قرآن
ﮨ
ﱌ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
٢٩ ٢٩ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ٣٠ ٣٠ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ٣١ ٣١ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ٣٢ ٣٢ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ٣٣ ٣٣ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٣٤ ٣٤
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٣٥ ٣٥
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ مِن شَٰطِيِٕ ٱلۡوَادِ ٱلۡأَيۡمَنِ فِي ٱلۡبُقۡعَةِ ٱلۡمُبَٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّيٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٠
(رب العالمين) کی صفت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام مخلوقات اس کے زیرنگیں ہیں اس صفت کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ اس کے ذریعہ رسالت کا بوجھ اٹھانے میں جو سختی ہے،اس کے لئے موسیٰ علیہ السلام کا دل مضبوط ہوجائے۔ (۲۰؍۱۱۲)
سوال:آیت کریمہ میں (رب العالمين) کی صفت کس بات پر دلالت کرتی ہے؟
وَأَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰٓ أَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡأٓمِنِينَ ٣١
یہ احتمال باقی رہ جاتاہے کہ وہ شخص خوف سے آزادہوکرآئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہواسی لئے فرمایا: (إنك من الآمنين) بیشک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں۔ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہوجاتا ہے۔چنانچہ موسیٰ علیہ السلام ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہوکر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے آگے آئے۔اس طور پر کہ ان کے ایمان میں اضافہ اوریقین مکمل ہوچکا تھا۔تو یہ ایک معجزہ تھا جس کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایاتاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تویقین کامل کے مقام پر فائز ہوں۔پس اس صورت میں آپ زیادہ جرأت، زیادہ قوت وصلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے۔ (السعدی؍ ۶۱۵)
سوال:دلوں کا خوف اور ان کا اطمینان اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ٣٤
مطلق کسی اور کی تائید نہ مانگ کر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی تعیین کردی کیونکہ آپ کو ان کی امانت داری کا علم تھا۔آپ کو اچھی طرح پتہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے اور خود آپ کے لئے کتنے مخلص تھے اور ساتھ ہی آپ ان کی زبان کی فصاحت سے بھی واقف تھے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۱۶)
سوال:انبیاء کرام علیہم السلام کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ دعوت کے میدان میں ہمیشہ ساتھ رہنے والے ایسے ساتھی کے حریص رہے ہیں جو مناسب صفات کا حامل ہو۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ٣٤
(فأرسله معي ردءًا) اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج دیجئے تاکہ میرا معاون ہوسکے۔ (يصدقني) جو میری تصدیق کرے۔ کیونکہ خبروں کی تصدیق میں ایک دوسرے کی موافقت کرنا حق کو طاقتور بنادیتاہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مانگ پوری کرتے ہوئے فرمایا: (سنشد عضدك بأخيك) یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعہ آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت وقوت عطاکریں گے۔ (السعدی؍ ۶۱۵)
سوال:جو دعوت کی ذمہ داری ادا کرنے میں سچا ہوگا وہ اپنی کمی کو پورا کرنے کے لئے دوسرے وسائل بھی اپنانے کی کوشش کریگا۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے....
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ
بعض سلف کا کہنا ہے: دنیا میں اپنے بھائی پر احسان کرنے میں موسیٰ علیہ السلام سے بڑا کوئی محسن نہیں ہے کیونکہ آپ نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے حق میں اللہ تعالیٰ سے نبی اور رسول بنانے کی سفارش کی تاکہ وہ آپ کے ساتھ فرعون اور اس کی فوج کے پاس جانے میں ساتھ دیں۔ (ابن کثیر: ۳؍ ۳۷۵)
سوال:موسیٰ علیہ السلام کا ہارون علیہ السلام پر بڑا احسان ہے۔وضاحت کیجئے.
وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُلۡطَٰنٗا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيۡكُمَا بِـَٔايَٰتِنَآۚ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلۡغَٰلِبُونَ ٣٥
(أنتما ومن اتبعكما الغالبون)تم اور تمہارے متبعین غالب رہوگے۔ یہ وعدہ اس وقت موسیٰ علیہ السلام سے کیا گیا تھا جبکہ آپ بالکل تنہا تھے اور پردیس رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ رہے تھے۔حالات وواقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور آپ کو پورے ملک اور بندوں پر اختیار عطاکردیا اور آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آگئے۔ (السعدی؍ ۶۱۵)
سوال:فرعون کے پاس موسیٰ علیہ السلام کو بھیجنے سے پہلے یہ آیت کس چیزکا فائدہ دیتی ہے؟
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُلۡطَٰنٗا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيۡكُمَا بِـَٔايَٰتِنَآۚ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلۡغَٰلِبُونَ ٣٥
قصہ کے اس حصہ میں عبرت کا مقام یہ ہے کہ اس میں اس بات سے آگاہ کیاگیاہے کہ رسالت دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے چنندہ بندوں پر خاص فیض ہوتا ہے۔ اور محمد ﷺ کی رسالت بالکل موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کی طرح اچانک ملی تھی۔چنانچہ محمد ﷺ کو غار حرامیں بالکل اسی طرح ندادی گئی جیسے موسیٰ علیہ السلام کو جبل ِطورپر ندا دی گئی۔اس وقت آپ ﷺکو اسی طرح خوف لاحق ہوا جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ہوا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بالکل اسی طرح ثابت قدم کردیا جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ثابت قدم کردیا تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے لئے دشمنوں کے مقابلہ میں کافی ہوگیا بالکل اسی طرح جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں کافی ہوگیا۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۱۸)
سوال:آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پاک محمد ﷺکو ثابت قدم رکھے گا اور آپ کی ضرور مددفرمائیگا۔ اس کی وضاحت کیجئے.