قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮭ

ﱍ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ٧ ٧

ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
٨ ٨
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ٩ ٩
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ١٠ ١٠
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ١١ ١١
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ١٢ ١٢
ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ١٣ ١٣
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ١٤ ١٤
ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ١٥ ١٥
419
سورۃ الأحزاب آیات 0 - 7

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّۧنَ مِيثَٰقَهُمۡ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٖ وَإِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۖ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٧

مذكوره پانچوں انبیاء(محمد، نوح، ابراہیم، موسیٰ، اور عیسیٰ علیہم السلام) گرچہ دیگر تمام انبیاء كے زمرے میں شامل ہیں لیكن یہاں انكا خصوصى ذكر کیاگیاہے ان کی فضیلت کو بیان کرنے کے لئے۔ اور كہاگیا: اس لئے(خصوصی ذکر کیاگیا) كہ وه پانچوں صاحب شریعت اور صاحب كتاب ہیں، اولو العزم رسول ہیں اور امتوں كے رہبر ہیں۔ (القرطبى: 17؍68)
سوال: اس جگہ ان رسولوں كو بطور خاص كیوں ذكركیا گیا؟

سورۃ الأحزاب آیات 7 - 8

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّۧنَ مِيثَٰقَهُمۡ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٖ وَإِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۖ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٧ لِّيَسۡـَٔلَ ٱلصَّٰدِقِينَ عَن صِدۡقِهِمۡۚ وَأَعَدَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمٗا ٨

الله تبارك وتعالىٰ آگاه فرما رہاہے كہ اس نے تمام انبیاء كرام سے نہایت پختہ، باوزن اور موكد عہد وپیمان لیا ہے كہ وه الله كے دین پر اور اس كے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ الله تبارك وتعالىٰ انبیائے كرام اور ان كے متبعین سے اس پختہ عہد كےبارے میں پوچھے گا كہ كیا انہوں نے اسے پورا كیا اور اس پر سچے اترے تاكہ انہیں نعمتوں بھرى جنت بطور ثواب عطا کرے؟ یا انہوں نے كفر كیا تاكہ انہیں دردناك عذاب دے؟ (السعدى: 659)
سوال: كیا پختہ عہدکے بارے میں (قیامت کے دن) پوچھ تاچھ صرف انبیاء ورسل كےساتھ خاص ہے؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَآءَتۡكُمۡ جُنُودٞ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا وَجُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا ٩

یہ ہوا(غزوۂ خندق کے موقع سے) نبى كریمﷺ كیلئے معجزه تھى؛ كیونكہ نبى كریمﷺ اور صحابہ كرام اس سے بالكل قریب تھے ، ان كے اور طوفانی ہوا کےدرمیان صرف خندق کی چوڑائی تھی،(اس کے باوجود) وہ لوگ اس طوفانی ہوا سے عافیت میں تھے، اور اس كےبارےمیں انہیں كوئى خبربھی نہ تھى۔ (القرطبى : 16؍90)
سوال: غزوۂ احزاب میں (اللہ نے) طوفانی ہوا بھیجی، اس میں معجزہ کی صورت کی وضاحت کریں.

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 10

وَإِذۡ زَاغَتِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلۡقُلُوبُ ٱلۡحَنَاجِرَ

(وإذ زاغت الأبصار)یعنى رعب کی وجہ سے آنکھیں جھکی اور کھلی کی کھلی رہ گئیں، اور كہا گیا: ہر چیز سے ہٹ ہوكر صرف دشمنوں کو دیکھتی رہ گئیں۔(وبلغت القلوب الحناجر) یعنى گھبراہٹ کی وجہ سے ان كے دل اپنى جگہ سے ہٹ گئے اور حلق تك پہنچ گئے۔(البغوى: 3؍544)
سوال: وہ حالات جن سے مومنوں کو غزوہ احزاب کے وقت دوچار ہونا پڑا کس بات پر دلالت کرتے ہیں؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 10

إِذۡ جَآءُوكُم مِّن فَوۡقِكُمۡ وَمِنۡ أَسۡفَلَ مِنكُمۡ وَإِذۡ زَاغَتِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلۡقُلُوبُ ٱلۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠ ١٠

(وتظنون بالله الظنونا) یعنى تم گمان كرنے لگےتھے كہ كفار تمہارےاوپر غالب آجائیں گے، جبكہ الله تعالیٰ تمہیں ان پر غالب کرنے كا وعده كرچكا تھا، رہے منافقین تو انہوں نے برا سوچا اور اس كا اظہار بھى كیا، البتہ مومنوں كےدلوں میں بسا اوقات ( بشرى تقاضوں كے مطابق) گرچہ کچھ اس طرح کا خیال گزرا جسے دور کرنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا ہے لیكن انہوں نے عقلمندى كا ثبوت دیا اور الله كے وعدے پر یقین كیا۔ (ابن جزى: 2؍183)
سوال: مومنوں اور منافقوں كے گمان میں كیا فرق ہے؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 12

وَإِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورٗا ١٢

( والذين في قلوبهم مرض ) کو (المنافقون) پر عطف کیا گیا ہے] اور عطف کے ظاہری اسلوب سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ(جن کے دلوں میں روگ تھا) منافقین نہیں تھے، اسى لئے كہا گیا: یہاں وه لوگ مراد ہیں جن کے دلوں میں منافقین نے شبہ ڈال کر اپنی طرف مائل کرلیاتھا۔ اور كہاگیا: یہاں وه كمزور عقیدے والے مراد ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئےتھے۔(الألوسی: 11؍156)
سوال: اپنے شبہات كو پھیلانے كیلئے منافقین كس طرح كےلوگوں كو چنتےہیں؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 13

وَإِذۡ قَالَت طَّآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ يَٰٓأَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَٱرۡجِعُواْۚ وَيَسۡتَـٔۡذِنُ فَرِيقٞ مِّنۡهُمُ ٱلنَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوۡرَةٞ وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارٗا ١٣

(طائفة منهم) یہاں بہت سارے ایسے لوگ مراد ہیں جن كےدل مریض ہیں بلكہ مرده ہوچكےہیں، جو ایک دوسرے کا چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ (يا أهل يثرب) نبى كریمﷺ نے جو نام (مدینہ ) اور (طیبہ) ركھا تھا ، ان بہترین ناموں كو چھوڑ كرقدیم نام (یثرب )كہا جبکہ اس نام کے قبیح ہونے کا احتمال ہے بایں طور کہ یہ (ثرب) سے ماخوذ ہے جو ملامت اور سرزنش كے معنى میں ہوتاہے، تاكہ دین اسلام سے بیزاری كا اظہار ہوسكے۔(البقاعى: 15؍306)
سوال: نبى كریمﷺكے ذریعے ركھے گئے نام كو چھوڑ كرمدینہ کے قدیم نام كا استعمال كیوں كیا؟