قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ
٢٤٦ ٢٤٦





٢٤٧ ٢٤٧




٢٤٨ ٢٤٨
40
سورۃ البقرہ آیات 0 - 246

قَالُواْ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدۡ أُخۡرِجۡنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبۡنَآئِنَاۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ تَوَلَّوۡاْ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٢٤٦

طالوت وجالوت کے واقعہ میں عبرت ونصیحت کاپہلو یہ ہے کہ:جنگ کی شروعات کے بعد یا ان پر جنگ وقتال فرض کردئے جانے کے بعد ان (بنی اسرائیل) کی جو حالت وکیفیت سامنے آئی ،اس قسم کی حالت کے واقع ہونے سے ڈرانا اور دھمکانا ہے۔(ابن عاشور:۲؍۴۸۴)
سوال: طالوت و جالوت کے قصہ میں عبرت کا مقام کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 246

قَالُواْ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدۡ أُخۡرِجۡنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبۡنَآئِنَاۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ تَوَلَّوۡاْ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٢٤٦

آیت میں اس امت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ: اپنی جانب سے پہل کرکے لڑائی یا جنگ کا مطالبہ نہ کرے بلکہ اقامتِ دین سے روکے جانے پر دفاع و جہاد کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا) (سورۂ حج:۳۹) جن سے جنگ لڑی جارہی ہے انہیں اجازت دی گئی ہے اس لئے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے لہٰذا مومن کا حق ہے کہ وہ جنگ سے گریزاور انکار کرے اور (خود سے)اس کا مطالبہ نہ کرے۔ کیونکہ اگر اس نے طلب کیا اور اس کے مطالبہ پر جنگ عائد کردی گئی تب وہ اس حکم کو پورا نہیں کرپائیگاجیسے یہ لوگ(بنی اسرائیل)عاجزرہ گئے جب کہ کچھ کو چھوڑ کر سب لوگ الٹے قدموں بھاگ کھڑے ہوئے ۔ (البقاعی:۱؍۴۷۰)
سوال: اصل یہ ہے کہ ہم دعوتِ دین سے شروعات کریں تو پھر جہاد کا حکم (شرعاً) کب ہوتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 246

قَالُواْ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدۡ أُخۡرِجۡنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبۡنَآئِنَاۖ

اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ انہوں نے یہ(لڑنے اور مقابلہ کرنے کی ) بات، دراصل گھر بار اور بال بچوں سے نکال دیے جانے پر غصہ کے جذبہ سے کہی تھی۔جبکہ اللہ کی راہ میں لڑائی کرنے والا تو وہ ہے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے لڑتا ہے۔ (البقاعی:۱؍۴۷۲)
سوال: مجاہد کبھی اللہ کی مدد سے محروم ہوجاتا ہے اس کاایک سبب یہ بھی ہے کہ اس کے جہاد و قتال کی نیت وارادہ، اللہ واسطے نہ ہو ۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 246

فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ تَوَلَّوۡاْ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٢٤٦

جب ان پر جنگ فرض کردی گئی اور انہوں نے حقیقت دیکھ لی اور جنگ کے بارے میں بذات خود سوچ بچار کرلیا تو (تَوَلَّوۡاْ) پلٹ گئے۔ان کی نیتوں میں خلل آگیا۔ اور ان کے حوصلے پست اور کمزور ہوگئے۔
عیش پسند خوشحال قوموں کا یہی مزاج ہوتا ہے۔انا اورگھمنڈ میں جنگ کی آرزوکرتے ہیں،پھر جب جنگ کا سامنا ہوتا ہے تو بھیگی بلی بن کر بزدل وناتواں بن بیٹھتے ہیں اور اپنی طبیعت ومزاج کی بات ماننے لگ جاتے ہیں۔ (ابن عطیہ:۱؍۳۳۱)
سوال:عیش وآرام پر سماج کی تربیت میں کیا اندیشے اورخطرات ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 247

إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰهُ عَلَيۡكُمۡ وَزَادَهُۥ بَسۡطَةٗ فِي ٱلۡعِلۡمِ وَٱلۡجِسۡمِۖ

یعنی طالوت علم میں اور قدوقامت میں تم سے زیادہ کامل ہیں۔یہیں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ بادشاہ وحکمراں کو صاحبِ علم ،اچھی شکل وہیئت والا اور جسم وجان میں مضبوط ہونا چاہئے۔ (ابن کثیر:۱؍۲۸۵)
سوال: اس آیت میں بعض ایسے اوصاف کا ذکر ہے جن سے بادشاہ کو متصف ہونا چاہئے۔وہ صفات کیا ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 247

إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰهُ عَلَيۡكُمۡ وَزَادَهُۥ بَسۡطَةٗ فِي ٱلۡعِلۡمِ وَٱلۡجِسۡمِۖ

آیت میں علم کی مضبوطی کو جسم کی مضبوطی سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔اس میں اشارہ ہے کہ روحانی فضیلتیں، جسمانی فضیلتوں سے زیادہ بلند وبرترہوتی ہیں۔ ان دونوں کے بیچ کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ (الألوسی:۲؍۱۶۷)
سوال: علم کی زیادتی کو جسم کی مضبوطی پر مقدم کیوں کیا گیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 247

إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰهُ عَلَيۡكُمۡ وَزَادَهُۥ بَسۡطَةٗ فِي ٱلۡعِلۡمِ وَٱلۡجِسۡمِۖ

تم طالوت کی مفلسی اورنسبتاً حسب ونسب میں کمتر ی کے سبب اپنے اوپر ان کی بادشاہت کو بعید (اور خلافِ عقل) مت سمجھو۔ (اس کی کئی وجہیں ہیں)
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چن لیناسب سے بنیادی اور اہم بات ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور پسند کرلیا ہے۔اور اس کی ذات پاک تمہاری مصلحتوں اورفائدوں کو خوب جانتی ہے ۔
دوسری وجہ: بادشاہ کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ اس کے پاس بھرپور علم ہونا چاہئے،تاکہ اس کے ذریعہ سیاسی امورکو جاننے اور سمجھنے کی پوری قدرت حاصل رہے اور اسی طرح بدن کی مضبوطی بھی درکار ہے تاکہ دلوں میں اس کا بھرپور رعب ودبدبہ رہے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے اور جنگی مشقتوں کو جھیلنے میں قوی ومضبوط رہے۔ (الألوسی:۲؍۱۶۷)
سوال:انسان کا انتخاب کرنے میں ربّانی پیمانوں اور انسانی پیمانوں میں کیا فرق ہے؟