قرآن
ﮨ
ﱌ
ﭛ ١٤ ١٤ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ١٥ ١٥ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ١٦ ١٦ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ١٧ ١٧ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ١٨ ١٨ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
١٩ ١٩ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٢٠ ٢٠
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ٢١ ٢١
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسۡتَوَىٰٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٤
(وكذلك نجزي المحسنين)یعنی اچھی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ بھی اچھا دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق انہیں علم وحکمت سے سرفراز فرماتا ہے۔ تویہ آیت کریمہ موسیٰ علیہ السلام کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ (السعدی؍۶۱۳)
سوال:آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ احسان کا بدلہ عظیم ترین ہوتا ہے۔ اس کا سبب واضح کریں.
قَالَ هَٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوّٞ مُّضِلّٞ مُّبِينٞ ١٥
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نفس ِانسانی میں اصل چیزخیر ہے اور یہی فطرت ہے۔اس سے منحرف ہونے کے لئے غیر فطری سبب کا ہوناضروری ہے اور وہ سبب نفس ِانسانی کے اندر شیطان کا کچوکا لگاکر مداخلت کرنا ہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۹۰)
سوال:آیت کریمہ کی روشنی میں بتائیے کہ نفس ِانسانی میں اصل کیا ہے؟
وَدَخَلَ ٱلۡمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفۡلَةٖ مِّنۡ أَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنۡ عَدُوِّهِۦۖ فَٱسۡتَغَٰثَهُ ٱلَّذِي مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِي مِنۡ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيۡهِۖ قَالَ هَٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوّٞ مُّضِلّٞ مُّبِينٞ ١٥
(فقضى عليه) یعنی اسے قتل کردیا، دراصل موسیٰ علیہ السلام اس قبطی کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے لیکن آپ کے گھونسہ سے اتفاقاً اس کی موت ہوگئی اس وجہ سے آپ اس پر شرمندہ ہوئے اور یہ سمجھا کہ ان کے ہاتھ میں شیطان کا کچوکا شامل تھا اور اس گھونسہ میں جو غضبناکی شامل تھی وہ شیطان کے وسوسہ کا نتیجہ تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس بات کی صراحت بھی کردی اور اسے شیطان کا عمل قرار دیا ہے۔غصے کی حالت میں موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے میں ان کے ارادے سے زیادہ قوت آگئی تھی۔ (ابن عطیہ: ۴؍ ۲۸۰)
سوال:قبطی کو موسیٰ علیہ السلام نے خود قتل کیا۔لیکن ا س قتل کی نسبت شیطان کی طرف کیوں کی؟
قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي فَٱغۡفِرۡ لِي فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نفس پر جو ظلم کیا تھا اس کا اعتراف کرلیا اور وہ کسی انسان پر ایسی زیادتی تھی جس کی آپ کو اجازت نہیں تھی۔ (ابن تیمیہ: ۵؍۷۱)
سوال:حق کا اعتراف انبیاء کی صفت ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي فَٱغۡفِرۡ لِي فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ١٦
پھر موسیٰ علیہ السلام نے اعتراف کیا اور گناہ کی معافی مانگ لی اور اللہ نے معاف بھی کردیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ایسے قتل پر کیسی مغفرت جب مقتول کافر ہو؟تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ آپ کو اس کے قتل کی اجازت نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن کہیں گے کہ:میں نے ایسے شخص کو قتل کردیا جس کی مجھے اجازت نہیں تھی۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۴۱)
سوال:موسیٰ علیہ السلام نے ایک کافر کے قتل پر مغفرت کیوں مانگی؟
قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي فَٱغۡفِرۡ لِي فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ١٦
موسیٰ علیہ السلام گھونسہ مارنے پر بہت شرمندہ ہوئے جس سے ایک شخص کی جان چلی گئی۔اسی شرمندگی نے آپ کو اپنے رب سے گڑگڑانے اور اس گناہ سے معافی مانگنے پر ابھارا۔امام قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام نے اس گناہ سے نکلنے کا راستہ معلوم کرکے استغفار کرلیا۔پھر برابر آپ اس کو اپنے نفس پر گناہ شمار کرتے رہے،حالانکہ آپ کو اس کی مغفرت کا علم تھا۔یہاں تک کہ آپ قیامت کے دن بھی کہیں گے کہ میں نے ایک ایسی جان لے لی جس کی مجھے اجازت نہیں تھی۔
اس طرح آپ نے اپنے لئے اسے گناہ سمجھا اور کہا: (ظلمت نفسي فاغفر لي ) یعنی میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف فرمادے۔
کیونکہ کسی نبی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو قتل کردیں۔اوراس لئے بھی کہ انبیاء اس قدر شفیق اور مہربان ہوتے ہیں جتنا کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ (القرطبی: ۱۶؍ ۲۴۷-۲۴۸)
سوال:موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو قتل کرکے اپنے آپ کو گناہگار کیوں سمجھا؟
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ فَلَنۡ أَكُونَ ظَهِيرٗا لِّلۡمُجۡرِمِينَ ١٧
(الظهير) مددگار کو کہتے ہیں (بِمَاۤ)میں “ب” سبب بیان کرنے کے لئے آیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تیرے احسان کی وجہ سے میں مجرموں کا کبھی مددگار نہیں بنوں گا۔یہ ایک عہد تھا جو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے کیا تھا۔ (ابن جُزی: ۲؍ ۱۴۰)
سوال:مومن پر اس وقت کیا واجب ہوتا ہے جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجانے کے بعد اللہ کی طرف سے اپنے اوپر احسان اور ستر پوشی کی نعمت دیکھے؟