قرآن
ﮥ
ﱋ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٤٤ ٤٤ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
٤٥ ٤٥ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ٤٦ ٤٦ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ٤٧ ٤٧ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ٤٨ ٤٨ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٤٩ ٤٩ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٥٠ ٥٠ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٥١ ٥١ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ٥٢ ٥٢ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ٥٣ ٥٣ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٥٤ ٥٤ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ٥٥ ٥٥
أَمۡ تَحۡسَبُ أَنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُونَ أَوۡ يَعۡقِلُونَۚ إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٤
ان کی اکثریت عقلی اور سمعی دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔چند کو چھوڑکر اکثریت کی نفی کی گئی ہے کیونکہ ان کے اکثر گنوار عوام اور مقلدین کی یہی حالت ہے۔ جبکہ ان میں کچھ عقلمند بھی ہیں جو دلیلوں کو سمجھتے ہیں اور کائنات کی نشانیوں سے استدلال بھی کرتے ہیں لیکن ان پر سرداری کی محبت غالب ہے لہذا انہیں یہ گوارا نہیں ہے کہ نبیﷺ کے تابع بن کر دیگر قریش کے کمزورلوگ اور ان کے غلاموں عمار وبلال جیسوں کی صف میں کھڑے ہوجائیں۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۳۷)
سوال:سمعی اور عقلی دلیلوں کے سمجھنے کی نفی سارے مشرکین سے کیوں نہ کی گئی؟
أَمۡ تَحۡسَبُ أَنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُونَ أَوۡ يَعۡقِلُونَۚ إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٤
کیونکہ یہ سننے کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے ہیں جبکہ جانور باز آجاتے ہیں۔یہ اپنے محسن کا شکریہ ادا نہیں کرتے جبکہ وہی ان کا کارساز ہے۔ برائی کرنےوالوں سے دور نہیں رہتے جبکہ وہی لوگ ان کے دشمن ہیں۔ یہ نہ ثواب کی رغبت رکھتے ہیں اور نہ عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی گمراہی کے بلند پہاڑوں جیسے سایوں کے ذریعہ ان کی عقلوں کے روشن سورج کو ہم نے پردے میں ڈال رکھا ہے۔اگر وہ ایمان لے آئیں تو یہ پردے ہٹ جائیں گے اور ایمان کی کرنیں روشن ہوجائیں گی پھر وہ انوکھے و دقیق معانی ومقاصد کو پہچان لیں گے اور ان پر قدرت کے راز ظاہر ہونے لگیں گے﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ يَهۡدِيهِمۡ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمۡ﴾ (سورۂ یونس: ۹)بیشک جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دئیےان کا رب انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے ہدایت پر رکھے گا۔ (البقاعی: ۱۳؍۳۹۵)
سوال:کفار جانورو ں سے زیادہ گمراہ کیوں ہیں؟
إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٤
وہ چوپایوں سے زیادہ گمراہ ہیں کیونکہ ان کا چرواہا انہیں جب سیدھے راستہ کی طرف بلاتا ہے تو چلے جاتے ہیں اور وہ اپنی ہلاکت کے راستہ کو پہچان کر اس سے بچ جاتے ہیں نیز انجام کے اعتبار سے یہ جانور ان کافروں سے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔ (السعدی؍ ۵۸۴)
سوال:جانور کافروں کے مقابلہ میں زیادہ راہ راست پر ہیں۔ اس کی کیاوجہ ہے؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيۡفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوۡ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنٗا ثُمَّ جَعَلۡنَا ٱلشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيلٗا ٤٥
سائے کو پھیلانا اور اسے سکیڑنا ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعہ دن میں نماز اور دیگر کاموں کے اوقات کی جانکاری ہوتی ہے،وہیں پر سور ج کی شعاؤں اور سائے کے فوائد سے لوگوں اور زمین کے مختلف خطوں کا باری باری مستفید ہونا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ جو لوگ سورج کی شعاؤں میں رہنے کی وجہ سے گرمی محسوس کررہے تھے اب وہ اس کے سایوں سے ٹھنڈک حاصل کرتے ہیں اور جو لوگ اس کے سایوں میں تھے اب وہ اس کے سکڑ جانے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۴۳)
سوال:سائے کے پھیلنے اور سکڑنے میں اللہ کی عظیم نعمت کی وضاحت کریں.
وَلَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٖ نَّذِيرٗا ٥١
ہم نے رسول اللہ ﷺ کو سب کے لئے ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے تاکہ آپ کا مقام بلند ہوجائے۔چنانچہ آپ ﷺ اپنے اوپر اللہ کی نعمت کا شکریہ ادا کریں۔ (القرطبی: ۱۵؍۴۴۹)
سوال:اللہ کے نبیﷺ کو سب کے لئے ڈرانے والا بناکر بھیجاگیا۔اس کی حکمت واضح کریں.
فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَجَٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادٗا كَبِيرٗا ٥٢
اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ سب سے بڑا جہاد علماء کا جہاد ہے جو دین کے دشمنوں پر دلیلیں پیش کرتے ہیں۔اور قرآن کے ذریعہ جہاد کرنے والے علماء کا مقام اور حصہ سب سے بڑا ہے۔ (الوسی: ۱۰؍۳۳)
سوال:قرآن کے ذریعہ جہاد کیسے ہوگا؟
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمۡ وَلَا يَضُرُّهُمۡۗ وَكَانَ ٱلۡكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِۦ ظَهِيرٗا ٥٥
یہاں نقصان کی نفی، نفع کی نفی کے بعد کی گئی ہے اس بات پر تنبیہ کے لئے تاکہ بتوں کے پجاریوں کو اپنے شرک کے بارے میں کوئی شبہ نہ رہ جائے کیونکہ کسی کی پوجا یا تو نفع کی امید میں کی جاتی ہے یا اس کے نقصان سے بچنے کے لئے اور یہ دونوں چیزیں بتوں میں نہیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ مشاہدہ ہے۔ (ابن عاشور: ۱۹)
سوال:ہمیں قبروں اور درگاہوں کی پوجا کرنے سے کیوں روکا گیا ہے؟