قرآن
ﮦ
ﱋ
ﭛ ١٨٥ ١٨٥ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ١٨٦ ١٨٦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ١٨٧ ١٨٧ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ١٨٨ ١٨٨ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ١٨٩ ١٨٩
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ١٩٠ ١٩٠ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ١٩١ ١٩١ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ١٩٢ ١٩٢ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ١٩٣ ١٩٣ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٩٤ ١٩٤ ﮣ
ﮤ ﮥ ١٩٥ ١٩٥ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ١٩٦ ١٩٦ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ١٩٧ ١٩٧ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
١٩٨ ١٩٨ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ١٩٩ ١٩٩ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ٢٠٠ ٢٠٠ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ٢٠١ ٢٠١ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٢٠٢ ٢٠٢ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ٢٠٣ ٢٠٣ ﯽ ﯾ ٢٠٤ ٢٠٤ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ٢٠٥ ٢٠٥ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ٢٠٦ ٢٠٦
فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ١٨٧ قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٨٨ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ
چونکہ ان لوگوں نے آسمان سے اپنے اوپر عذاب کا ٹکڑا لانے کا سوال کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسی جنس سے انہیں سزادی۔یعنی سات دن مسلسل انہیں سخت گرمی لاحق رہی جس سے انہیں کوئی چیز بچا نہ پائی۔پھر ایک بدلی نے آکر ان پر سایہ کردیا سب لوگ اس بادل کے نیچے اکٹھے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے یکایک ان کے اوپر اس بادل سے آگ کی چنگاریاں،شعلے اور بھڑکتی ہوئی آگ چھوڑدی اور نیچے سے زمین نے انہیں خوب ہلایااور پھر ایک سخت چیخ آئی جس سے سب کی جان نکل گئی۔ (ابن کثیر: ۳؍ ۳۳۵)
سوال:شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی جنس سے عذاب دیا گیا جس کا انہو ں نے مطالبہ کیا تھا۔اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ ١٩٠
اگر کہا جائے کہ اس جملہ (إن في ذلك لآية وما كان أكثرهم مؤمنين) کو ہر قصہ کے ساتھ باربار کیوں ذکر کیا گیا ہے؟تو اس کا جواب یہی ہوگاکہ یہ نصیحت پکڑنے میں زیادہ بلیغ ہے اور دلوں کو تنبیہ کرنے میں زیادہ سخت ہے۔اور چونکہ ہر قصہ ایک مستقل کلام کی حیثیت رکھتا ہے اسی لئے ہر قصہ کے اختتام پر وہی جملہ دہرایا گیاجو پہلے قصہ کے خاتمہ پر مذکور تھا۔(ابن جزی: ۲؍ ۱۲۳)
سوال:سورت میں ہر قصہ کے بعد (إن في ذلك لآية وما كان أكثرهم مؤمنين) ذکر کرنے سے کیا فائدہ ہے؟
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٩٢
وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا ہے وہ زمین وآسمان کو پیدا کرنے والا اور تمام عالم ِعلوی اور سفلی کا مربی ہے۔جس طرح اس نے بندو ں کی جسمانی اور دنیاوی مصلحتوں میں رہنمائی فرماکر ان کی تربیت کی،اسی طرح وه ان کے دین وآخرت کی مصلحتوں میں بھی رہنمائی فرماکر ان کی تربیت کرتا ہے۔اورسب سے عظیم چیز جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتابِ کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ اور اس کے اندر دنیا و آخرت کی مصلحتوں اور اخلاق فاضلہ کی ایسی رہنمائیاں ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں ملتی ہیں۔ (السعدی: ۵۹۷-۵۹۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اس جگہ اپنے آپ کو (رب العالمين) کہا ہے،اس کا کیا فائدہ ہے؟
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٩٢ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ ١٩٣ عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ ١٩٤ بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ ١٩٥
آپ غور کیجئے کہ کیسے یہ تمام عمدہ و فاخر فضائل اس عظیم کتاب میں جمع ہوگئے ہیں کہ یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے،اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا،اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اوران کے جسم کا سب سے افضل حصہ یعنی آپ ﷺ کے دل پر نازل ہوئی،سب سے افضل امت پر نازل ہوئی جو تمام لوگوں کے لئے برپا کی گئی اور سب سے افضل،سب سے فصیح اور سب سے وسیع و واضح عربی زبان میں نازل ہوئی۔ (السعدی: ۵۹۸)
سوال:ان سارے فضائل کے بارے میں گفتگو کریں جو قرآن مجید سے متعلق ہیں.
أَوَ لَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ١٩٧
بیشک اگر کسی معاملہ میں شبہ واقع ہوجائے تو باصلاحیت وتجربہ کار اہل علم کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے جیسے ان جادوگروں نے جو جادوکے علم میں ماہر تھے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کی صداقت اور اس کی سچائی پہچان لی اور یہ کہ وہ کوئی جادو نہیں ہے۔لہٰذا اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو اہمیت نہیں دی جائے گی۔ (السعدی؍ ۵۹۸)
سوال:بنی اسرائیل کے علماء کا علم یہاں کیوں خاص کیا گیا کہ ان کا علم اس قرآن پاک کی سچائی کے لئے کافی ہے؟
فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣
یعنی تاکہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں، وہ لوٹنے اور مہلت کی تمنا کریں گے۔ (البغوی: ۳؍ ۳۷۳)
سوال:عذاب آجانے کے بعد رسولوں کو جھٹلانے والے کس بات کی تمنا کریں گے؟
أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ ٢٠٥
مطلب یہ ہے کہ مہلت کی مدت بے سود ہوگی اگر اس کے بعد عذاب آجائے گرچہ اس مہلت کی مدت سالہاسال پر مشتمل ہوکیونکہ ہر آنے والا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۲۴)
سوال:انسان اگر گناہوں پراڑا ہواہو تو لمبی عمر اسے کیافائدہ دے سکتی ہے؟