قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٦ ٦


٧ ٧

ﭿ
٨ ٨


٩ ٩


١٠ ١٠


١١ ١١


١٢ ١٢

١٣ ١٣
386
سورۃ القصص آیات 0 - 7

وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَرۡضِعِيهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَأَلۡقِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحۡزَنِيٓۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٧

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ وہ مومنوں کو ایمان نیز ہر اس چیز سے نوازتا ہے جو ان کے لئے نفع بخش ہے اور یہ مومنوں کی طرف وحی ہوتی ہے گرچہ وہ انبیاء نہیں ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۵؍۷۰)
سوال:آیت کریمہ نے مومنوں پر اللہ کے فضل کو واضح کیا ہے۔وہ کیا ہے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 11

وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَرۡضِعِيهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَأَلۡقِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحۡزَنِيٓۖ إلى قوله تعالى وَقَالَتۡ لِأُخۡتِهِۦ قُصِّيهِۖ

بندے کو اگر یہ پختہ علم ہوجائے کہ قضا وقدر اور اللہ کا اٹل فیصلہ نافذہوکر رہتا ہے تو وہ ان اسباب کے اپنانے میں کبھی دیر اور سستی نہیں کریگا جن کا اسے حکم دیا گیا ہے اور یہ چیز اللہ کی قضاء و قدر پر ایمان کے منافی بھی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ بچے کو ان کے پاس واپس لوٹادیگا۔اس کے باوجود بچے کی واپسی کے لئے انہوں نے پوری کوشش کی اور اس کے لئے اپنی بیٹی یعنی موسیٰ علیہ السلام کی بہن کو پیچھے لگا دیا تاکہ اس پر نظر رکھے۔(السعدی؍۶۱۹)
سوال:موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے ان کی بہن کو موسیٰ علیہ السلام کی بابت معلومات حاصل کرنے کے لئے پیچھے بھیجا۔تو کیا اللہ کے وعدے کے ہوتے ہوئے یہ ایمان کے منافی ہے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 7

وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَرۡضِعِيهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَأَلۡقِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحۡزَنِيٓۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٧

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو دودھ پلانے کا حکم دیا تاکہ ماں کے دودھ سے ان کا جسم(بنیادی ڈھانچہ)مضبوط ہوسکے۔اور دریا میں ڈالنے سے پہلے آخری مرتبہ بھی ماں کا دودھ پی لیں تاکہ وہ دریا میں ڈالنے سے آل ِفرعون کے اٹھانے تک خوراک کا کام کرتارہے یہاں تک کہ آپ فرعون کے محل میں پہنچ جائیں۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۷۳)
سوال:دریا میں ڈالنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو دودھ پلانے کا حکم کیوں دیا گیا؟

سورۃ القصص آیات 0 - 9

وَقَالَتِ ٱمۡرَأَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٖ لِّي وَلَكَۖ لَا تَقۡتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٩

فسادیوں اور فتنہ پرور لوگوں کے بیچ میں نیک لوگوں کے وجود سے فسادیوں کا فساد کچھ نہ کچھ کمزور پڑجاتا ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ فرعون کی بیوی اس بچے (موسیٰ ) کے قتل میں رکاوٹ بنی تھی حالانکہ فرعون کو معلوم تھا کہ یہ اسرائیلی بچہ ہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۸۶)
سوال:فسادیوں کے بیچ میں نیک لوگوں کا وجود فساد میں کمی کا باعث ہوتا ہے۔واضح کیجئے.

سورۃ القصص آیات 0 - 9

عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗا

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مقدر فرمادیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ پہنچائے جس نے یہ بات کہی تھی چنانچہ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا، اسے اس بچہ سے شدید محبت ہوگئی اور وہ بچہ اس کے لئے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کرگیا یہاں تک کہ وہ بڑاہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت ورسالت سے سرفراز کردیا تو اس نیک عورت نے فوراًاسلام قبول کرلیا۔ رضی اللہ عنہا وأرضاھا۔ (السعدی؍۶۱۲)
سوال:کیاموسیٰ علیہ السلام پر شفقت ومہربانی کرنے کی وجہ سے فرعون کی بیوی کو فائدہ ہوا؟

سورۃ القصص آیات 0 - 10

وَأَصۡبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَٰرِغًاۖ إِن كَادَتۡ لَتُبۡدِي بِهِۦ لَوۡلَآ أَن رَّبَطۡنَا عَلَىٰ قَلۡبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠

بندہ اگر مصیبت میں پڑے اور صبر کرکے جما رہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مصیبت میں ہائے وائے کرنا کمزور ایمان کی پہچان ہے۔ (السعدی؍۶۱۳)
سوال:ہائے واویلاکرنے سے ایمان کے گھٹنے بڑھنے کا کیا تعلق ہے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 10

وَأَصۡبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَٰرِغًاۖ إِن كَادَتۡ لَتُبۡدِي بِهِۦ لَوۡلَآ أَن رَّبَطۡنَا عَلَىٰ قَلۡبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠

اس کا ایک مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے دل میں موسیٰ کی یاد کے سواکوئی خیال باقی نہ رہا۔ (ابن تیمیہ: ۱۰؍۲۱۹)
سوال:اولاد کے لئے ماں کی محبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.