قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢٨ ٢٨


٢٩ ٢٩
ﭿ
٣٠ ٣٠









ﯿ ٣١ ٣١
353
سورۃ النور آیات 0 - 28

وَإِن قِيلَ لَكُمُ ٱرۡجِعُواْ فَٱرۡجِعُواْۖ هُوَ أَزۡكَىٰ لَكُمۡۚ

قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے کہا:میں نے اپنی پوری زندگی میں اس آیت پر عمل کرنا چاہالیکن کوئی موقع نہ ملا کہ اپنے کسی دوست کے گھر جانے کی صورت میں اجازت لینے پر وہ مجھ سے کہتاکہ لوٹ جاؤ اورمیں خوشی خوشی لوٹ جاتا اس آیت کی روشنی میں: (وإن قيل لكم ارجعوا فارجعوا هو أزكى لكم) یعنی:اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ یہی تمہارے لئے پاکیزگی کا سبب ہے۔ (الطبری: ۱۹؍۱۵۰)
سوال:اگر آپ کسی کے یہاں جانے کی اجازت مانگیں اور آپ سے کہا جائے کہ واپس جائیں تو آپ کو کیسا لگے گا؟

سورۃ النور آیات 0 - 30

قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ

آنکھ دل کی طرف بہت بڑا دروازہ ہے اور محسوس چیزوں کو اس تک پہنچانے کے لئے یہ سب سے زیادہ سرگرم رہتی ہے اور اسی وجہ سے اس سے غلطیاں بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں جس سے محتاط رہنا بہت ضروری ہے اور تمام محرمات سے آنکھ کا جھکانا واجب ہے۔نیز ہر اس چیز سے آنکھوں کا نیچی کرنا ضروری ہے جس سے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ (القرطبی: ۱۵؍۲۰۳)
سوال:آنکھ کی اہمیت اور اس کے خطرے کی سنگینی کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النور آیات 0 - 30

قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ

جو اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑدیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر بدلہ عطاکرتا ہے اور جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام پر پڑنے سے بچائے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی بصیرت کو روشن کردیتا ہے۔نیز اگر بندہ اپنی شرم گاہ اور نظر کو حرام اور اس کے مقدمات میں پڑنے سے بچاسکتا ہے باوجود یہ کہ شہوت کا داعیہ پوری طرح موجود ہو تو وہ دوسرے حرام میں پڑنے سے اپنے آپ کو زیادہ بچا سکتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں حفاظت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پس اگر حفاظت کرنے والا کسی محفوظ چیز کی حفاظت و نگرانی کی کوشش نہیں کرتا نیز ان اسباب کو بروئے کارنہیں لاتا جو اس کی حفاظت کے لئے ضروری ہیں تو وہ چیز محفوظ نہیں رہ سکتی۔اسی طرح نظر اور شرم گاہ کا معاملہ ہے کہ اگر بندہ ان کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتا ہے تو وہ اس کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈال دیتی ہیں۔(السعدی؍۵۶۶)
سوال:نگاہ نیچی رکھنے کے دوفائدے ذکر کیجئے.

سورۃ النور آیات 0 - 31

وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ

زیب وزینت کوظاہر کرنے سے منع کردیا گیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جب زیب وزینت پر نگاہ ڈالنے سے روک دیا گیا کیونکہ یہ بدن کے ان مقامات پرہوتے ہیں تو بذات خود ان جگہوں کو دیکھنا بدرجہ اولیٰ منع ہوگا اور اس کی حرمت اور بڑھ کر ہوگی۔نیز یہ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ عورتیں پردے کے معاملہ میں زیادہ محتاط رہیں اور بے پردگی کے معاملہ میں اللہ سے ڈریں۔ (آلوسی: ۹؍۳۳۵)
سوال:زیب وزینت کو ظاہر کرنے سے روکا گیا ہے۔اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟

سورۃ النور آیات 0 - 31

وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ

ان جیسی آیتوں سے“سدِّ ذرائع” والا قاعدہ بنایا گیا ہے کہ کوئی چیز گرچہ جائز ہو لیکن وہ کسی حرام تک پہنچاتی ہویا اس کی وجہ سے حرام میں واقع ہونے کا خوف ہو۔ تو وہ ممنوع ہوگی چنانچہ زمین پر پیر مارنااصلاًجائز ہے لیکن چونکہ یہی چیز عورت کی زیب وزینت کے پتہ چلنے کا سبب ہے اس لئے اس کے لئے ممنوع ہے۔ (السعدی؍۵۶۷)
سوال:اس آیت سے کس اصولی قاعدے کا پتہ چلتا ہے؟

سورۃ النور آیات 0 - 31

وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣١

کتاب وسنت اور اجماع ِامت کی روشنی میں ہر مکلف مومن پر توبہ واجب ہے اور اس کے تین فرائض ہیں: 1۔گناہوں پر شرمندہ ہو اس طورپر کہ اس نے رب ذوالجلال کی نافرمانی کی ہے،ناکہ اس طورپر کہ اسے بدنی یا مالی نقصان ہوا ہے۔2۔ بلاتاخیر وسستی کے جس قدر جلد ممکن ہوسکے گناہوں کو بالکل چھوڑدے۔ 3۔ اس بات کا پختہ عزم کرے کہ دوبارہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کریگا۔
اور توبہ کے تین آداب بھی ہیں: 1۔تواضع اور انکساری کے ساتھ گناہوں کا اعتراف کرے۔2۔ زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرے اور اللہ کے سامنے روئے اور گڑگڑائے۔3۔ پچھلے گناہوں کو مٹانے کے لئے زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا کام کرے۔(ابن جزی: ۲؍۹۰)
سوال:توبہ کے فرائض بیان کیجئے اور اللہ کے نبی یونس علیہ السلام کی دعا کی روشنی میں اللہ کے سامنے اعتراف ِگناہ کے طریقے اور اس کے ادب کی کوئی مثال پیش کیجئے.

سورۃ النور آیات 0 - 31

وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣١

توبہ کی ترغیب دلانے والی چیزیں سات ہیں: 1۔ سزا کا خوف، 2۔ثواب کی امید،3۔ حساب وکتاب سے شرمندگی، 4۔محبوب کی محبت، 5۔ قریب اور نگرانی کرنے والےاللہ کی نگرانی، 6۔ رب کے سامنے کھڑے ہونے کی کی عظمت،7۔ نعمتوں کا شکریہ۔ (ابن جزی: ۲؍90)
سوال:وہ کون سی چیزیں ہیں جو توبہ پر ابھارتی ہیں؟