قرآن
ﮮ
ﱎ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ٥٠ ٥٠ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ٥١ ٥١ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ٥٢ ٥٢ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ٥٣ ٥٣ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٥٤ ٥٤
ﮯ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ١ ١ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٢ ٢
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٣ ٣
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ ٥١
(ولو ترى إذ فزعوا) اور اگر آپ دیكھیں گے كہ وه گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے، یعنى دنیا كےاندر موت آنے كے وقت ، یا ان پر الله كى طرف سے كسى دوسرے عذاب كےآنے كےوقت۔ اور كہاگیا: یہاں مراد صور پھونكنے سے ان كا قبروں میں گھبرانا مراد ہے۔(القرطبى: 17؍333)
سوال: كافر كا اس وقت كیا حال ہوگا جب وه خوفناك حقائق كا سامنا كرےگا؟
وَيَقۡذِفُونَ بِٱلۡغَيۡبِ مِن مَّكَانِۢ بَعِيدٖ ٥٣
اپنے باطل اندازوں كےذریعے سے تاكہ اس طرح وه حق كو سرنگوں كریں، مگر وه ایسا كرنے میں كامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیراندازى كرنے والے كا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑسكتااسى طرح یہ بہت محال ہے كہ باطل حق كو مغلوب كرسكے یا اس كو روك سكے۔ حق كى غفلت كےوقت باطل یکبارگی حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آكر باطل كا مقابلہ كرتا ہے تو وه اس كا قلع قمع كردیتاہے۔(السعدى: 684)
سوال: اہل باطل كا حق پرنشانہ لگانے كو دور جگہ سے تعبیر كیوں كیا گیا ہے؟
وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۢ ٥٤
یعنى انہیں جنت میں داخل ہونے سے روك دیا جائےگا، اور كہا گیاہے: انہیں اس وقت ایمان سے فائده اٹھانے سے روك دیا جائےگا، اور كہاگیاہے: انہیں دنیا میں واپس جاكر اس كى نعمتوں سے فائده اٹھانے سے روك دیا جائےگا۔ (ابن جزى: 2؍210)
سوال: كفار كس چیز كى خواہش كریں گے جس سے انہیں روك دیاجائےگا؟
وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۢ ٥٤
اس تشبیہ كا فائده یہ ہے كہ مشركین مكہ میں سے جو لوگ زنده ہیں انہیں پچھلى امتوں كا عذاب یاد دلایا جائے ، تاكہ انہیں یقین ہوجائے كہ الله كى سنت ایك ہى ہے، اور یہ كہ ان كے وه بت جنہیں ان لوگوں نے الله كے نزدیك سفارشى سمجھ ركھا ہے وه انہیں كچھ بھى فائده نہیں پہونچا سكتے۔(ابن عاشور: 22؍245)
سوال: آیت كریمہ كےاندر تشبیہ كا كیا فائده ہے؟
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ جَاعِلِ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ رُسُلًا أُوْلِيٓ أَجۡنِحَةٖ مَّثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۚ يَزِيدُ فِي ٱلۡخَلۡقِ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١
(الحمد لله) سے اس سورت كو شروع كرنا اس بات كى طرف اشاره ہے كہ اس كے اندر الله کی عظمت پر مبنی صفات كا ذكر ہوگا، اور فعلى صفات میں سے الله كیلئے ارض وسماء كى پیدائش كى صفت لانا اور یہ كہ ارض وسما میں سب سے بہتر مخلوق فرشتوں اور رسولوں كى ہے، اس بات كى طرف اشاره ہے كہ یہ سورت توحید اور رسولوں كى تصدیق كیلئے نازل ہوئى ہے۔ (ابن عاشور: 22؍248)
سوال: سورۂ فاطر (الحمد لله) سے شروع كیوں كى گئى؟
مَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٖ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَاۖ وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦۚ
(ما يفتح الله للناس من رحمة) كہاگیا: یہاں رحمت سے مراد بارش اور رزق ہے۔(فلا ممسك لها) یعنى اسے كوئى روك نہیں سكتا۔ (وما يمسك فلا مرسل له من بعده) اور جو روك دے تو اسے كوئى چھوڑنے والا نہیں ، پس وه (العزيز) یعنى ہر چیز پر غالب ہے، ان تمام چیزوں میں جنہیں وه روك لے، اور (الحكيم) یعنى حكمت والا ہے ان تمام چیزوں میں جنہیں وه چھوڑ دے۔ (البغوى: 3؍616)
سوال: كیا مخلوق میں سے كوئى كسى ایسى چیز كو روك سكتا ہے جسے الله نے آپ كیلئے مقدر كرركھا ہو؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ ٣
الله تعالىٰ اپنے بندوں كو تنبیہ اور رہنمائى كررہا ہے كہ اسكى تنہا عبادت كرنے میں اسكى وحدانیت پر استدلال كریں، كہ جیسے پیدا كرنے اور روزى دینے میں وه تنہا ہے اسى طرح عبادت میں بھى وه تنہا ہے، اس لئے اسى كى عبادت كریں اور اسكے ساتھ كسى صنم ، بت یا قبر و شجر وغیره كو شریك نہ كریں۔ (ابن كثیر: 3؍525)
سوال: پیدائش اور رزق كا توحید عبادت كےساتھ كیا تعلق ہے؟