قرآن
ﮭ
ﱍ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ١٦ ١٦ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ١٧ ١٧ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ١٨ ١٨ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ١٩ ١٩ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٢٠ ٢٠ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٢١ ٢١
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ٢٢ ٢٢
قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلۡفِرَارُ إِن فَرَرۡتُم مِّنَ ٱلۡمَوۡتِ أَوِ ٱلۡقَتۡلِ
اسباب اس وقت فائده دیتےہیں جب قضاء وقدر(تقدیر) ان كى معارض نہ ہو، لیكن جب قضاء وقدر آجاتى ہے تو تمام اسباب ختم ہوجاتےہیں اور ہر وسیلہ بےکار ہوكر ره جاتاہے جن کو انسان ذریعۂ نجات سمجھتاتھا۔(السعدى: 660)
سوال: كیا آیت كےاندر اسباب كے ناکام ہونے پر كوئى دلیل ہے؟
قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلۡفِرَارُ إِن فَرَرۡتُم مِّنَ ٱلۡمَوۡتِ أَوِ ٱلۡقَتۡلِ وَإِذٗا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٦
آیت سے مقصود یہ ہے كہ مسلمان کے اندر یہ اخلاق (بدرجۂ اتم) پیدا کیاجائے کہ وہ دنیاوی زندگی کو حقیر سمجھیں، اور دینی تعلیمات کی اتباع کرکے اس درجۂکمال کی طرف بڑھنے میں اپنی پوری ہمت لگادیں جس میں ابدی سعادت ہے۔(ابن عاشور: 21؍291)
سوال: آیت كےاندر ایك مسلمان كیلئے فانى دنیا پر باقی رہنے والی آخرت كو مقدم رکھنے كى تربیت موجود ہے ، اس كى وضاحت كریں.
۞قَدۡ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ ٱلۡمُعَوِّقِينَ مِنكُمۡ وَٱلۡقَآئِلِينَ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ هَلُمَّ إِلَيۡنَاۖ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلۡبَأۡسَ إِلَّا قَلِيلًا ١٨
یعنى جو لوگوں كو جہاد سے روكتےہیں اور اپنے قول وعمل سے ركاوٹ بنتےہیں، (والقائلين لإخوانهم هلم إلينا) یہاں وه منافقین مراد ہیں جو جہاد میں نہ جاكر مدینہ میں بیٹھےتھے، اور اپنے قرابت داروں سے یا اپنے جیسے منافقین سے كہہ رہے تھے كہ آپ بھى جہاد چھوڑ كر ہمارے ساتھ آكر بیٹھ جائیں ۔ (ابن جزى: 2؍184)
سوال: الله تعالىٰ نے اس آیت میں اور بعد كى آیتوں میں منافقوں كى ایك خاص صفت كا ذكر كیا ہے ، اسے بیان كرو.
أَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡۖ أَشِحَّةً عَلَى ٱلۡخَيۡرِۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَمۡ يُؤۡمِنُواْ
(أشحة عليكم) یعنى لڑائى كے وقت اپنے بدن كو استعمال كرنے میں اور جہاد میں اپنا مال خرچ كرنے میں بخیل ہیں۔ پس وه اپنے جان ومال كے ذریعے الله كے راستےمیں جہاد نہیں كرتے (أشحة على الخير) “یعنی ہر اس خیر میں بخیل ہیں جو ان سے مطلوب ہوتا ہے”۔ اور یہ انسان كا بدترین وصف ہے كہ اسے جو حكم دیاجائے اس كى تعمیل میں بخیل ہو۔اپنے مال کو اس کے صحیح راستے میں خرچ کرنے میں بخیل ہو۔ الله تعالىٰ كے دشمنوں كے خلاف جہاد كرنے اور الله كے راستے میں دعوت دینے میں اپنا بدن استعمال کرنے میں بخیل ہو، اپنے جاه(مقام و مرتبہ کے استعمال ) میں بخیل ہو اور اپنے علم، نصیحت اور رائے میں بخیل ہو۔ (السعدى : 661)
سوال: آیت میں مقصود بخالت كى قسمیں گناؤ؟
فَإِذَا جَآءَ ٱلۡخَوۡفُ رَأَيۡتَهُمۡ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ تَدُورُ أَعۡيُنُهُمۡ كَٱلَّذِي يُغۡشَىٰ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡمَوۡتِۖ
ان منافقین کے دیکھنے کی كیفیت كى تصویر كشى كى گئى ہے كہ وہ اس ڈرپوک دہشت زدہ کی طرح دیکھتے ہیں جو اپنی نگاہیں ٹکاکر ان سمتوں کی طرف دیکھتا رہتا ہے جن سے اسے مصیبت کے آنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ (ابن عاشور: 21؍297)
سوال: آیت کریمہ كے اندر منافقوں كى ایك صفت كا بیان ہے جو خوفناک حالات كے وقت ظاہر ہوتى ہے، اسے ذکر كریں.
لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا ٢١
اس آیت كریمہ سے اہل اصول نے استدلال كیا ہےکہ رسول اللہﷺ کے افعال حجت (دلیل) ہیں، اور اصل قاعدہ یہ ہے کہ احکام میں آپ کی امت آپ کی اقتدا کرے گی سوائے ان احکام کے جن کے بارے میں شرعی دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ حکم آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔(السعدى: 661)
سوال: كیا رسول ﷺ كے افعال سے حجت پكڑ ا جاسكتاہے؟
وَلَمَّا رَءَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡأَحۡزَابَ قَالُواْ هَٰذَا مَا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَصَدَقَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥۚ وَمَا زَادَهُمۡ إِلَّآ إِيمَٰنٗا وَتَسۡلِيمٗا ٢٢
یہ آیت دلیل ہے کہ لوگوں كے اعتبار سےاور ان کے حالات کے اعتبار سے ایمان میں مضبوطی اور اضافہ ہوتا ہے جیسا كہ جمہور ائمہ كا قول ہے كہ ایمان میں اضافہ اور كمى ہوتى رہتى ہے۔ (ابن كثیر: 3؍457)
سوال: كیا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے؟ اس آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كریں.