قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٥ ٤٥


٤٦ ٤٦

٤٧ ٤٧
ﭿ
٤٨ ٤٨


٤٩ ٤٩

٥٠ ٥٠


٥١ ٥١

٥٢ ٥٢

٥٣ ٥٣

٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥
381
سورۃ النمل آیات 0 - 47

قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ ٤٧

(قال طائركم عند الله) یعنی بحکم ِالٰہی جو خیر وشر تمہیں لاحق ہوتا ہے وہ پہلے سے مقدر ہوچکا ہے اور تقدیر کو طائر یعنی پرندہ کہا گیا ہے کیونکہ یہ بہت جلدی انسان پر اترتاہے اس لئے کہ فیصلہ کن تقدیر سے زیادہ تیز کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔ (البغوی: ۳؍۴۰۷)
سوال:تقدیر کو پرندہ کیوں کہا گیا ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 47

قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ ٤٧

رائے ومشورے اور تدبیر کے معاملہ میں بدشگونی کے اعتقاد سے بڑھ کر کوئی چیز نقصاندہ نہیں ہوتی ہے چنانچہ جس کا یہ اعتقاد اور خیال ہے کہ کسی گائے یا کوے کی آواز سے تقدیر بدل جاتی ہے یا کوئی مقدر ٹل جاتا ہےتو وہ سراسر جاہل ہے۔(القرطبی: ۱۶؍۱۸۱)
سوال:انسان پر بدشگونی کی خطرناکی بیان کیجئے.

سورۃ النمل آیات 0 - 47

قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ ٤٧

(قالوا اطَّيَّرنا بك وبمن معك)اللہ انہیں برباد کرے۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں صالح علیہ السلام کے چہرے میں کوئی خیر نظر نہیں آیا اور یہ کہ صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھ دوسرے مومن ان کی بعض دنیوی خواہشات کے پورا ہونے میں رکاوٹ بن گئے ہیں چنانچہ صالح علیہ السلام نے ان سے کہا: (طائركم عند الله) یعنی تمہارے اوپر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ (بل أنتم قوم تفتنون) یعنی تمہیں خوشی وغمی اور خیر وشر کے ذریعہ آزمایا جائیگا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ تم لوگ برائیوں سے باز آکر توبہ کرتے ہویا نہیں!(السعدی: ۶۰۶)
سوال:انسان پر جو مصیبت اور پریشانی آتی ہے اس کا کیا سبب ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 50

وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا وَمَكَرۡنَا مَكۡرٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٥٠

اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو مکر کہا ہے کیونکہ چپکے سے کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر تدبیر کی گئی تھی۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۲۸۴)
سوال:آیت کریمہ میں سازش کو مکر کیوں کہا گیا ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 52

فَتِلۡكَ بُيُوتُهُمۡ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٥٢

کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ظلم گھر کی تباہی اور بربادی کا سبب بنتاہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں اللہ کی کتاب میں پاتا ہوں کہ ظلم گھروں کو برباد کردیتا ہے۔اور انہوں نے یہ آیت پڑھی۔
تورات میں آیا ہے کہ: ابن آدم!ظلم نہ کر،ورنہ تیرا گھر برباد ہوجائیگا۔
کہا گیا ہے کہ اس آیت میں ظالم کی ہلاکت وبربادی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ گھر کی بربادی اس کی ہلاکت کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ اب یہ چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی
کہ ظلم یعنی اللہ کے بندوں پر ظلم وستم گھرو ں کی تباہی کا سبب بنتا ہے جس کا مشاہد ہ اس زمانہ میں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ (الألوسی: ۱۰؍۲۰۹)
سوال:ظلم کا سب سے بھیانک انجام کیا ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 52

فَتِلۡكَ بُيُوتُهُمۡ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٥٢

جب اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کے کفر و تکذیب اور فتنہ و فساد جیسے اعمال کو بطور خاص ظلم کی صفت سے ذکر کیا ہےتو اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بستیوں کی تباہی میں ظلم کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۲۸۵)
سوال:اس آیت میں قوم ثمود کے عذاب کے اسباب میں صرف ظلم ہی کو کیوں ذکر کیا گیا ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 54

وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ ٥٤

یعنی یہ بد فعلی ایسا بھیانک اور قبیح عمل ہے جسے عقل او ر فطرت کے ساتھ تمام شریعتیں بھی برا گردانتی ہیں۔ (السعدی: ۶۰۷)
سوال:قوم ِلوط کے جرم کو فحش عمل کیوں کہا گیا ہے؟