قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٢ ١٢


١٣ ١٣

ﭿ
١٤ ١٤



١٥ ١٥


١٦ ١٦


١٧ ١٧

ﯿ ١٨ ١٨

١٩ ١٩
412
سورۃ لقمان آیات 0 - 12

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا لُقۡمَٰنَ ٱلۡحِكۡمَةَ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِلَّهِۚ وَمَن يَشۡكُرۡ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٞ ١٢

لقمان علیہ السلام کو جو حکمت سب سے پہلے تلقین کی گئی تھی اس حکمت کا تعلق ان کی ذات سے تھا کہ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اللہ کی جن نعمتوں کی آغوش میں ہیں ان پر اللہ کا شکر اداکریں، اور ان ہی نعمتوں میں سے انكا الله كا برگزیده بنده ہونا بھى ہے۔(ابن عاشور: 21؍152)
سوال: آیت كریمہ كى روشنى میں لقمان علیہ السلام كى سب سے پہلى حكمت كیا تھى؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 13

وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ ١٣

لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی اس کے آغاز میں یہ طلب کیا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے بازرہنا، اور ایسا اس لئے کہ جس نفس کو پاک کرنا اور کمال تک پہنچانا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اسے فساد و بگاڑ کے مبادیات سے صاف و ستھرا کیاجائے۔(ابن عاشور: 21؍155)
سوال: لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے كو سب سےپہلے شرك سے منع كیوں كیا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 13

وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ

لقمان علیہ السلام اپنے لڑكے كو نصیحت كررہےہیں جو كہ لوگوں میں سب سے زیاده ان کی شفقت كا مستحق ہے، اور ان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا وہ اس بات کا حقدار بھی ہے کہ (لقمان علیہ السلام بحیثیت باپ) اپنے سب سے افضل علم و معرفت سے اسےنوازیں۔(ابن كثیر: 3؍428)
سوال: لقمان علیہ السلام کی نصیحتیں بیٹے کے لئے تھیں، اس سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 14

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنٖ وَفِصَٰلُهُۥ فِي عَامَيۡنِ

یہاں اللہ تعالیٰ والدہ کی پرورش و پرداخت، اور شب و روز جاگنے میں ان کی مشقت اور تکان کا ذکرکررہا ہے تاکہ بچے کو اس (بےمثال) حسن سلوک کو یاد دلائے جو ماں نے اس کے لئے پیش کیا ہے۔(ابن كثیر: 3؍429)
سوال: الله تعالىٰ نے اولاد كى تربیت میں ماں كى مشقت كو ذكر كیوں كیا ؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 14

أَنِ ٱشۡكُرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيۡكَ إِلَيَّ ٱلۡمَصِيرُ ١٤

كہا گیاہے: الله كا شكریہ ایمان كى نعمت پر ہے اور والدین كا شكریہ تربیت كى نعمت پر ہے، اور سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے كہا: جس نے پانچ اوقات كى نماز پڑھى اس نے الله كا شكریہ ادا كردیا، اور جس نے نمازوں كےبعد والدین كیلئے دعا كى اس نے ان کا شكریہ ادا كردیا۔(القرطبى: 16؍475)
سوال: الله کا شکر اور والدین كا شكر ادا كیسے ہوگا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 17

وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ

لقمان علیہ السلام کومعلوم تھا كہ بھلائى كا حكم دینے والوں اور برائى سے روكنے والوں کو لوگوں كى طرف سے تكلیف پہونچتی ہے اسى لئےانہوں نے اپنے بیٹے کو صبر كرنے كا حكم دیا ۔(ابن كثیر: 3؍430)
سوال: لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بھلائی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کا حکم دینے کے بعد صبر کا حکم کیوں دیا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 19

وَٱقۡصِدۡ فِي مَشۡيِكَ وَٱغۡضُضۡ مِن صَوۡتِكَۚ إِنَّ أَنكَرَ ٱلۡأَصۡوَٰتِ لَصَوۡتُ ٱلۡحَمِيرِ ١٩

یعنى چال میں میانہ روى ہونا چاہیئے، نہ ہى اكڑ كر اور نہ ہى جلدى جلدى، اور عطاء نے كہا: پروقار اور اطمینان وسكون سے چلو جیسا كہ ارشاد بارى ہے: ﴿يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا﴾ (الفرقان: 63) (الله كےبندے زمین پر فروتنى سے چلتےہیں) (البغوى: 3؍511)
سوال: چلنے میں كیسى حكمت اپنانى چاہیئے ؟