
٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧

٤٨ ٤٨

٤٩ ٤٩

٥٠ ٥٠

٥١ ٥١

٥٢ ٥٢

ﯿ ٥٣ ٥٣

٥٤ ٥٤
443
سورۃ يس آیات 0 - 41

وَءَايَةٞ لَّهُمۡ أَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ٤١

ذریت كا ذكر فرمایا ہے، کیونکہ یہ سفر سے عاجز ہوتی ہے، لہذا ان میں نعمت وانعام زیاده آسان ہے۔ (ابن عطیہ : 4؍455)
سوال: آیت میں ذریت كے ذكر كى كیا وجہ ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 49

مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ تَأۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُونَ ٤٩

(وهم يخِصِّمون) وه لوگ باہم لڑائى جھگڑے میں ہوں گے، قیامت سے غافل ہوں گے اور باہم لڑائى اور بحث وتكرار كى حالت میں ان كے دل میں قیامت كا خیال تك نہیں گزرے گا، اور یہ چیز (بحث وتكرار) عموما غفلت كے وقت رونما ہوتى ہے۔ (السعدی : 697)
سوال: دیگر اوقات كو چھوڑ كر باہم لڑائى جھگڑے كے وقت كو بطور خاص كیوں ذكر كیا گیا ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 49

مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ تَأۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُونَ ٤٩

یعنى وه لوگ دنیاوى معاملات اور خرید وفروخت میں باہم الجھے ہوں گے، بازاروں اور مجالس میں بكواس كررہے ہوں گے۔(البغوى: 3؍643)
سوال: ان بندوں كى غفلت كا حال بیان كیجئے جن میں قیامت قائم ہوگى.

سورۃ يس آیات 0 - 50

فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ تَوۡصِيَةٗ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُونَ ٥٠

یہاں بطور خاص اہل وعیال كا ذكر كیا گیا ہے، اس لئے كہ اس گھڑى آدمی کیلئے اپنے گھروالوں سے بات كرنا غیروں كے مقابلے میں زیاده اہم ہے اور یہ انسانی فطرت کا اہم تقاضہ بھی ہے۔ (ابن عطیہ: 4؍457)
سوال: اہل و عیال کا ذکر کسی خاص وجہ سے کیاگیا ہے وہ وجہ کیا ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 52

قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٥٢

اس کی تفسیر میں كہا گیا ہے: كہ جب كافر ایك دوسرے سے كہیں گے كہ(من بعثنا من مرقدنا) (ہمارى خواب گاہوں سے ہمیں كس نے جگا دیا؟) تو اس وقت جب وه ان چیزوں كا اپنى آنكھوں سے مشاہده کر لیں گےجن سے رسولوں نے انہیں باخبر كیا تھا، تب وہ رسولوں کی تصدیق کریں گے اور كہیں گے:(هذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون) یہى تو ہے جس كا رحمان نے وعده كیا تھا، اور رسولوں نے سچ سچ كہہ دیا تھا۔ مگر ہم نے جھٹلا دیا تھا ، پھر وه ایسے وقت اقرار كرینگے جب اقرار کرنا بے سود ہوگا۔ (القرطبى: 17؍465)
سوال: ایمان نہ لانے اور توبہ نہ كرنے پر كافروں كى ندامت كب ظاہر ہوگى؟

سورۃ يس آیات 0 - 52

قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜ

اس سے مراد ان كى وه قبریں ہیں جن كے بارے میں دنیا كے اندر وه یہ اعتقاد ركھتےتھے كہ اس سے دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے، پھر جب محشر میں اپنى جھٹلائى ہوئى باتوں كا خود معائنہ كرلیں گے، تب كہیں گے: ہائے ہمارى بربادى! ہمیں ہمارى خواب گاہوں سے كس نے جگادیا؟ اس سے انكى قبروں میں ان کے عذاب کی نفی نہیں ہوتی ہے، بلكہ بعد میں جو شدت اور ہولناكى دیكھیں گے اس كے مقابلے میں انہیں قبر كى زندگى خواب كى طرح محسوس ہوگى۔ (ابن كثیر: 3؍552)
سوال: كیا مشركین كے اس قول : (من بعثنا من مرقدنا) سے عذاب قبر كى نفى ہوتى ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 52

هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٥٢

آپ یہ مت گمان كیجئے كہ یہاں رحمٰن كا ذكر محض اس كے وعدے كى خبر دینے کے لئے کیاگیا ہے بلكہ اسے ذکرکرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس ہولناکی کے دن الله كى ایسى رحمت كا مشاہده كرینگے جو ان كےخواب وخیال تک میں نہ گزرا ہوگا جیسا كہ الله نے فرمایا: اس دن صحیح طور پر بادشاہت رحمٰن ہى كى ہوگى۔ (الفرقان: 26)، اور رحمان كیلئے تمام آوازیں پست ہوجائیں گى۔(طہ : 108)، اور اس جیسى دیگر آیات جن میں رحمان کا ذكر اسى معنى میں آیا ہے۔ (السعدی: 697)
سوال: اس ہولناک صورتِ حال میں دیگر اسماء كو چھوڑ كر بطور خاص رحمان كا ذكر كیوں آیا ہے؟