قرآن
ﮤ
ﱊ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ٥٤ ٥٤ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ٥٥ ٥٥
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ٥٦ ٥٦ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ٥٧ ٥٧ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٥٨ ٥٨
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيۡكُم مَّا حُمِّلۡتُمۡۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهۡتَدُواْۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ٥٤
(وعليكم ما حملتم) والے دھمکی بھرے جملے کے بعد (وإن تطيعوه تهتدوا) کا جملہ لانا دراصل اطاعت کے کاموں کی طرف رغبت دلانا مقصود ہے۔
(ابن عاشور: ۱۸؍۲۸۱)
سوال:اس آیت کریمہ میں ترغیب وترہیب دونوں موجود ہیں۔ وضاحت کریں.
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيۡكُم مَّا حُمِّلۡتُمۡۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهۡتَدُواْۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ٥٤
یعنی:اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی اپنے قول وعمل کے ذریعہ اطاعت کروگے تو سیدھے راستے کی طرف ہدایت پاجاؤگے؛گویا بغیر اطاعت ِ رسولﷺ کے ہدایت پانے کی کوئی سبیل نہیں ہے اور اس کے بغیر ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ (السعدی؍۵۷۳)
سوال:کیا اطاعت ِرسول ﷺ کے بغیر ہدایت ممکن ہے؟
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنٗاۚ
آیت اس بات پر واضح طور سے دلالت کررہی ہے کہ امت کے خلفاء جیسے ابوبکر،عمر،عثمان،علی، حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے اللہ تعالیٰ راضی ہے کیونکہ انہیں بالکل اس طرح خلیفہ چن لیا تھا جیسے پورے طور پر ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ چنا تھااور ان کے ہاتھ پر مشرق سے مغرب تک تمام شہروں کو فتح نصیب کی اور قیصر وکسریٰ کے دلوں میں ان کا رعب ڈال دیا۔(ابن عاشور: ۱۸؍۲۸۶)
سوال:آیت کریمہ صحابہ کرام کی فضیلت پر کیسے دلالت کرتی ہے؟
وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٥٥
اے مسلمانو کی جماعت! ہر طرح کی طاقت وقدرت تمہارے ہی لئے زیب ہے (فأولئك هم الفاسقون) جو لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل گئے اور زمین میں فساد برپاکیا نہ وہ کسی خیر کے لائق ہیں اور نہ ان کے اندر خیر وبھلائی کی کوئی اہلیت ہے کیونکہ جو کوئی اپنے اقتدار،غلبہ اور موانع ِایمان کے عدم ِ وجود کے وقت ایمان کو ترک کردیتا ہے تو یہ چیز اس کے فساد ِنیت اور خبث ِباطن پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کے لئے خبث ِباطن کے سوا ترک دین کا کوئی داعیہ موجود نہیں ہے۔ (السعدی؍۵۷۳)
سوال:قدرت وطاقت کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں کو فسق وفجور سے کیوں متصف کیا؟
وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ٥٦
اللہ تبارک وتعالیٰ نے نماز کو قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ دوعبادتیں سب سے زیادہ جلیل القدر عبادات ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد یعنی معبود کے ساتھ اخلاص اور بندوں کے ساتھ احسان کو جامع ہیں،پھر اس حکم پر عطف کے ساتھ عام حکم دیا،فرمایا: (وأطيعوا الرسول) رسول ﷺ کی اطاعت کرو(لعلكم) شایدجب تم ان امور کا خیال رکھوگے (ترحمون) تو تم پر رحم کیا جائیگا۔اب جو کوئی رحمت کا طلبگار ہے تو اس کے حصول کا یہی طریقہ ہے اور جو بھی نماز و زکاۃ کی ادائیگی او ر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بغیر رحمت کی امید رکھتا ہے تو اس کی تمنائیں جھوٹی ہیں اور وہ جھوٹی آرزوؤں میں گرفتار ہے۔ (السعدی؍۵۷۳)
سوال:ان تمام احکامات میں سے جن میں اطاعت رسول ﷺ واجب ہوتی ہے صرف نماز اور زکاۃ کو بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا ہے؟اور اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو نماز وزکاۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرے،اللہ کی نافرمانی کرے اور اس کی رحمت کی تمنا بھی کرے؟
لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٥٧
آیت میں (في الأرض)کو (مُعْجِزِيْنَ)کے لئے بطور ظرف لایا گیا ہے تاکہ عاجز نہ کرسکنے کا معاملہ زمین کے تمام اجزاء کو شامل ہوجائے۔یعنی آپ ایسا بالکل نہ سمجھیں کہ یہ کافر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردیں گے۔یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئیں گے اور خواہ وہ زمین کے کسی بھی خطہ میں رہیں اور کہیں بھی بھاگ کر جائیں اللہ انہیں ضرور ہلاک کریگا۔ (الوسی: ۹؍۳۹۸)
سوال:آیت کریمہ میں (في الأرض) جملہ کا کیا فائدہ ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِيَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِينَ مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَبۡلُغُواْ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَٰثَ مَرَّٰتٖۚ
آیت میں ان تین اوقات کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ یہ اوقات خلوت ہیں نیز کپڑے اتار کر سونے کے اوقات ہیں۔لہذا ہوسکتا ہے کہ ان اوقات میں انسان ایسی حالت میں ہوکہ اسے یہ پسند نہ آئے کہ اُسے کوئی اُس حالت میں دیکھے۔ (القرطبی: ۱۵؍۳۱۳)
سوال:خصوصی طور پر ان تین اوقات میں اجازت لینے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟