قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٦٠ ٦٠
٦١ ٦١


٦٢ ٦٢

ﭿ ٦٣ ٦٣

٦٤ ٦٤
٦٥ ٦٥
٦٦ ٦٦

٦٧ ٦٧

٦٨ ٦٨

٦٩ ٦٩

٧٠ ٧٠


٧١ ٧١

٧٢ ٧٢
ﯿ ٧٣ ٧٣
٧٤ ٧٤
346
سورۃ المؤمنون آیات 0 - 60

وَٱلَّذِينَ يُؤۡتُونَ مَآ ءَاتَواْ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ ٦٠

ظاہری اعمال کی قدروقیمت قلبی اعمال یعنی ایمان کی وجہ سے کم و بیش ہوتی ہے حالانکہ قلبی اعمال میں بھی تفاضل یعنی کمی بیشی پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دلوں کے اندر جو ایمان ہوتا ہے اس کی مقدار اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔ (ابن تیمیہ:۴؍۴۶۱)
سوال:آیت کریمہ سے دوفائدے نکالئے.

سورۃ المؤمنون آیات 61 - 62

أُوْلَٰٓئِكَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَهُمۡ لَهَا سَٰبِقُونَ ٦١ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ

جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور آگے بڑھنے کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہوسکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو اُن کی طاقت سے باہریا بہت مشکل ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دے دی کہ وہ ہر نفس کو اتنا ہی مکلف بناتا ہے جتنا اس کے بس میں ہوتا ہے۔ (السعدی؍۵۵۴)
سوال:نیکیوں میں آگے بڑھنا تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔آیت کریمہ نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا ہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 66

قَدۡ كَانَتۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَكُنتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ تَنكِصُونَ ٦٦

(فكنتم على أعقابكم تنكصون) یعنی: تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے۔ کیونکہ وہ قرآن کی اتباع کرکے آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پر جااترتے ہیں۔ (السعدی؍۵۵۵)
سوال:آیت کریمہ میں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ شریعت کو نافذ کرنا اور اسے فیصل ماننا ہی ترقی کرنے اور آگے بڑھنے میں بے مثال نمونہ اور آئیڈیل ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 68

أَفَلَمۡ يَدَّبَّرُواْ ٱلۡقَوۡلَ

یعنی: اگر وہ لوگ قرآن کریم میں غوروفکر کرتے اور اسے سمجھتے تو اللہ کی قسم اس میں اللہ کی نافرمانی سے روکنے والی ڈانٹ پھٹکار بھری نصیحت اور عبرت پاتے لیکن وہ قرآن کی انہی آیتوں کے پیچھے پڑے جو متشابہ تھیں یعنی ان کا معنی غیر واضح تھا اسی لئے وہ ہلاک وبرباد ہوگئے۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۴۲)
سوال:انہیں قرآن پاک میں غوروفکر کرنے پر ابھارنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 69

أَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُواْ رَسُولَهُمۡ فَهُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٦٩

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا انہوں نے محمد ﷺ کو آپ کے بچپن اور جوانی میں نہیں پہچانا تھا اور کیا انہوں نے آپ کے حسب ونسب، آپ کی سچائی، آپ کی امانتداری اور وفاداری کو نہیں جانا تھا! یہ دراصل سخت تنبیہ اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن لوگوں نے نبی ﷺ کی سچائی اور امانتداری کو جاننے کے باوجود آپ سے منہ پھیرلیا تھا۔ (البغوی: ۳؍۲۵۲)
سوال:نبی ﷺ کی سیرت کو پڑھنے اور آپ کے اخلاق کو سیکھنے کی اہمیت واضح کیجئے.

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 70

أَمۡ يَقُولُونَ بِهِۦ جِنَّةُۢۚ بَلۡ جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ وَأَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كَٰرِهُونَ ٧٠

حق کو ناپسند کرنے کی نسبت اکثر لوگوں کی طرف کی گئی ہے تمام لوگوں کی طرف نہیں۔ان میں سے بعض ان عقلمندوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے جو شرک کے باطل ہونے کو جانتے تھے اور حق کی طرف ان کا میلان تھا پھر بھی وہ قوم کے سرکش لوگو ں کے پیچھے لگے ہوئے تھے بظاہر انہیں دکھانے کے واسطے اور اپنی عزت وآبرو بچانے کی خاطر۔ (ابن عاشور: ۱۸؍۹۱)
سوال:حق کی ناپسندیدگی کی نسبت تمام لوگوں کی طرف نہ کرکے اکثر لوگوں کی طرف کیوں کی گئی؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 71

وَلَوِ ٱتَّبَعَ ٱلۡحَقُّ أَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهِنَّۚ بَلۡ أَتَيۡنَٰهُم بِذِكۡرِهِمۡ فَهُمۡ عَن ذِكۡرِهِم مُّعۡرِضُونَ ٧١

حق اگر لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتا اور اس کی اتباع کرتا جو لوگ چاہتے ہیں تو کائنات کا نظام بگڑ جاتا کیونکہ لوگوں کی خواہشات مختلف اور متضاد ہیں۔ حالانکہ حق کا راستہ ہی قابل اتباع ہے اور لوگوں کی کامیابی راہ حق کی پیروی میں ہے۔ (القرطبی: ۱۵؍۷۲)
سوال:آزادی کی کچھ حدیں ہیں اگر ان حدوں کو ختم کردیا جائے تو کیا پیش آئے گا؟