قرآن
ﮯ
ﱎ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ٣٩ ٣٩ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٤٠ ٤٠ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٤١ ٤١ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٤٢ ٤٢ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
٤٣ ٤٣ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ
ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ٤٤ ٤٤
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَٰٓئِفَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهُۥۖ
الله تعالىٰ فرمارہاہے كہ اے لوگو! جو الله كےساتھ كفر كرےگا تو اسكے كفر كا نقصان اسى كو ہوگا، اسكے علاوه كسى دوسرے كو نہیں ہوگا، كیونكہ اسكى سزا اسكے علاوه كوئى دوسرا نہیں بھكتے گا۔ (الطبرى: 20؍480)
سوال: ابن آدم كے كفر كا نقصان كسے ہوگا؟
وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ إِلَّا مَقۡتٗاۖ
یعنى جس طرح وه اپنے كفر پر اڑے رہیں گے اسى طرح الله تعالىٰ ان سے بغض ركھےگا برخلاف مومنین كے؛ كیونكہ جس طرح ان كى عمر زیاده ہوگى اور ان كا حسن عمل بھى بڑھتا رہے گا اسى طرح ان كا مقام ومرتبہ بھى جنت میں اونچا ہوتا رہےگا، اور انكا اجر بھى بڑھتا رہے گا، اور ان كا خالق اور بارى جو كہ رب العالمین ہے ان سے محبت كرےگا۔ (ابن كثیر: 3؍538)
سوال: آیت كےاندر كافروں كےساتھ كفر كے عمل كا ذكر ہے ، تو مومنوں كےساتھ انكا ایمان كیا عمل كرےگا؟
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ لَّيَكُونُنَّ أَهۡدَىٰ مِنۡ إِحۡدَى ٱلۡأُمَمِۖ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا ٤٢
ان كا یہ قسمیں کھانا كسى اچھے مقصد اور طلب حق كیلئے نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو ان كو ضرور اس كى توفیق عطا كردى جاتى لیكن ان كا قسمیں کھانا تو مخلوق اور حق كے مقابلے میں زمین پر تكبر كرنے اور اپنى بات میں مكر وفریب كرنے سے صادر ہوا تھا۔
ان كا مقصد محض فریب كارى تھا اور یہ ظاہر كرنا تھا كہ وه تو اہل حق اور حق كے متلاشى ہیں تو ساده لوح لوگ ان كے فریب میں مبتلا ہوكر ان كے پیچھے چل پڑے۔(السعدى: 691)
سوال: كیا ان كا قسمیں کھانا طلب حق كیلئے تھا؟
ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦۚ
(استكبارًا) یعنى ایمان سے ہٹ دھرمى كرنا، (ومكر السيِّئ) یعنى برے عمل كى چال، اور وه كفر ہے ، كمزوروں كو دھوكہ دینا اور انہیں ایمان سے پھیرنا ہے تاكہ ان كے پیروكاروں كى تعداد بڑھ جائے۔(القرطبى: 17؍369)
سوال: انكے اس برى چال كى كیا حقیقت ہے جس نے انہیں عذاب كا مستحق بنایا تاكہ ہم اس سے بچ سكیں ؟
ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦۚ فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا ٤٣
انسان جب ایك دوسرے سے مامون نہیں ہوتے تو اجنبى بن كر رہتےہیں، اور ایك دوسرے كو نقصان پہنچانے اور اس كى تباہى كے در پہ ہوتےہیں، تاكہ دوسرے كو دھوكہ دیكر كامیاب ہوسكے اس دھوكہ میں خود واقع ہونے سے پہلے، جس کا انجام دنیا میں بڑے فساد کی صورت میں ہوتا ہے ، اور الله تعالىٰ فساد كو پسند نہیں كرتا۔(ابن عاشور: 22؍335)
سوال: سماج میں امن وامان كے فقدان سے كیا آثار مرتب ہوتےہیں؟آیت كى روشنى میں اسے واضح كریں.
فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا ٤٣
الله تعالىٰ نے كافروں پر عذاب جارى كیا اور اسے ان كے اندر سنت بنادیا، اب وه ہر اس شخص كو عذاب دےگا جو اس كا مستحق ہوگا، كوئى اسے بدل نہیں سكتا، اور نہ ہى كوئى اپنے عذاب كو دوسرے كى طرف پھیر سكتاہے۔ (القرطبى: 17؍400)
سوال: كیا گنہگاروں پر نزول عذاب كے تعلق سے الله كى سنت میں تبدیلى آسكتى ہے؟
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا ٤٤
كسى كا اراده پورا اسى وقت نہیں ہوسكتا جب یا تو اراده پورا ہونے كى جگہ كا علم نہ ہو ، اور یہ احاطۂ علم كے منافى ہے، یا اس كےپورا كرنے كى طاقت نہ ہو، اور یہ قدرت عامہ كے منافى ہے۔ (ابن عاشور: 22؍339)
سوال: الله تعالىٰ كى دونوں صفت: علم وقدرت پر آیت كو ختم كرنے سے كیا فائده ہے؟