قرآن
ﮨ
ﱌ
ﭛ ٢٢ ٢٢ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ٢٣ ٢٣ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٢٤ ٢٤ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٢٥ ٢٥ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
٢٦ ٢٦ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ٢٧ ٢٧ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ٢٨ ٢٨
قَالَ مَا خَطۡبُكُمَاۖ قَالَتَا لَا نَسۡقِي حَتَّىٰ يُصۡدِرَ ٱلرِّعَآءُۖ وَأَبُونَا شَيۡخٞ كَبِيرٞ ٢٣
(قالتا لا نسقي حتى يصدر الرعاء) یعنی ہم عورتیں ہیں،مردو ں کی بھیڑ میں نہیں جاسکتیں۔(وأبونا شيخ كبير) یعنی وہ اس قدر بوڑھے ہیں کہ یہ کام خود نہیں کرسکتے،چوپایوں کو پانی نہیں پلاسکتے ہیں۔ چنانچہ مجبوراً ہم دونوں لوگوں کے فارغ ہونے کا انتظار کرتی ہیں پھر اس کے بعد پانی پلاکر واپس گھرجاتی ہیں۔ (الطبری: ۱۹؍۵۵۴)
سوال:آیت سے پتہ چلا کہ مردوزن کے اختلاط کی ممانعت انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَآ أَنزَلۡتَ إِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٖ فَقِيرٞ ٢٤
چنانچہ سب سے پہلی چیز جو موسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے ملی وہ علم وحکمت ہے۔اور اللہ کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والی بھلائیوں میں سے ان کا قتل سے نجات پانا، بادشاہت کی پرتعیش نعمتوں میں مکمل تربیت پانا اور عزت حاصل کرنا ہے۔اور فرعونی خاندان کے عقائد باطلہ سے آپ کا محفوظ رہنا ہے۔چنانچہ آپ نے اس کی منفعتوں سے فائدہ اٹھایا اور اس کی رذالتوں اور نقصانات سے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔
انہی بھلائیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کو آپ کے ذریعہ غلبہ عطاکیا اور یہ کہ دوبارہ آپ کو ناحق قتل سے نجات دلائی اور اس محفوظ جگہ تک آپ کی رہنمائی فرمائی جہاں ایک نبوی گھرانے سے آپ کا تعارف ہوا۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۰۲)
سوال:خیر کی تین ایسی صورتیں ذکر کیجئے جن سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نوازا تھا؟
فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ قَالَتۡ إِنَّ أَبِي يَدۡعُوكَ لِيَجۡزِيَكَ أَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَاۚ
گویا حیاء ان کے لئے ایسی سواری تھی جس پر وہ پوری طاقت سے سوار تھیں اور اس کی باگ کی مالک تھیں اسی لئے حرف استعلاء(فوقیت)سے تعبیر کیا اور (على استحياء) فرمایا۔یعنی حیاءکا وجود ان کی ذات میں ہے کیونکہ انہیں ایک اجنبی شخص کے پاس جاکر بات کرنے اور اس کے ساتھ چلنے کا مکلف بنایا گیا۔ (البقاعی: ۱۴؍۲۶۸)
سوال:حیا اس خاتون کے ایک نیک آدمی سے شادی کرنے کا سبب بن گئی۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
قَالَتۡ إِحۡدَىٰهُمَا يَٰٓأَبَتِ ٱسۡتَـٔۡجِرۡهُۖ إِنَّ خَيۡرَ مَنِ ٱسۡتَـٔۡجَرۡتَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡأَمِينُ ٢٦
(استأجره)یعنی اسے اپنے پاس بطور مزدور رکھ لیں(إن خير من استأجرت القوي الأمين) یہ کلام بہت ہی جامع،بلیغ اور حکمت سے پر ہے۔
روایات میں ہے کہ:اس خاتون کے والد نے اس سے پوچھا: ان کی طاقت وقوت اور امانت داری کا تمہیں کیسے علم ہوا؟ اس نے جواب دیا: قوت تو میں نے اسی وقت دیکھا جب انہوں نے کنویں کے منہ سے اکیلے ہی پتھر کو ہٹادیا۔اور امانت داری اس وقت دیکھا جب انہوں نے مجھے ایک نظر بھی نہیں دیکھا۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۴۳)
سوال:جس کے ہاتھ میں زمام امر ہے اس کی خیرخواہی کرنی چاہئے۔ اس بات کی مشروعیت آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.
إِنَّ خَيۡرَ مَنِ ٱسۡتَـٔۡجَرۡتَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡأَمِينُ ٢٦
یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں دیکھی جانی چاہئے جسے کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں بگاڑ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک صفت مفقود ہو۔جبکہ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی تکمیل بہت اچھی طرح ہوتی ہے۔ (السعدی؍ ۶۱۴)
سوال:آیت سے اس شخص کے لئے عمدہ صفات کا استنباط کیسے کیا جاسکتا ہے جو عام لوگوں کے معاملات کا ذمہ دارہو؟
وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أَشُقَّ عَلَيۡكَۚ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٢٧
یعنی صاحبِ مدین نے آپ کو کام میں نرمی اور حسن معاملہ کے ذریعہ رغبت دلائی۔اور یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نیک آدمی کے لئے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن ِاخلاق سے کام لے۔ (السعدی؍ ۶۱۵)
سوال:آیت سے کیسے پتہ چل رہا ہے کہ مالکان اور ذمہ داران پربلند اخلاق کا اپنانا واجب ہے؟
سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٢٧
اس سے صرف صاحب معاملہ کا تعارف مقصود ہے،تزکیہ نفس نہیں، جو منع ہے اس سے مراد وہ تزکیہ ہے جس کا مقصد فخر اور خودستائی ہو۔لیکن جس کا مقصد دین یا کسی معاملہ سے ہو تو اچھے مقصد کی خاطر ایسا ہوسکتا ہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۰۹)
سوال:کیا شعیب علیہ السلام کی اس بات (وما أريد أن أشق عليك ستجدني إن شاء الله من الصالحين) میں تزکیہ نفس پایا جاتا ہے؟