قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٧ ٣٧


٣٨ ٣٨

ﭿ
٣٩ ٣٩



٤٠ ٤٠


٤١ ٤١

٤٢ ٤٢

ﯿ

٤٣ ٤٣
355
سورۃ النور آیات 0 - 37

رِجَالٞ لَّا تُلۡهِيهِمۡ تِجَٰرَةٞ وَلَا بَيۡعٌ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ

(رجال)اس لفظ سے ان کی اولوالعزمی اور بلند ہمتی کا پتہ چلتا ہے جن کی وجہ سے یہ ان مساجد کو آبادکرتے ہیں جو اِس سرزمین پر اللہ کا گھر، نیز اس کی عبادت،اس کا شکر بجالانے،اسے ایک جاننے اور اسے پاک کرنے کی جگہیں بھی ہیں۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۸۴)
سوال:مسجدوں کو آباد کرنے والوں کو ”رجال“ یعنی مرد کہنے سے کیا فائدہ ہے؟

سورۃ النور آیات 0 - 37

رِجَالٞ لَّا تُلۡهِيهِمۡ تِجَٰرَةٞ وَلَا بَيۡعٌ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَإِقَامِ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءِ ٱلزَّكَوٰةِ

اکثر صحابہ کا کہنا ہے کہ یہ آیت کریمہ ان بازاروالوں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ اذان کی آواز سنتے ہیں تو اپنا سارا کاروبار چھوڑکر نماز کے لئے چلے جاتے ہیں۔سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بازار والوں کو نماز کے لئے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان: (لا تلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله) سے مراد لیا ہے۔(القرطبی: ۱۵؍۲۸۶)
سوال:ان لوگوں کی کیا صفتیں ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تعریف فرمائی ہے؟

سورۃ النور آیات 0 - 37

رِجَالٞ لَّا تُلۡهِيهِمۡ تِجَٰرَةٞ وَلَا بَيۡعٌ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَإِقَامِ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءِ ٱلزَّكَوٰةِ يَخَافُونَ يَوۡمٗا تَتَقَلَّبُ فِيهِ ٱلۡقُلُوبُ وَٱلۡأَبۡصَٰرُ ٣٧

چونکہ اکثر لوگوں کے لئے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،مختلف قسموں کی تجارت کے ذریعہ کمانے کی انہیں شدید محبت ہوتی ہے، اکثر حالتوں میں ان چیزوں کا چھوڑدینا ان پر گراں گذرتا ہے اور ان چیزوں پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انہیں بہت تکلیف پہنچتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب کے ذریعہ سے اس کی طرف دعوت دی ہے،چنانچہ فرمایا: (يخافون يومًا تتقلب فيه القلوب والأبصار) وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن ان کے دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ (السعدی؍۵۶۹)
سوال:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (يخافون يومًا تتقلب فيه القلوب والأبصار)کے ذریعہ آیت کو کیوں ختم کیا گیا؟

سورۃ النور آیات 0 - 38

لِيَجۡزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحۡسَنَ مَا عَمِلُواْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٖ ٣٨

اللہ نے نیکیوں پر بدلہ کا ذکر کیا البتہ برائیوں پر بدلہ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ ان پر بھی بدلہ ملے گا،اس کی دووجہیں ہیں۔پہلی وجہ: یہ ترغیب کا مقام ہے، اسی لئے صرف رغبت دلانے پر اکتفا کیا گیا۔دوسری وجہ: دراصل یہ صفت ایسے لوگوں کی ہے جن سے گناہ کبیرہ نہیں ہوتے ہیں چنانچہ ان کے صغیرہ گناہ معاف کردئیے۔ (اس طور پر ان کے پاس گناہ بچے ہی نہیں جن کا تذکرہ ہوتا۔)(القرطبی: ۱۵؍۳۰۴)
سوال:برائیوں کو چھوڑکر صرف نیکیوں پر بدلہ کا ذکر کیوں کیا گیا؟

سورۃ النور آیات 0 - 39

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَسَرَابِۢ بِقِيعَةٖ يَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـٔٗا

کافر گمان کرے گا کہ اس نے عمل کرکے کچھ نیکیاں جمع کرلی ہیں لیکن جب قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا اور حساب وکتاب کے ساتھ اس کے اعمال کا محاسبہ ہوگا تب پتہ چلے گا کہ حقیقت میں اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوا۔کیونکہ اس کے پاس یا تو اخلاص نہیں تھا یا اس نے شریعت کی پابندی نہیں کی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَدِمۡنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُواْ مِنۡ عَمَلٖ فَجَعَلۡنَٰهُ هَبَآءٗ مَّنثُورًا﴾(سورۂ فرقان:۲۳)انہوں نے جو بھی اعمال کئے تھے ہم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر انہیں بکھرا ہوا گردوغبار بنادیا۔(ابن کثیر: ۳؍۲۸۶)
سوال:قیامت کے دن اعمال کے برباد اور مردود ہونے کا کیا سبب ہے؟

سورۃ النور آیات 0 - 39

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَسَرَابِۢ بِقِيعَةٖ يَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـٔٗا

جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کا حال بیان کردیا تو اس کے فوراً بعد کافروں کے اعمال کی دومثالیں بیان کیں۔ان میں سے پہلی مثال آخرت میں ان کے اعمال کی حالت کوبیان کرتی ہے اور یہ کہ انہیں ان اعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہوگابلکہ ان کا اجروثواب ویسے ہی مٹ جائیگا جیسے سراب مٹ جاتاہے۔ “سراب” کہتے ہیں اس چیز کو جو صحراء میں سطح ِ زمین پر دوپہر کے وقت سورج کی تیز روشنی میں دورسے دکھائی دیتی ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سطحِ زمین پربہتا ہوا پانی ہے (ابن جزی: ۲؍۹۴)
سوال:مشرکین بھی عبادت کرتے ہیں لیکن شرک کے ساتھ۔ ایسی صورت میں قیامت کے دن ان کا انجام کیا ہوگا؟

سورۃ النور آیات 0 - 41

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلطَّيۡرُ صَٰٓفَّٰتٖۖ كُلّٞ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهُۥ وَتَسۡبِيحَهُۥۗ

تمام حیوانوں میں سے صرف پرندوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہی آسمان وزمین کے درمیان ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں یہ ان جانداروں کے حکم میں نہیں آئیں گے جو آسمان وزمین میں رہتے ہیں۔(القرطبی: ۳؍۳۰۶)
سوال:آسمان وزمین میں موجود چیزوں کے ذکر کے بعد پرندوں کا خصوصی ذکر کیوں کیا گیا؟